ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: سیاست، کرکٹ اور مفاہمت کے بیچ توازن
آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ کے گرد پیدا ہونے والا حالیہ بحران ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عالمی کھیل، خاص طور پر کرکٹ، اکثر کھیل سے آگے بڑھ کر سیاسی اور سفارتی تناؤ کی زد میں آ جاتا ہے۔ پاکستان کو ابتدا میں اپنی حکومت کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کی ہدایت دی گئی تھی، جو نہ صرف کھیل کے تسلسل بلکہ آئی سی سی کے اربوں پاؤنڈ کے براڈکاسٹ معاہدے کے لیے بھی خطرہ بن سکتی تھی۔ اس تمام صورتحال کی جڑ بنگلہ دیش کا وہ فیصلہ تھا جس میں اس نے سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت میں میچ کھیلنے سے انکار کیا اور ٹورنامنٹ سے دستبردار ہو گیا، جس کے بعد اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو دی گئی۔ یہ معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا۔ تاہم حالیہ دنوں میں لاہور میں آئی سی سی، پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان ہونے والے مذاکرات، اور شریک میزبان سری لنکا کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں تعطل ٹوٹ گیا۔ معاہدے کے تحت بنگلہ دیش کو دستبرداری پر کسی تادیبی کارروا...