ملائیشیا کے ہائی کمشنر کا این یو ایم ایل دورہ: پاکستان-ملائیشیا.
تعلقات میں تعلیمی تعاون کا نیا باب ملائیشیا کے ہائی کمشنر ڈیٹو محمد اظہر مزلان کا نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (این یو ایم ایل) کا دورہ ایک اہم سفارتی اور تعلیمی پیش رفت ہے جو پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو تعلیمی میدان میں مزید مستحکم کرنے کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔ میرے خیال میں، یہ دورہ جو اکیڈمک تعاون کی تلاش اور تعلیمی روابط کو مضبوط کرنے کے مقصد سے ہوا، طلبہ اور فیکلٹی کے تبادلے، مشترکہ تحقیق، سیمینارز، اشاعتیں، ملائیشیا میں اردو چیئر کی بنیاد اور این یو ایم ایل میں ملائی زبان کے پروگرامز جیسے عملی تجاویز پر مرکوز تھا۔ ہائی کمشنر نے “ملائیشیا-پاکستان دوطرفہ تعلقات” پر ایک بصیرت افروز لیکچر دیا جس کے بعد طلبہ اور فیکلٹی کے ساتھ انٹرایکٹو سوال و جواب سیشن ہوا جو باہمی افہام و تفہیم کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوا۔ ریکٹر، ڈی جی بریگیڈیئر محمد رفیق خان اور دیگر افسران کے ساتھ ملاقاتوں میں سکالرشپس اور زبانوں کے پروگراموں پر زور دیا گیا جو دونوں ممالک کی ثقافتی اور علمی وراثت کو جوڑنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ یہ اقدام غیر جانبدار رائے کے مطابق دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کو عملی شکل دینے کی کوشش ہے جو نوجوان نسل کے لیے نئی مواقع پیدا کرے گا۔
دوسری طرف، یہ دورہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلیمی سفارت کاری کی اہمیت کو واضح کرتا ہے جو صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ عوامی اور علمی سطح پر بھی اثرات مرتب کرتا ہے۔ میری رائے میں، لیکچر میں پاکستان-ملائیشیا تعلقات کے تاریخی پس منظر، موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات پر روشنی ڈالی گئی جو دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کی بنیاد کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ مشترکہ تحقیق اور فیکلٹی ایکسچینج جیسے منصوبے نہ صرف یونیورسٹیوں کے معیار کو بہتر بنائیں گے بلکہ دونوں ممالک کے طلبہ کو عالمی تناظر میں سوچنے کا موقع بھی دیں گے۔ ڈی جی این یو ایم ایل کی جانب سے تعاون کے لیے مکمل عزم کا اظہار یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اس شراکت داری کو ترجیح دے رہا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ایسے اقدامات سے زبانوں، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں تبادلہ بڑھے گا جو طویل مدتی طور پر دونوں ممالک کے عوام کے درمیان قریبی روابط قائم کر سکتا ہے۔ یہ عمل پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تعلیمی تعاون کو ایک اہم ستون کے طور پر پیش کرتا ہے۔
آخر میں، ملائیشیا کے ہائی کمشنر کا این یو ایم ایل دورہ اور لیکچر ایک جامع اور متوازن اقدام ہے جو پاکستان-ملائیشیا تعلقات کو نئی جہت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میرے نزدیک، یہ دورہ نہ صرف تعلیمی اداروں کے درمیان براہ راست رابطوں کو فروغ دیتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی پل کی تعمیر میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ اردو اور ملائی زبانوں کے پروگرامز اور سکالرشپس جیسے تجاویز سے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع ملے گا جو مستقبل میں دونوں ممالک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ غیر جانبدار رائے ہے کہ ایسے دورے اور علمی مباحثے باہمی احترام اور تعاون کی فضا کو پروان چڑھاتے ہیں جو علاقائی اور عالمی سطح پر دونوں ممالک کی مشترکہ آواز کو مضبوط بنائیں گے۔ یہ اقدام امید دلاتا ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات تعلیم اور ثقافت کے ذریعے مزید گہرے اور پائیدار ہوں گے۔
Comments
Post a Comment