پاکستان کی امریکہ کو یقین دہانی: غیر ملکی سرمایہ کاری کی سہولت اور کاروباری تعلقات میں اضافہ.
پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری مارک پومرشائم اور امریکی چارج ڈی افیئرز نیٹالی بیکر سے ملاقات کی، جس میں پاکستان نے غیر ملکی سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرنے اور امریکی کاروباری برادری کے ساتھ باقاعدہ رابطے برقرار رکھنے کا عزم دہرایا۔ فنانس ڈویژن کے بیان کے مطابق، دونوں فریقوں نے پاکستان کے معاشی منظر نامے، اصلاحاتی ایجنڈے اور دوطرفہ معاشی تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خزانہ نے میکرو اکنامک استحکام کی اصلاحات میں پیش رفت سے آگاہ کیا، جن میں مالیاتی خسارے میں کمی، مضبوط ترسیلات زر اور آئی ٹی برآمدات کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ کی بہتری، اور سرکاری اداروں میں اصلاحات اور پبلک سیکٹر کی "رائٹ سائزنگ" شامل ہیں۔ یہ اقدامات مالی خطرات کو کم کرنے اور کارکردگی بڑھانے کے لیے اہم ہیں۔ یہ ملاقات پاکستان کی IMF کی حمایت یافتہ اصلاحات اور جولائی 2025 میں امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدے کے بعد معاشی سفارت کاری کو تیز کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔
امریکی حکام نے پاکستان کی مالی استحکام کی کوششوں کی قدر کی اور کلیدی معاشی اشاریوں میں بہتری کا خیرمقدم کیا۔ مارک پومرشائم نے کہا کہ امریکہ ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان کی قدر کرتا ہے اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا مشترکہ ترجیح ہے۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ امریکی کاروباری پاکستان کی اصلاحات کی پیشرفت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اور پالیسی کی تسلسل میں بہتری تجارتی تعلقات کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔ پاکستان US چیمبر آف کامرس اور امریکن بزنس کونسل جیسے اداروں کے ساتھ رابطے بڑھانا چاہتا ہے تاکہ سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ہو۔ یہ پیش رفت پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے اہم ہے، کیونکہ غیر ملکی سرمایہ کاری ملک کی معیشت کو سہارا دے سکتی ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم، اصلاحات کی رفتار برقرار رکھنا اور شفافیت یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل رہے۔
مجموعی طور پر یہ ملاقات پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاشی تعاون کی نئی راہ ہموار کرنے کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔ پاکستان کی جانب سے سرمایہ کاری کی سہولت اور کاروباری مصروفیات میں اضافے کا وعدہ اگر عملی شکل اختیار کر گیا تو یہ ملک کی معیشت کو استحکام دے سکتا ہے اور علاقائی معاشی کردار کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ امریکی دلچسپی اور پاکستان کی کوششیں دونوں فریقوں کے لیے باہمی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں، بشرطیکہ دونوں طرف سے مسلسل اقدامات اور پالیسی تسلسل برقرار رہے۔ یہ اقدام پاکستان کی عالمی سطح پر معاشی سفارت کاری کو فعال کرنے کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے جو مستقبل میں مزید سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع لا سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment