غزہ اسٹیبلائزیشن فورس اور پاکستان: دباؤ، امکانات اور داخلی چیلنجز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے مجوزہ اسٹیبلائزیشن فورس میں پاکستان کی شمولیت پر زور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطہ پہلے ہی شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جنگ کے بعد کے حالات میں نظم و نسق اور تعمیرِ نو بتلایا جا رہا ہے، مگر متعدد ممالک، خصوصاً مسلم دنیا میں، اسے ایک متنازع تجویز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ آیا وہ اس نوعیت کے بین الاقوامی مشن کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔


پاکستان کے اندر عوامی سطح پر فلسطین کے مسئلے پر گہری حساسیت پائی جاتی ہے، اور کسی بھی ایسے اقدام کو جو بالواسطہ طور پر اسرائیلی پالیسیوں کی توثیق سمجھا جائے، شدید ردِعمل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق مذہبی اور سیاسی جماعتیں اس معاملے پر خاموش نہیں رہیں گی، جس سے ملک کے پہلے سے نازک سیاسی حالات مزید دباؤ میں آ سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے محتاط بیانات بھی اسی داخلی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔


دوسری جانب، امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات، عسکری تعاون اور معاشی مفادات بھی پاکستان کی فیصلہ سازی میں ایک اہم عنصر ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ واشنگٹن کی درخواست کو مکمل طور پر مسترد کرنا بھی سفارتی سطح پر اثرات مرتب کر سکتا ہے، جبکہ قبول کرنا اندرونی عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ معاملہ پاکستان کے لیے ایک ایسے توازن کا تقاضا کرتا ہے جس میں قومی مفاد، عوامی رائے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو یکساں طور پر مدنظر رکھا جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

پاہلگام حملے سے جنگ بندی تک – پاک بھارت کشیدگی کی مکمل کہانی

آپریشن سندور – بھارتی فوج کی جوابی کارروائی اور اس کے اثرات

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی