Posts

پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارت کو 'دہشت گردی کا سرپرست' قرار دے دیا

Image
  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قدرتی وسائل کے انتظام پر ہونے والی بحث کے دوران پاکستان نے بھارت پر سخت الزامات عائد کیے ۔ پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری انصار شاہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر کراس بارڈر دہشت گردی کے الزامات "بے بنیاد" ہیں اور یہ نیودہلی کی اپنی دہشت گردی کی سرپرستی کو چھپانے کی کوشش ہے ۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ "بھارت دہشت گردی کا شکار نہیں، بلکہ اس کا سرپرست ہے" ۔ بھارت کو دہشت گردی کا سرپرست کیوں کہا گیا؟ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروپوں کو مالی اور عسکری امداد فراہم کر رہا ہے ۔ انصار شاہ نے کہا کہ بھارت کے دہشت گرد پراکسی گروپس — تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ — نے پاکستان میں ہزاروں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو قتل کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی شمالی امریکہ سمیت بیرونی سرزمین پر ماورائے عدالت ہلاکتوں میں ملوثیت بھی معروف ہے ۔ کیا بھارت واقعی دہشت گردی کو سپانسر کرتا ہے؟ پاکستان کا یہ الزام نیا نہیں بلکہ اس نے ماضی میں بھی بھارت پر ایسے ہی...

پاکستان اور ایران نے انسداد دہشت گردی اور سرحدی سلامتی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کر لیا

Image
  پاکستان اور ایران نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور سرحدی انتظام میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ معاہدہ ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے دورہ پاکستان کے دوران طے پایا، جس میں انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب محسن نقوی کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی۔ دونوں وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ افغان سرحد سے دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔ پاک ایران سرحد پر سکیورٹی کی صورتحال کیسی ہے؟ پاکستان اور ایران کی سرحد تقریباً ۹۰۰کلومیٹر طویل ہے اور دونوں ممالک کو مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سرحد پار سے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی شامل ہیں۔ اس سرحد کو ایران نے "دوستی، بھائی چارے اور سلامتی" کی سرحد قرار دیا ہے۔ دونوں ممالک کے عسکری حکام نے پہلے بھی سرحدی سلامتی کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے، اور اس مشترکہ سرحد کو اقتصادی ترقی اور دوستی کی علامت بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان اور ایران نے انسداد دہشت گردی میں کیسے تعاون بڑھایا ہے؟ دونوں ممالک کے وزیر داخلہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گرد...

Counter-Revolution in Khartoum: Egypt and the Betrayal of Sudan's Revolution

Image
The counter-revolution in Sudan is not solely a domestic affair. Egypt has played a pivotal role in reversing the gains of the 2019 revolution, aligning itself with a military junta determined to preserve its economic privileges and political control. This Egyptian intervention has been framed as support for stability, but evidence suggests it represents a deliberate effort to block democratic transition and maintain a centralized security state. What Is the "Counter-Revolutionary" Narrative? Analysts describe the Egyptian-backed military campaign as an "internationalized counter-revolutionary war" protecting the interests of Sudanese elites and their international partners. The military's 2021 coup—which derailed the civilian-led transitional government—was part of a broader push to preserve military-economic privileges. Egypt's backing of this coup reflected its preference for a centralized security state rather than accountable civilian government. Why Is...

Houthi Consolidation: Did Saudi Policy Upset the Balance in Yemen?

Image
When the Houthis seized Sanaa in 2014, they were a rebel group. But by 2026, they have become a force capable of striking Saudi territory, threatening global shipping in the Red Sea, and establishing direct air links with Iran. The question arises: did Saudi policies provide the Houthis with this power? And is there any political balance left in Yemen now? Background: Saudi Arabia's Conciliatory Policy Under the 2022 truce, Saudi Arabia conducted multiple negotiations with the Houthis. These included prisoner exchange agreements, permission for flights to Houthi-controlled areas, and economic incentives. Saudi Arabia believed these concessions would transform the Houthis into a political party and weaken their ties with Iran. On the contrary, the Houthis used the four years of truce to enhance their military capabilities and deepen relations with Iran. According to Yemeni analysts, Saudi Arabia's "buying time" strategy provided the Houthis with a valuable opportunity...

امریکہ میں بیٹھ کر ایران کو ہتھیار دلوانے والی خاتون: کہانی شمیم مافی کی

Image
سوڈان میں گزشتہ تین سال سے جاری خانہ جنگی نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کر دیا ہے اور ہزاروں کی جان لے لی ہے۔ اس تباہی کے پیچھے ایک بڑا ہاتھ بیرونی ممالک کا ہے جو اسلحہ فراہم کر کے جنگ کو ہوا دیتے ہیں۔ ایرانی اسلحے کی ترسیل نے اس جنگ کی نوعیت کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ جہاں کبھی روایتی ہتھیاروں سے لڑی جانے والی جنگ تھی، وہاں اب ڈرونز اور جدید اسلحے نے شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے ۔ ایرانی ڈرونز نے سوڈان کی جنگ کیسے بدل دی؟ مہاجر-6 ڈرون نے سوڈان میں جنگ کا طریقہ کار مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ یہ ڈرون نہ صرف جاسوسی کرتے ہیں بلکہ حملے بھی کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب فضائی حملے زیادہ درستگی کے ساتھ کیے جا سکتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ان کا دائرہ بھی وسیع ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایرانی ڈرونز نے سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) کو ایک اہم فوجی برتری دی ہے۔ فروری ۲۰۲۴ میں ایس اے ایف نے عمران شہر میں ایک جارحانہ کارروائی کی جس میں ان ڈرونز نے کلیدی کردار ادا کیا ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ ختم ہونے کے قریب ہے۔ اس کے برعکس، جدید ہتھیاروں کی آمد نے جنگ کو مزید طویل اور پیچیدہ ب...

صومالی فوج کی تعمیر یا علاقائی ایجنڈا؟ سعودی تربیتی پروگرام کی حقیقت

Image
  جب ۹ فروری ۲۰۲۶ کو سعودی عرب اور صومالیہ نے دفاعی تعاون کا معاہدہ کیا تو صومالی حکومت نے اسے صومالی قومی فوج کی تعمیر کا ایک اہم قدم قرار دیا ۔ لیکن جب ۲۹ جون ۲۰۲۶ کو سعودی فوجی وفد نے گوری ایل کے تربیتی کیمپوں کا دورہ کیا اور یہ انکشاف ہوا کہ ۵,۱۰۷ فوجیوں کی نو ماہ کی تربیت چار مختلف ممالک کے انسٹرکٹرز کر رہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واقعی صومالی فوج کی تعمیر ہے یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور ایجنڈا ہے ؟ پس منظر: ۵,۱۰۷ فوجی — کون، کہاں سے؟ تربیتی پروگرام کا پیمانہ حیران کن ہے — کل ۵,۱۰۷ فوجی دو کیمپوں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں ۔ ان میں تقریباً ۲,۰۰۰ نوجوان پنٹ لینڈ سے بھرتی کیے گئے ہیں، جبکہ باقی ماندہ صومالیہ کے مختلف علاقوں سے آئے ہیں ۔ یہ نو ماہ کا تربیتی پروگرام ہے جس میں بنیادی فوجی مہارتوں، ٹیکٹیکل آپریشنل طریقہ کار اور خصوصی جنگی تربیت شامل ہے ۔ صومالی فوجی تربیت میں چار ممالک کے انسٹرکٹر کیوں شامل ہیں؟ رپورٹس کے مطابق یہ تربیت رومانیہ، یوکرین، جنوبی افریقہ اور کولمبیا کے فوجی ٹھیکیداروں کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے ۔ یہ ایک غیر معمولی بات ہے کیونکہ عام طور پر ...

اسلام آباد مفاہمت نامے کے نفاذ کے لیے برجن اسٹاک میں پاکستان کا تاریخی سفارتی کردار

Image
   جون ۲۰۲۶ کو سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت شہر برجن اسٹاک میں ایک اہم سفارتی تقریب منعقد ہوئی جہاں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اسلام آباد مفاہمت نامے کے نفاذ کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کی ۔ یہ مفاہمت نامہ ۱۷ جون کو طے پایا تھا جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مستقبل میں مذاکرات کی راہ ہموار کی گئی تھی ۔ برجن اسٹاک مذاکرات میں پاکستان کا کردار کیا ہے؟ پاکستان نے اس بحران کے دوران ایک متوازن اور تعمیری سفارتی کردار ادا کیا ۔ پاکستان نے نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی مذاکرات کی میزبانی کی بلکہ مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے دونوں فریقوں کو ایک ٹیبل پر لانے میں کامیابی حاصل کی ۔ اس موقع پر سوئٹزرلینڈ کے نائب صدر نے بھی پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا اور اس عمل میں معاونت کی یقین دہانی کرائی ۔ Zürich: 21 June 2026. Prime Minister and Field Marshal to participate in the High-Level Talks on the implementation of the Islamabad Memorandum of Understanding being held in Burgenstock, Switzerland, on 21st of June 2026. Prim...