پاکستان اور مراکش کا مستقل دفاعی فریم ورک اور فوجی تربیت میں تعاون
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے حال ہی میں مراکش کے سرکاری دفاعی وزیر عبداللطیف لودای سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کے مستقل فریم ورک کے قیام پر اتفاق کیا۔ یہ اقدام پاکستان اور مراکش کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ ملاقات کے دوران دفاعی تربیت، تجربات کے تبادلے، صلاحیت سازی اور دیگر مشترکہ منصوبوں پر بھی بات چیت کی گئی، جس سے دونوں ملکوں کے مسلح افواج کے مابین پیشہ ورانہ روابط کو مضبوط بنانے کی توقع ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق یہ سمجھوتہ مستقبل میں فوجی تربیت اور سیکیورٹی کے دیگر شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی پوسٹ میں بتایا کہ معاہدے کے تحت ایک ادارہ جاتی فریم ورک قائم کیا جائے گا جو دفاعی تعلقات کو مستقل بنیادوں پر مربوط کرے گا۔ اس پیش رفت کا مطلب یہ بھی ہے کہ پاکستانی مسلح افواج کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ طریقے سے فروغ دینے کے مواقع بڑھیں گے اور علاقائی دفاعی استحکام میں اضافہ ممکن ہو گا۔
پاکستان اور مراکش کے تعلقات میں یہ تعاون ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دیگر مسلم ممالک بھی پاکستان کے دفاعی تجربات اور مہارت میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ پچھلے سال بھارت کے ساتھ مختصر تنازع میں پاکستان کی کارکردگی نے اس کی دفاعی قابلیت کو اجاگر کیا، اور اس کی بنیاد پر بین الاقوامی سطح پر دفاعی تعلقات کو فروغ دینے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ ایسے اقدامات نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ خطے میں دفاعی تعاون اور سلامتی کے فروغ میں بھی کردار ادا کرتے ہیں، اور پاکستان کو ایک مضبوط دفاعی شراکت دار کے طور پر عالمی منظر نامے پر پیش کرتے ہیں۔
Comments
Post a Comment