وفاق اور خیبر پختونخوا کا رابطہ: سکیورٹی اور ترقی کے درمیان سیاسی توازن
وزیراعظم شہباز شریف اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات کو موجودہ سیاسی ماحول میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت میں صوبائی حکومت کے تعلقات طویل عرصے سے تناؤ کا شکار رہے ہیں، یہ ملاقات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قومی مفاد کے معاملات پر بات چیت کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔ قانون و امان اور ترقی جیسے مشترکہ مسائل نے دونوں فریقین کو ایک ہی میز پر آنے کا موقع فراہم کیا۔
خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے واقعات نے سکیورٹی اداروں پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث وفاق اور صوبے کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی میں ادارہ جاتی مضبوطی اور بہتر ہم آہنگی پر زور اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ اس چیلنج کا مقابلہ یکطرفہ اقدامات سے ممکن نہیں۔ مشترکہ کوششیں نہ صرف سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنا سکتی ہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں بھی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
دوسری جانب، ترقی، صحت، تعلیم اور روزگار جیسے شعبوں میں تعاون پر بات چیت اس امر کو اجاگر کرتی ہے کہ گورننس کے مسائل سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر حل کیے جا سکتے ہیں۔ وفاق کی جانب سے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے معاونت کی یقین دہانی اور صوبائی خودمختاری پر زور ایک متوازن طرزِ حکمرانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر اس نوعیت کے روابط تسلسل کے ساتھ جاری رہیں تو یہ نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ مجموعی طور پر قومی استحکام اور ترقی کے لیے مثبت نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment