امریکہ اور چین کے درمیان پاکستان کی متوازن سفارت کاری: ایک نازک مگر ضروری راستہ.

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ بیان کہ اسلام آباد امریکہ کے ساتھ "سب سے مضبوط تعلقات" کا خواہاں ہے، موجودہ عالمی سیاست میں ایک متوازن خارجہ پالیسی کی جانب واضح اشارہ ہے۔ چین کے ساتھ ناقابل شکست اسٹریٹجک شراکت داری کے باوجود، پاکستان یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اس کے دو طرفہ تعلقات ایک دوسرے کے متضاد نہیں، بلکہ قومی مفادات کے تحت خودمختار انداز میں ترتیب دیے جا رہے ہیں۔


پاکستان کئی دہائیوں سے امریکہ کے ساتھ فوجی تعاون اور انسداد دہشت گردی کے معاملات میں منسلک رہا ہے، جبکہ معاشی میدان میں چین کے ساتھ سی پیک جیسے بڑے منصوبوں کے ذریعے تعلقات کو وسعت دی گئی ہے۔ موجودہ حالات میں جب امریکہ اور چین عالمی اثرورسوخ کی دوڑ میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں، پاکستان کے لیے یہ سفارتی توازن برقرار رکھنا نہایت حساس مگر ناگزیر عمل ہے۔


اسحاق ڈار اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات نو سال بعد پہلی اعلیٰ سطحی بات چیت تھی، جس میں دونوں ممالک کے باہمی، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلام آباد نئی امریکی قیادت سے بامقصد روابط کا خواہاں ہے۔ اگر یہ رابطے مستقل جاری رہیں تو پاکستان نہ صرف اپنی معاشی و سیکیورٹی ضروریات کو متوازن رکھ سکے گا بلکہ عالمی سطح پر ایک متحرک اور ذمہ دار شراکت دار کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پاہلگام حملے سے جنگ بندی تک – پاک بھارت کشیدگی کی مکمل کہانی

آپریشن سندور – بھارتی فوج کی جوابی کارروائی اور اس کے اثرات

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی