Posts

Showing posts from December, 2025

پی ایس ایل میں توسیع: بڑھتی ہوئی مقبولیت یا نئے چیلنجز؟

Image
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے لیے دو نئی فرنچائزز کے حصول میں 12 سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو لیگ کی تجارتی کشش کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔ لندن اور نیویارک میں روڈ شوز کے انعقاد اور مختلف براعظموں سے موصول ہونے والی بولیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پی ایس ایل اب محض ایک قومی ایونٹ نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر بھی پہچان بنا چکا ہے۔ اس پیش رفت کو کرکٹ کے شعبے میں پاکستان کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کھیل اور معیشت کا باہمی تعلق مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ تاہم، پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن میں دو نئی ٹیموں کی شمولیت انتظامی اور فنی سطح پر کچھ سوالات بھی جنم دیتی ہے۔ ٹورنامنٹ کا دورانیہ، کھلاڑیوں کی دستیابی اور مسابقتی توازن جیسے عوامل اس توسیع سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ پی سی بی شفاف اور مسابقتی بولی کے عمل کا یقین دلا رہا ہے، لیکن نئی فرنچائزز کی کامیابی کا انحصار صرف سرمایہ کاری پر نہیں بلکہ مضبوط انتظام، مقامی شمولیت اور کھیل کے معیار کو برقرار رکھنے پر بھی ہوگا۔ مجموعی طور پر، پی ایس ایل کی توسیع کو ایک موقع اور ایک امتحان...

خودمختاری، تعلیم اور کردار سازی: بلاول بھٹو کا بیانیہ

Image
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ خطاب میں قومی خودمختاری اور عالمی سطح پر پاکستان کے کردار پر زور نمایاں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آج ایک واضح اور پہچانی جانے والی پوزیشن رکھتا ہے اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کی صلاحیت جانتا ہے۔ یہ مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے اور عالمی سیاست میں غیر یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے، اور سیاسی قیادت کی جانب سے اعتماد کا اظہار عوامی بیانیے کو مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ کیڈٹ کالج پٹارو میں والدین کے دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے تعلیمی اداروں، خصوصاً کیڈٹ کالجز، کے کردار کو اجاگر کیا۔ ان کے مطابق نظم و ضبط کو سزا کے بجائے آزادی کی ایک صورت سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہی عمل نوجوانوں میں ذمہ داری اور خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے نوجوانوں کو قومی مستقبل قرار دیا، تاہم یہ سوال بھی برقرار رہتا ہے کہ تعلیمی اصلاحات کو بیانات سے آگے عملی سطح پر کس حد تک نافذ کیا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے سندھ کو پاکستان کا دل قرار دیتے ہوئے قومی تقاضوں پر ق...

پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان خوردنی تیل کے شعبے میں تعاون کی اہمیت

Image
انڈونیشیا کے قونصل جنرل مدزاکر ایم اے کی جانب سے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دوطرفہ تعاون، خصوصاً خوردنی تیل کے شعبے میں شراکت داری پر زور دینا، موجودہ معاشی حقائق کے تناظر میں ایک بروقت مؤقف سمجھا جا سکتا ہے۔ پاکستان اپنی خوردنی تیل کی ضروریات کے لیے بڑے پیمانے پر درآمدات پر انحصار کرتا ہے، جبکہ انڈونیشیا پام آئل کی پیداوار اور پراسیسنگ میں عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری نہ صرف سپلائی چین کو مستحکم کر سکتی ہے بلکہ طویل المدتی پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ کراچی میں انڈونیشین قونصلیٹ میں پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ عمر ریحان سے ملاقات کے دوران تکنیکی معاونت، تربیتی پروگراموں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی جیسے امور پر بات چیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تعاون کو محض تجارت تک محدود رکھنے کے بجائے مہارت کے تبادلے تک وسعت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگرچہ ایسے اقدامات فوری نتائج کے بجائے بتدریج اثرات مرتب کرتے ہیں، تاہم زرعی اور صنعتی شعبوں میں مہارت کا اشتراک مستقبل میں دونوں معیشت...

انڈر 19 ٹیم کی کامیابی اور مستقبل کی جھلک

Image
پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کا متحدہ عرب امارات کے خلاف 70 رنز سے کامیابی کے ساتھ اے سی سی مینز ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں پہنچنا ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ دبئی میں کھیلے گئے اس میچ میں بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں متوازن کارکردگی دیکھنے کو ملی، جو نوجوان کھلاڑیوں کے اعتماد اور تیاری کی عکاسی کرتی ہے۔ گروپ مرحلے میں دو فتوحات کے بعد سیمی فائنل تک رسائی اس بات کا اشارہ ہے کہ ٹیم دباؤ میں کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بیٹنگ کے شعبے میں احمد حسین، سمیر منہاس اور وکٹ کیپر حمزہ کی اننگز نے ٹیم کو ایک قابلِ دفاع مجموعے تک پہنچایا۔ اگرچہ 241 رنز کا اسکور غیر معمولی نہیں تھا، لیکن بولرز نے اسے مؤثر انداز میں محفوظ رکھا۔ خاص طور پر عبدالصبحان کی چار وکٹیں میچ کا اہم موڑ ثابت ہوئیں، جس سے یہ تاثر ملا کہ پاکستان کی نوجوان ٹیم میں فاسٹ بولنگ کی روایت اب بھی برقرار ہے، جبکہ اسپنرز کی معاونت نے مجموعی کارکردگی کو مزید مضبوط بنایا۔ تاہم، سیمی فائنل مرحلہ ٹیم کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا، جہاں مضبوط حریف کے خلاف مستقل مزاجی اور غلطیوں سے گریز ناگزیر ہوگا۔ اس ٹورنامنٹ میں ایسی کارکردگیاں نہ صرف...

خواتین کرکٹ اور رسائی کا سوال: پلے بورڈ پہل کا تناظر

Image
پاکستان کرکٹ بورڈ اور پیپسی کے اشتراک سے شروع کی گئی پلے بورڈ پہل کو خواتین کرکٹ میں نچلی سطح پر شمولیت بڑھانے کی ایک عملی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت منتخب آؤٹ ڈور بل بورڈز کو ایسے پلے بورڈز میں تبدیل کیا گیا ہے جہاں سے نوجوان لڑکیاں کرکٹ کا سامان حاصل کر کے کھیل یا پریکٹس کر سکتی ہیں اور بعد ازاں اسے کمیونٹی کے دیگر افراد کے لیے واپس کر دیتی ہیں۔ یہ تصور محدود وسائل کے مسئلے کو اجتماعی استعمال کے ذریعے حل کرنے کی سمت اشارہ کرتا ہے۔ خواتین کرکٹ میں داخلے کی سطح پر ساز و سامان تک رسائی ایک دیرینہ رکاوٹ رہی ہے، اور اس اقدام کو اسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ پی سی بی ویمنز کرکٹ کی قیادت کے مطابق اعتماد کی بنیاد صحیح سہولیات سے جڑی ہوتی ہے، جبکہ کھیل کی نمائش اور عوامی موجودگی نئے کھلاڑیوں کو آگے آنے کا حوصلہ دے سکتی ہے۔ اس پہل کے ذریعے کھلے اور مشترکہ مقامات پر خواتین کا کھیلنا زیادہ معمول کی بات بنانے کی کوشش بھی نمایاں ہے۔ کارپوریٹ شراکت داری کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ پروگرام شمولیت اور برابری کے بیانیے کو عملی شکل دینے کی ایک مثال بنتا ہے۔ پی سی...

غزہ اسٹیبلائزیشن فورس اور پاکستان: دباؤ، امکانات اور داخلی چیلنجز

Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے مجوزہ اسٹیبلائزیشن فورس میں پاکستان کی شمولیت پر زور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطہ پہلے ہی شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جنگ کے بعد کے حالات میں نظم و نسق اور تعمیرِ نو بتلایا جا رہا ہے، مگر متعدد ممالک، خصوصاً مسلم دنیا میں، اسے ایک متنازع تجویز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ آیا وہ اس نوعیت کے بین الاقوامی مشن کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ پاکستان کے اندر عوامی سطح پر فلسطین کے مسئلے پر گہری حساسیت پائی جاتی ہے، اور کسی بھی ایسے اقدام کو جو بالواسطہ طور پر اسرائیلی پالیسیوں کی توثیق سمجھا جائے، شدید ردِعمل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق مذہبی اور سیاسی جماعتیں اس معاملے پر خاموش نہیں رہیں گی، جس سے ملک کے پہلے سے نازک سیاسی حالات مزید دباؤ میں آ سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے محتاط بیانات بھی اسی داخلی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ دوسری جانب، امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات، عسکری تعاون اور معاشی مفادات بھی پاکستان کی فیصلہ سازی میں ایک اہم عنصر ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے ...

پاکستان اور ترکی کی تزویراتی شراکت میں نئی پیش رفت۔

Image
پاکستان اور ترکی نے ایک مرتبہ پھر اپنی تزویراتی شراکت کی تجدید کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انقرہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ترکی کا نمایاں مالی ادارہ "زراعت بینک" جلد پاکستان میں اپنی شاخ قائم کرنے کی اجازت حاصل کر لے گا، جس سے تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں ترکی کے صنعتی شہر بورسا کے 15 رکنی اعلیٰ سطحی وفد نے وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان سے ملاقات کی، جس میں مختلف اقتصادی اور صنعتی شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دفاع، کمیونیکیشن، ایرو اسپیس، خوراک، آٹو موبائل اور مینوفیکچرنگ جیسے اہم شعبوں میں تعاون کو بڑھانے پر زور دیا گیا۔ ترک وفد نے بتایا کہ شامل تمام کمپنیاں ملی گم فریگیٹ منصوبے میں نمایاں شراکت رکھتی ہیں، جو دونوں ممالک کے صنعتی اشتراک کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ وفد نے بورسا کے صنعتی کردار کو بھی اجاگر کیا، جسے ترکی کا ایک بڑا پیداواری اور برآمدی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانی وزیر نے اس موقع پر اس بات کو سراہا کہ دونوں ممالک مشکل حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں اور حا...

فخر زمان کا جرمانہ اور کرکٹ نظم و ضبط: ضابطہ اخلاق کی اہمیت کا جائزہ

Image
فخر زمان پر آئی سی سی کی جانب سے 10 فیصد میچ فیس کا جرمانہ اور ایک ڈیمرٹ پوائنٹ کا اضافہ بین الاقوامی کرکٹ میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے وسیع تر نظام کا حصہ ہے۔ 29 نومبر کو سری لنکا کے خلاف سہ فریقی سیریز کے فائنل میں ہونے والا واقعہ کھیل کے دباؤ اور کھلاڑیوں کے جذباتی ردعمل کی ایک عام مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ کھلاڑی امپائر کے فیصلے سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن کرکٹ کے ضابطہ اخلاق میں اس پر واضح پابندیوں کا ہونا کھیل کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ فخر زمان کا بغیر کسی سماعت کے فیصلہ قبول کرنا بھی ایک ایسے رویے کی عکاسی کرتا ہے جسے پیشہ ورانہ کھیل میں ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ ڈیمرٹ پوائنٹس کا نظام ICC نے اس لیے تشکیل دیا ہے کہ کھلاڑیوں کے رویے میں مسلسل بہتری اور ذمہ داری برقرار رہے۔ اگرچہ فخر زمان کا یہ پہلا پوائنٹ ہے، مگر اصول کے تحت چار پوائنٹس ہونے کی صورت میں معطلی کی سزائیں لاگو ہو سکتی ہیں، جو کھلاڑی اور ٹیم دونوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ اس لیے یہ قواعد کھلاڑیوں کو یاد دہانی کراتے ہیں کہ میدان میں جذباتی یا غیر ضروری بحث و تکرار صرف ف...

سفارتی اسناد کی پیشی: پاکستان اور یو اے ای تعلقات میں نیا باب-

Image
ابو ظہبی میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں پاکستان کے نومنتخب سفیر شفقات علی خان نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کو اپنی سفارتی اسناد پیش کیں۔ قصر الوطن کے عظیم الشان ہال میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں یو اے ای کی اعلیٰ قیادت بھی موجود تھی، جن میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان اور صدر کے مشیر شیخ محمد بن حمد بن تحنون النہیان شامل تھے۔ اس موقع پر صدر بن زاید نے پاکستان کے نئے سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون، امن، استحکام اور بین الثقافتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ### **پاکستان کا پیغامِ خیرسگالی اور مضبوط شراکت داری** سفیر شفقات علی خان نے تقریب کے دوران پاکستان کی قیادت کی جانب سے بھائی چارے، خیرسگالی اور احترام کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے یو اے ای کی مسلسل ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ صدر بن زاید نے اس امید کا اظہار کیا کہ سفیر خان کا دورِ سفارت دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی توانائی، تازہ جذبے اور مضبوط عملی تعاون کی جانب لے جائے گا۔ اسناد کی پیشی کے ساتھ ہی شفقات علی خان نے س...

عمران خان کی صحت بہتر، اہلِ خانہ سے ملاقات کے بعد اُزما خان کا بیان-

Image
پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی صحت کے بارے میں گردش کرتی افواہوں کا خاتمہ اُس وقت ہوا جب ان کی بہن اُزما خان نے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد بتایا کہ وہ بالکل خیریت سے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چار ہفتوں بعد انہیں پہلی مرتبہ ملاقات کی اجازت ملی، جس کے لیے وہ حکام کی شکر گزار ہیں۔ تاہم انہوں نے اس پابندی پر تشویش کا اظہار کیا کہ عمران خان کو ہفتوں تک اہلِ خانہ اور پارٹی قیادت سے ملنے نہیں دیا گیا۔ **ملاقاتوں پر پابندی اور قانونی کارروائی کا مطالبہ** اُزما خان نے مزید بتایا کہ سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی کو بھی تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، جو اہلِ خانہ کے لیے پریشانی کا سبب ہے۔ انہوں نے بار کونسل انتخابات میں امیدواروں کے انتخاب سمیت بعض قانونی و سیاسی امور کا ذکر کیا اور مطالبہ کیا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر کی بطور قائدِ حزبِ اختلاف تقرریوں کے نوٹیفکیشنز جاری کیے جائیں۔ ان کے مطابق عمران خان کی جماعت کے ساتھ قانون کا رویہ مختلف ہے، جس پر پارٹی بارہا احتجاج کر چکی ہے۔ **ملاقاتوں کی اجازت اور کشیدگی میں اضافہ** عمران خان کے اہلِ خانہ اور پارٹی ...