مستقبل کی ممکنہ خانہ جنگی پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے کے خطرات

حالیہ دنوں میں جو بیانات اور جوابی نوٹس سامنے آئے ہیں، وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ طاقتور بیانات وقتی سیاسی اثر تو رکھتے ہیں مگر طویل المدتی نتائج غیر متوقع اور سنگین ہو سکتے ہیں۔ جب عسکری کمانڈرز یا اعلیٰ سیاسی عہدیدار سخت لہجے میں بات کرتے ہیں تو اس کا فوری مطلب یہ ہوتا ہے کہ تعلقات میں اعتماد کم ہے؛ اس فقدانِ اعتماد کے دوران کسی چھوٹی سی غلط فہمی یا غیر یقینی اقدام سے صورتحال بگڑ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس لمحے میں دنبالِ حل ہونا چاہیے — عسکری جارحیت کی دھمکیوں کے بجائے ٹھوس، شفاف اور قابلِ پیمائش اعتماد سازی کے اقدامات کی راہ ہموار کی جائے۔


تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ ماضی کی جھڑپوں نے دونوں طرف انسانی جانوں اور معاشی وسائل کو شدید نقصان پہنچایا ہے؛ موجودہ دعوے اور جوابات — چاہے وہ فضائی جھڑپوں کے بیانات ہوں یا ایک دوسرے کے طیارے گرانے کے دعوے — عوام میں خوف و بے چینی بڑھاتے ہیں اور علاقائی معیشت اور تعاون کو متاثر کرتے ہیں۔ ایک معتدل رائے یہ ہے کہ فطری طور پر قومی سلامتی اہم ہے، مگر قومی سلامتی کو ایسی پالیسیوں سے مساوی رکھا جانا چاہیے جو معاشرتی استحکام، باہمی تجارت اور عوامی بھلائی کو نقصان نہ پہنچائیں۔ اسی توازن کو بحال کرنے کے لیے شفاف تفتیش، بین الاقوامی معیاری تحقیقاتی میکانزم اور قبل ازیں طے شدہ رابطہ پوائنٹس کے ذریعے جھوٹ یا غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جانا ضروری ہے۔


 آخر میں یہ کہنا بجزم ہے کہ خطے کے لاکھوں شہری ایک ایسی حقیقت سے براہِ راست متاثر ہوں گے جس میں امن و توازن پامال ہوں؛ اس لیے دونوں جانب کے رہنماؤں، میڈیا اور سفارتی حلقوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بیانات میں احتیاط اپنائیں، تصدیق شدہ معلومات کو ترجیح دیں اور فوری طور پر سفارتی مشقیں، ثالثیت یا عالمی فورمز کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں۔ اس رائے کا مقصد کسی ایک فریق کی حمایت کرنا نہیں بلکہ یہ پہلو اجاگر کرنا ہے کہ پُرامن، متوازن اور ذمہ دارانہ رویہ ہی خطے میں دیرپا استحکام اور عوام کے مفاد کا ضامن بن سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پاہلگام حملے سے جنگ بندی تک – پاک بھارت کشیدگی کی مکمل کہانی

آپریشن سندور – بھارتی فوج کی جوابی کارروائی اور اس کے اثرات

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی