عمران خان کی صحت سے متعلق افواہیں: شفافیت، ذمہ داری اور عوامی اعتماد کی ضرورت
پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بانی عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ افواہوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال پر واضح مؤقف پیش کرے اور فی الفور ان کی فیملی کو ملاقات کی اجازت دے۔ پارٹی کے مطابق افغان اور بھارتی میڈیا سمیت مختلف غیر مصدقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے عمران خان کی صحت اور ممکنہ انتقال سے متعلق گمراہ کن دعوے پھیلائے، جس نے عوامی اضطراب میں اضافہ کیا۔ پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح کی اطلاعات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔
دوسری جانب وزارت اطلاعات نے ان افواہوں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ دعوے پرانی تصاویر اور ہم آہنگ پروپیگنڈا کا نتیجہ ہیں۔ فیکٹ چیکنگ سیل کے مطابق 2013 اور 2022 کی دو تصاویر کو حالیہ واقعات سے منسوب کرکے غلط بیانی کی گئی، جبکہ کسی بھی سرکاری یا آزاد ذریعے سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے کوئی غیر معمولی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ اس وضاحت نے صورتحال کے کئی پہلوؤں میں روشنی ڈالی، تاہم خاندان اور پارٹی رہنماؤں تک مسلسل ملاقات کی اجازت نہ ہونا سوالات پیدا کرتا رہا ہے، جسے حکومت کے لیے فوری طور پر دور کرنا ضروری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے حساس معاملات میں شفافیت نہ صرف سیاسی تناؤ کو کم کرنے کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی تقویت دیتی ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ عمران خان کی صحت، سیکیورٹی اور بنیادی حقوق کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، جبکہ حکومتی وضاحت نے بیرونی پروپیگنڈے کا پہلو اجاگر کیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں ایک جامع، باضابطہ اور ثبوت پر مبنی بیان، ساتھ ہی خاندان اور وکلاء سے ملاقات کی اجازت، نہ صرف افواہوں کا خاتمہ کرے گی بلکہ سیاسی ماحول میں عدم یقینی کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
Comments
Post a Comment