کراچی میں کانگو وائرس سے دوسری ہلاکت: سنجیدہ حفاظتی اقدامات کی ضرورت۔

 

سندھ میں کریمین کانگو ہیمرجک فیور (CCHF) سے دوسری ہلاکت نے اس مہلک وائرس کی سنجیدگی کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ 26 سالہ زبیر، جو کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری کا رہائشی تھا، جان بچانے کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل ہوا، مگر بالآخر زندگی کی بازی ہار گیا۔ ایسے واقعات ہمارے طبی نظام میں موجود بنیادی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہیں، جہاں بروقت علاج اور اسپتالوں میں سہولیات کی عدم دستیابی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔


کانگو وائرس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نہایت تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے، جو چیچڑی کے کاٹنے یا متاثرہ جانوروں کے خون و ٹشوز سے براہ راست رابطے کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس کی شرح اموات 10 سے 40 فیصد کے درمیان ہے، اور بدقسمتی سے ابھی تک اس کا کوئی موثر ویکسین موجود نہیں۔ ان حالات میں صرف علاج پر انحصار کافی نہیں بلکہ مؤثر احتیاطی اقدامات اور وسیع پیمانے پر آگاہی مہم کی ضرورت ہے، خاص طور پر عید الاضحیٰ جیسے مواقع سے قبل جب جانوروں کی قربانی عام ہوتی ہے۔


یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت اور صحت کے ادارے صرف رپورٹنگ تک محدود نہ رہیں بلکہ اسپتالوں میں فوری طبی سہولیات، علیحدہ وارڈز، اور عملے کی تربیت جیسے عملی اقدامات کریں۔ ساتھ ہی میڈیا، مساجد، اور مقامی تنظیموں کے ذریعے عام عوام کو یہ باور کرانا ہوگا کہ احتیاطی تدابیر جیسے دستانے پہننا، جانوروں سے فاصلہ رکھنا اور صفائی کا خیال رکھنا کسی بھی بڑے سانحے سے بچنے کے لیے ضروری ہیں۔ بیماری سے لڑنے کے لیے ایک جامع، مربوط اور پیشگی حکمت عملی وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پاہلگام حملے سے جنگ بندی تک – پاک بھارت کشیدگی کی مکمل کہانی

آپریشن سندور – بھارتی فوج کی جوابی کارروائی اور اس کے اثرات

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی