سپریم کورٹ کی جانب سے شہباز شریف کے ۱۰ ارب روپے ہتک عزت مقدمے پر روک: ایک متوازن قانونی جائزہ.
۲۰ فروری ۲۰۲۶ کو سپریم کورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے پی ٹی آئی بانی عمران خان کے خلاف دائر ۱۰ ارب روپے کے ہتک عزت مقدمے کی لاہور کی اضافی ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں کارروائی پر روک لگا دی۔ یہ مقدمہ ۲۰۱۷ میں دائر کیا گیا تھا جس میں شہباز شریف نے الزام لگایا کہ عمران خان نے پاناما کیس واپس لینے کے بدلے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے ۱۰ ارب روپے کی پیشکش کا بے بنیاد الزام لگایا۔ عمران خان نے جواب میں کہا کہ یہ انکشاف عوامی مفاد میں تھا اور ہتک عزت نہیں۔ تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس عائشہ اے ملک کر رہی تھیں، نے عمران خان کی ریویو پٹیشنوں پر سماعت کی اور مدعا علیہان کی عدم موجودگی پر نوٹس جاری کر کے ابتدائی سماعت کا حکم دیا۔ غیر جانبدار جائزہ لیا جائے تو یہ فیصلہ عدالتی عمل میں توازن قائم کرنے کی کوشش ہے، خاص طور پر جب عمران خان کے وکیل نے ۲۰۲۲ کے حملے میں زخمی ہونے کی وجہ سے پیش نہ ہونے کا جواز پیش کیا۔ ٹرائل کورٹ نے دفاع کا حق ختم کیا تھا جو سابقہ فیصلوں سے تصدیق ہوا، مگر اب یہ روک منصفانہ موقع فراہم کر سکتی ہے۔ یہ ایک متوازن قدم ہے جو امید اور عملی احتیاط کا امتزاج کرتا ہے، اور یہ پ...