مشرق وسطیٰ میں نئی کشیدگی: ترکی کی اسرائیل کوفوجی حملے کی دھمکی
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بڑھتے ہوئے نقشے پر ایک نیا اور اہم باب رقم ہو رہا ہے۔ اردگان کی اسرائیل کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی نے نہ صرف خطے میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ عالمی طاقتوں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی چین کی جانب سے ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی سے متعلق الزامات کی تردید نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان دونوں پیش رفتوں کا براہ راست تعلق مشرق وسطیٰ میں طاقت کے نئے مساوات سے ہے جو آنے والے دنوں میں عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ترکی کا اسرائیل کے خلاف مؤقف: دھمکی یا حقیقت؟ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے حالیہ بیان میں اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری کارروائیاں جاری رہیں تو ترکی فوجی مداخلت کر سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں تباہ کن حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اردگان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ترکی کبھی بھی مظلوم فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور ضرورت پڑنے پر ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ اردگان نے اسرائیل کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی کیوں دی؟ اس سوال کا جواب...