پاکستان اور مصر کا بڑھتا تعاون خطے میں استحکام کی نئی جہت
پاکستان اور مصر کے درمیان اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات میں ایک مثبت اضافہ سمجھا جا رہا ہے۔ قاہرہ میں آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی ملاقات نے اس امر کو اجاگر کیا کہ دونوں ممالک نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک متوازن کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے باہمی مفادات کے اہم امور پر قریبی رابطے برقرار رکھنے اور عوامی سطح پر تعلقات مضبوط کرنے پر زور دیا۔
پاکستان اور مصر کے تعلقات کی جڑیں 1948 میں سفارتی روابط کے قیام تک جاتی ہیں، جب مصر مشرقِ وسطیٰ کے ان ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کو تسلیم کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک نے مذہبی، ثقافتی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا ہے۔ موجودہ ملاقات اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ خطے میں امن و ترقی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی ناگزیر سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ سیاسی اور انسانی بحرانوں سے دوچار ہے۔
غزہ کے مسئلے پر پاکستان اور مصر کا یکساں مؤقف اس بڑھتے ہوئے تعاون کا ایک اور ثبوت ہے۔ دونوں ممالک نے اسرائیل کے خلاف جنگ بندی اور فلسطینی عوام کی بحالی کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ اگر اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون عملی اقدامات کی صورت اختیار کر لیتا ہے تو نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
Comments
Post a Comment