مردان کان حادثہ: دفن ہونے کے ۱۷ روز بعد مزدور کی زندہ بازیابی، خاندان میں کہرام
ضلع مردان کے تحصیل رستم میں واقع سنگ مرمر کی ایک کان میں ۳۱ مارچ ۲۰۲۶ کو ایک بھیانک حادثہ پیش آیا۔ دھماکے کے بعد مٹی اور پتھروں کا تودہ گر گیا اور متعدد مزدور ملبے تلے دب گئے۔ اٹھارہ افراد اس حادثے کا شکار ہوئے جن میں سے نو کی موت کی تصدیق ہو گئی۔ لیکن جو ہوا اس نے سب کو حیران کر دیا۔ عبدالوہاب نامی مزدور، جسے ابتدائی طور پر مردہ سمجھ کر اس کی نماز جنازہ پڑھی جا چکی تھی اور اس کے لیے قبر بھی کھودی جا چکی تھی، سترہ روز بعد زندہ نکلا۔ جی ہاں، یہ خبر درست ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف لواحقین بلکہ پوری قوم کو دنگ کر دیا ہے۔ مردان میں کان کیسے گر گئی؟ ۳۱ مارچ کو رستم کے علاقے ننگ آباد میں جب کان میں کام جاری تھا تو اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں پہاڑی کا ایک بڑا حصہ گر کر کان کے اندر کام کرنے والے مزدوروں پر آ گرا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق اس حادثے میں کل بارہ مزدور ملبے تلے دب گئے تھے۔ کان حادثے میں کتنے مزدور مارے گئے؟ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں نو مزدور جاں بحق ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں خالد، عظمت خان، خیر زمین شاہ، طارق، خان زمان، واصف، اسفندیار، ملنگ اور عبدالو...