جلمود-۱: پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے دفاعی تعلقات میں عملی ہم آہنگی کا نیا باب"
تربیلہ میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دو ہفتوں پر مشتمل مشترکہ فوجی مشقیں “جلمود-۱” اپنے اختتام کو پہنچ گئیں، جن کا مقصد انسدادِ دہشت گردی اور یرغمالیوں کی بازیابی کے آپریشنز میں تعاون اور مہارت کو فروغ دینا تھا۔ اس مشق میں یو اے ای کے صدارتی گارڈز اور پاکستان کی اسپیشل سروسز گروپ (SSG) نے حصہ لیا۔ اختتامی تقریب میں اعلیٰ فوجی و دفاعی حکام کے ساتھ ساتھ اماراتی سفارت کاروں کی موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ دونوں ممالک دفاعی شراکت داری کو ایک مستحکم اور دیرپا تعاون میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔
مشق “جلمود-۱” ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کے شمال مغربی اور سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس پس منظر میں یرغمالیوں کی بازیابی اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے جدید تربیت کا حصول نہ صرف ضروری بلکہ ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔ جلمود-۱ نے دونوں ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کے آپریشنل تجربات سے سیکھنے کا موقع فراہم کیا، جس سے نہ صرف فیلڈ اسکلز میں بہتری آئے گی بلکہ انٹیلیجنس شیئرنگ اور مشترکہ حکمتِ عملی کے امکانات بھی بڑھیں گے۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات محض دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ ان کا دائرہ اقتصادی، تجارتی اور انسانی روابط تک پھیلا ہوا ہے۔ یو اے ای میں موجود بڑی پاکستانی برادری دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد مضبوط کرتی ہے، جبکہ اماراتی سرمایہ کاری نے پاکستان کی معیشت کو مشکل وقتوں میں سہارا فراہم کیا ہے۔ ایسے میں “جلمود-۱” جیسے اقدامات نہ صرف عسکری شراکت داری کو وسعت دیتے ہیں بلکہ سفارتی سطح پر اعتماد اور دوطرفہ تعلقات کے تسلسل کو بھی تقویت پہنچاتے ہیں جو بالآخر خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment