پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں ۱۴ شیر خوار بچے جاں بحق، وزیراعظم کا سخت ایکشن
۲۵ اگست ۲۰۲۶ کی صبح سویرے تقریباً ۶:۴۵ بجے اسلامی آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ماں اور بچے کے ہسپتال کی تیسری منزل پر ایک تباہ کن آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ۔ ذرائع کے مطابق، وارڈ میں نصب ایک ایئرکنڈیشنر میں اچانک دھماکہ ہوا جس سے آگ بھڑک اٹھی ۔ چونکہ اس وارڈ میں نوزائیدہ بچے انکیوبیٹرز اور آکسیجن سپورٹ پر تھے، اس لیے وہاں آکسیجن ٹینک موجود تھے جنہوں نے آگ کو مزید بھڑکا دیا اور آگ پوری عمارت میں تیزی سے پھیل گئی ۔ آتشزدگی اتنی تیز تھی کہ کچھ ہی لمحوں میں شیر خوار بچے شدید جھلس گئے۔ پمز کی ترجمان ڈاکٹر عنیزہ جلیل نے بتایا کہ اس وارڈ میں کل ۱۵ نوزائیدہ بچے موجود تھے جن میں سے ۱۴ بچے شدید جھلسنے کی وجہ سے جاں بحق ہو گئے ۔ ایک بچے کو ایک ڈاکٹر نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچایا ۔ آتشزدگی کی کیا وجہ تھی؟ وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ یہ آتشزدگی ایئرکنڈیشنر میں دھماکے کی وجہ سے ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے سے آگ بھڑکی اور آکسیجن ٹینکوں کی موجودگی نے اسے مزید شدید بنا دیا ۔ فوری طور پر ۶ فائر بریگیڈ گاڑیوں نے آگ پر قابو پایا اور بچوں ک...