امریکہ کی جانب سے پاکستانی مصنوعات پر 19 فیصد ٹیرف ایک متوازن مگر چیلنجنگ پیش رفت.

امریکہ کی جانب سے پاکستانی برآمدات پر 19 فیصد ریسیپروکل ٹیرف کا نفاذ بظاہر ایک متوازن فیصلہ ہے، خاص طور پر جب اسے ابتدائی تجویز کردہ 29 فیصد ٹیرف سے کم قرار دیا جائے۔ یہ فیصلہ عالمی تجارتی ماحول میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان کے لیے جزوی ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ بھارت، بنگلہ دیش، ویتنام، اور سری لنکا جیسے حریف ممالک پر اس سے زیادہ شرح عائد کی گئی ہے۔ تاہم یہ فائدہ وقتی ہو سکتا ہے کیونکہ دیگر ممالک کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کا نتیجہ پاکستان کی مسابقتی پوزیشن کو متاثر کر سکتا ہے۔


اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستانی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کی برآمدات کو نسبتاً بہتر رسائی حاصل ہو سکتی ہے، جو پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے برآمدی شعبے کو وقتی سہارا دے سکتی ہے، تاہم اس کے دیرپا اثرات کا دار و مدار پاکستانی کمپنیوں کی پیداواری استعداد، تحقیق و ترقی (R\&D)، اور توانائی بچانے کی صلاحیت پر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ سے خام تیل کی درآمد کا نیا معاہدہ بھی پاکستان کے توانائی کے شعبے میں تنوع کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو معاشی استحکام کو مزید سہارا دے سکتا ہے۔


اس معاہدے کو اسلام آباد نے ایک بڑی معاشی اور تزویراتی شراکت داری کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔ اگرچہ کچھ تجزیہ کار اس معاہدے کو ’’نیوٹرل‘‘ قرار دے رہے ہیں، مگر یہ بات واضح ہے کہ عالمی سطح پر مسابقت برقرار رکھنے کے لیے صرف رعایتی ٹیرف کافی نہیں۔ اب پاکستان کو اپنے پیداواری عمل میں جدت، معیار، اور لاگت میں کمی کو اولین ترجیح دینا ہوگی تاکہ یہ فائدہ وقتی نہ رہے بلکہ عالمی منڈی میں پائیدار برتری کی بنیاد بن سکے۔

Comments

Popular posts from this blog

پاہلگام حملے سے جنگ بندی تک – پاک بھارت کشیدگی کی مکمل کہانی

آپریشن سندور – بھارتی فوج کی جوابی کارروائی اور اس کے اثرات

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی