ماسکو میں افغان صورتحال پر ایران و پاکستان کی سفارتی ہم آہنگی خطے میں استحکام کی نئی راہیں؟
ماسکو میں ہونے والے "ماسکو فارمیٹ مشاورت اجلاس" سے قبل پاکستان اور ایران کے نمائندوں کی ملاقات نے خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی ترجیحات کو ایک نئی جہت دی ہے۔ پاکستانی نمائندے صادق اور ان کے ایرانی ہم منصب محمد رضا بہرامی کے درمیان ہونے والی گفتگو نہ صرف افغانستان کے حالیہ حالات پر تبادلۂ خیال کا موقع بنی بلکہ اس نے خطے میں تعاون کے نئے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔ دونوں ممالک نے اس امر پر اتفاق کیا کہ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے مسلسل مکالمہ اور مشترکہ لائحۂ عمل ناگزیر ہے، خاص طور پر دہشت گردی اور منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر۔ ماسکو فارمیٹ کا اجلاس ایسے وقت منعقد ہو رہا ہے جب روس نے باضابطہ طور پر طالبان حکومت کو تسلیم کر لیا ہے، جس سے علاقائی توازن پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
افغانستان کی بدلتی صورتحال میں ایران اور پاکستان دونوں کو مشترکہ سیکیورٹی، معاشی اور انسانی چیلنجز کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان افغان مہاجرین کی واپسی، سرحدی انتظام، اور اقتصادی تعلقات پر بات چیت اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ کابل کے استحکام کے بغیر پورے خطے کا امن ممکن نہیں۔ ایران نے طویل عرصے سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے، اور اقوامِ متحدہ کے اداروں نے بھی اس سلسلے میں تہران کی خدمات کو سراہا ہے۔ تاہم ایران اور پاکستان دونوں کو اس وقت مالی مشکلات اور عالمی برادری کی محدود امداد کا سامنا ہے، جس سے پناہ گزینوں کے مسائل مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ اس پس منظر میں افغان صورتحال پر مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا دونوں ممالک کے لیے ایک سفارتی ضرورت بن چکا ہے۔
یہ ملاقات اور ماسکو میں ہونے والا اجلاس اس بات کا اشارہ ہیں کہ خطے کے ممالک اب افغانستان کے مستقبل کو محض عالمی طاقتوں کے فیصلوں پر نہیں چھوڑنا چاہتے۔ طالبان حکومت کی بین الاقوامی حیثیت، انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات، اور منشیات کے خاتمے جیسے موضوعات پر عملی تعاون خطے کے امن و ترقی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر پاکستان، ایران، روس، اور وسطی ایشیائی ممالک ایک مربوط حکمتِ عملی اپنائیں تو افغانستان میں دیرپا استحکام ممکن ہے — مگر اس کے لیے باہمی اعتماد، انسانی ہمدردی اور علاقائی مفادات میں توازن قائم رکھنا ناگزیر ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر خطہ اپنی نئی سفارتی حقیقت تعمیر کر سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment