پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان خوردنی تیل کے شعبے میں تعاون کی اہمیت
انڈونیشیا کے قونصل جنرل مدزاکر ایم اے کی جانب سے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دوطرفہ تعاون، خصوصاً خوردنی تیل کے شعبے میں شراکت داری پر زور دینا، موجودہ معاشی حقائق کے تناظر میں ایک بروقت مؤقف سمجھا جا سکتا ہے۔ پاکستان اپنی خوردنی تیل کی ضروریات کے لیے بڑے پیمانے پر درآمدات پر انحصار کرتا ہے، جبکہ انڈونیشیا پام آئل کی پیداوار اور پراسیسنگ میں عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری نہ صرف سپلائی چین کو مستحکم کر سکتی ہے بلکہ طویل المدتی پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
کراچی میں انڈونیشین قونصلیٹ میں پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ عمر ریحان سے ملاقات کے دوران تکنیکی معاونت، تربیتی پروگراموں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی جیسے امور پر بات چیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تعاون کو محض تجارت تک محدود رکھنے کے بجائے مہارت کے تبادلے تک وسعت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگرچہ ایسے اقدامات فوری نتائج کے بجائے بتدریج اثرات مرتب کرتے ہیں، تاہم زرعی اور صنعتی شعبوں میں مہارت کا اشتراک مستقبل میں دونوں معیشتوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
ملاقات کے دوران دیگر شرکاء کی جانب سے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دینا اس امر کی علامت ہے کہ دوطرفہ تعلقات میں وسعت کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم اس طرح کے تعاون کی کامیابی کا انحصار پالیسی تسلسل، نجی شعبے کی شمولیت اور عملی اقدامات پر ہوگا۔ مجموعی طور پر، خوردنی تیل کے شعبے میں پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان بڑھتا ہوا رابطہ ایک متوازن معاشی حکمتِ عملی کا حصہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے طویل المدتی وژن اور باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
Comments
Post a Comment