"عدالتی احکامات اور سیاسی مقدمات ایک توازن کی تلاش"
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سلمان اکرم راجہ اور عمران خان کی ملاقات یقینی بنانے کا حکم ملک میں جاری سیاسی مقدمات کے تناظر میں ایک اہم عدالتی پیش رفت ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ عدالتیں اس وقت سیاسی و قانونی معاملات میں شفافیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سلمان اکرم راجہ کا یہ کہنا کہ گزشتہ عدالتی حکم کے باوجود ملاقات نہیں ہو سکی، اس امر کی علامت ہے کہ عدالتی احکامات اور انتظامی عمل درآمد کے درمیان اب بھی خلا موجود ہے۔
یہ صورتِ حال محض ایک شخص یا ایک جماعت کا معاملہ نہیں بلکہ عدالتی نظام کے مؤثر نفاذ کا امتحان بھی ہے۔ اگر کسی قانونی نمائندے کو اپنے موکل سے ملاقات کے لیے عدالت کا بار بار رجوع کرنا پڑے تو یہ نظامِ انصاف کی سست روی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس تناظر میں عدلیہ کی براہِ راست نگرانی ایک وقتی حل تو ہے، مگر مستقل اصلاحات کے بغیر ایسے مسائل دوبارہ جنم لے سکتے ہیں۔
آج کے عدالتی فیصلے نے کم از کم یہ واضح کر دیا ہے کہ عدلیہ سیاسی دباؤ کے باوجود بنیادی حقوق کے تحفظ کی پابند ہے۔ تاہم، حقیقی چیلنج یہ ہے کہ ریاستی ادارے عدالتی فیصلوں پر بروقت عمل کریں اور قانونی عمل کو سیاسی مفادات سے بالاتر رکھیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو یہ پیش رفت پاکستان میں قانون کی بالادستی کے لیے ایک مثبت سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
Comments
Post a Comment