ایران میں معاشی بحران: طبی شعبے سے توانائی کی منڈیوں تک
ایران کا معاشی بحران اب صرف مہنگائی اور بیروزگاری تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے طبی شعبے کو تباہ کر دیا ہے اور عالمی توانائی کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران میں طبی عملے کے احتجاجات نے اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ معاشی مشکلات اب طبی پیشے کو بھی تباہ کر رہی ہیں اور یورپ میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یورپ اس بحران کو روکنے کے لیے کوئی کردار ادا کر سکتا ہے؟ پس منظر: ایران میں مہنگائی کی بدترین شرح ایران کا مرکزی بینک تسلیم کرتا ہے کہ مئی ۲۰۲۶ میں سالانہ افراط زر کی شرح ۷۷.۲ فیصد تک پہنچ گئی، جو ۱۹۴۲ کے بعد ایران میں مہنگائی کی بدترین شرح ہے ۔ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں خوردنی تیل ۴۳۰ فیصد، انڈے ۳۴۵ فیصد، چاول ۲۸۷ فیصد، اور دودھ ۱۳۹ فیصد مہنگا ہو گیا ۔ ایک ماہانہ اجرت صرف ۸۸ ڈالر ہے، جو اس مہنگائی میں کسی بھی خاندان کو انتہائی غربت میں دھکیل دیتی ہے ۔ ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ تجزیہ: طبی عملے پر کریک ڈاؤن اور عالمی ردعمل مارچ ۲۰۲۶ میں تہران کے گاندھی ہسپتال پر امریکی-اسرائیلی حملے کے بعد ۱۰۰ سے زائد طبی عملے نے احتجاج کیا ۔ ایک طب...