عمران خان کی صحت، سیاست اور ریاستی ذمہ داری: ایک حساس معاملہ
پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی صحت ایک بار پھر سیاسی اور آئینی بحث کا مرکز بن گئی ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن کے بیانیے آمنے سامنے نظر آتے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے ذاتی معالجین تک رسائی کے مطالبے کو بنیادی انسانی حق اور طبی اخلاقیات سے جوڑا جا رہا ہے، جبکہ حکومت اس موقف پر قائم ہے کہ سابق وزیرِاعظم کو جیل میں رہتے ہوئے مناسب اور معیاری طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ ایسے میں اصل مسئلہ صرف علاج کی نوعیت نہیں بلکہ شفافیت، اعتماد اور ادارہ جاتی ساکھ کا بھی ہے، کیونکہ عمران خان ایک سیاسی رہنما ہی نہیں بلکہ ایک نمایاں عوامی شخصیت ہیں، جن کی صحت سے متعلق ہر خبر فطری طور پر قومی توجہ حاصل کرتی ہے۔ حکومت کی جانب سے پمز جیسے بڑے سرکاری اسپتال میں علاج اور طبی ماہرین کی تصدیق اس دعوے کو تقویت دیتی ہے کہ طبی نگہداشت میں غفلت نہیں برتی جا رہی۔ دوسری طرف، اپوزیشن اور پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ذاتی معالجین کو نظر انداز کرنا اور خاندان کو بروقت آگاہ نہ کرنا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ اس تناظر میں سوال یہ نہیں کہ سرکاری اسپتال قابلِ اعتماد ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا ایک قیدی، خواہ وہ کتن...