پاکستان کا سیاسی بحران: مکالمے کی گنجائش یا مزاحمت کا تسلسل؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ ہمیشہ تضادات سے بھری رہی ہے — ایک طرف عوامی مقبولیت کے حامل رہنما، اور دوسری طرف طاقتور ادارے جن کے بغیر اقتدار کی راہیں مسدود نظر آتی ہیں۔ عمران خان کا جیل سے آنا والا سخت لہجہ اور فوجی قیادت پر براہِ راست تنقید اس بات کی علامت ہے کہ سیاسی تناؤ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ ان کے سابق ساتھیوں فواد چوہدری، عمران اسماعیل، اور محمود مولوی کی جانب سے مصالحتی کردار ادا کرنے کی کوشش اگرچہ ایک نرم سیاسی رویے کا اظہار ہے، لیکن عمران خان کی جانب سے مذاکرات سے انکار نے ان کی مہم کو متزلزل کر دیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان عدم توازن اب محض بیانیے کا حصہ نہیں رہا، بلکہ عملی سیاست کا مرکزی مسئلہ بن چکا ہے۔


عمران خان کے مؤقف کو عوامی سطح پر اب بھی ایک بڑی حمایت حاصل ہے، مگر ان کی سخت گیر حکمتِ عملی انہیں سیاسی تنہائی کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔ دوسری جانب، حکومت اور فوجی اداروں کی جانب سے سخت اقدامات، سوشل میڈیا پر پابندیاں، اور مقدمات کا تسلسل اس بات کا مظہر ہے کہ ریاستی طاقت اپنی گرفت مضبوط رکھنا چاہتی ہے۔ ایسے میں فواد چوہدری جیسے سیاستدانوں کی مفاہمتی کوششیں اس لحاظ سے اہم ہیں کہ وہ سیاسی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کا عندیہ دیتی ہیں۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہوئیں تو نہ صرف سیاسی قیدیوں کی رہائی ممکن ہوگی بلکہ ایک نیا سیاسی بیانیہ بھی جنم لے سکتا ہے جو مکالمے کو تصادم پر فوقیت دے۔


تاہم، زمینی حقائق ابھی بھی پیچیدہ ہیں۔ عمران خان کا اعتماد اور ریاستی اداروں کا دباؤ — دونوں مل کر ایک ایسے بحران کو جنم دے رہے ہیں جو نہ صرف پارلیمانی جمہوریت بلکہ عوامی اعتماد کے لیے بھی چیلنج بن چکا ہے۔ آنے والے ہفتے فیصلہ کن ہو سکتے ہیں کہ آیا پاکستان مکالمے کے راستے پر قدم رکھتا ہے یا پھر سیاسی تصادم کے نئے دور میں داخل ہوتا ہے۔ ملک کی بقا اس بات پر منحصر ہے کہ قیادتیں کب اور کیسے اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرتی ہیں کہ اختلاف کے باوجود بقاء کا راستہ صرف گفتگو سے ہی نکل سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پاہلگام حملے سے جنگ بندی تک – پاک بھارت کشیدگی کی مکمل کہانی

آپریشن سندور – بھارتی فوج کی جوابی کارروائی اور اس کے اثرات

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی