آفات کے بعد بحالی کی طرف: متحدہ عرب امارات کا انسانی امدادی نیٹ ورک
جب فلپائن میں ۷.۸ شدت کا زلزلہ آیا تو بین الاقوامی برادری کو ردعمل دینے میں دنوں لگ گئے، لیکن متحدہ عرب امارات کی عالمی انسانی امداد گھنٹوں میں پہنچ گئی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی کارروائی کے پیچھے کون سا نظام کام کرتا ہے؟ اور کیا یہ امداد صرف ہنگامی ریلیف تک محدود ہے یا اس کے بعد بھی کچھ ہوتا ہے؟ پس منظر: شیخ زاید کا ورثہ متحدہ عرب امارات کی امداد صرف ہنگامی ریلیف تک محدود ہے یا طویل مدتی بحالی بھی شامل ہے؟ اس سوال کا جواب متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ زاید بن سلطان النہیان کے الفاظ میں ملتا ہے: "ہمارے پاس جو دولت ہے اس کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں جب تک کہ وہ ضرورت مندوں تک نہ پہنچے، خواہ وہ کہیں بھی ہوں اور ان کا تعلق کسی بھی قوم یا مذہب سے ہو" ۔ یہی فلسفہ آج بھی متحدہ عرب امارات کی انسانی امدادی پالیسی کی بنیاد ہے۔ تجزیہ: دبئی ہیومینیٹیرین — دنیا کا سب سے بڑا امدادی مرکز دبئی ہیومینیٹیرین حب دنیا کا سب سے بڑا لاجسٹک مرکز کیسے کام کرتا ہے؟ یہ مرکز ۲۰۰۳ میں شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کے حکم پر قائم کیا گیا تھا اور آج یہ دنیا کا واحد غیر منافع بخش، آزاد انسانی امدادی آزا...