یورپ کا نیا مائیگریشن پیکٹ: کیا یورپی یونین خاموشی سے ’آف شور اسائلم زونز‘ تعمیر کر رہی ہے؟
کیا یورپ پناہ کے حقداروں کو باہر ہی روکنے کی تیاری کر رہا ہے؟ فروری ۲۰۲٦ میں یورپی پارلیمان نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے پناہ کے قوانین میں مزید سختی کی راہ ہموار کر دی ہے۔ درحقیقت، یہ صرف ایک معمولی ترمیم نہیں بلکہ یورپ کی نقل مکانی پالیسی کا ایک نیا باب ہے، جسے "یورپ کی نئی نقل مکانی پیکٹ" کے نام سے جانا جا رہا ہے۔ اس پیکٹ کے تحت یورپی یونین نے پہلی بار "محفوظ ممالک" کی ایک مشترکہ فہرست منظور کی ہے اور "محفوظ تیسرے ملک" کے تصور کو اتنا وسیع کر دیا ہے کہ اب پناہ کے متلاشی افراد کو ان ممالک سے کوئی حقیقی تعلق نہ ہونے کے باوجود واپس بھیجا جا سکے گا ۔ محفوظ تیسرا ملک‘ کے تصور میں نئی تبدیلیاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس نئے تصور میں اتنی خاص بات کیا ہے؟ اس سے قبل کسی پناہ گزین کو کسی تیسرے ملک اس وقت بھیجا جا سکتا تھا جب اس کا اس ملک سے کوئی حقیقی تعلق ہو، مثلاً وہ وہاں رہ چکا ہو یا اس کے وہاں رشتہ دار ہوں۔ لیکن اب یہ شرط ختم کر دی گئی ہے۔ یورپی قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے تین نئے راستے نکالے گئے ہیں: پہلا، اگر درخواست گزار یورپ پہنچنے سے پہلے کسی ...