Desi Bling: دبئی کی دیسی چمک دمک کا نیا باب

نیٹ فلکس کا نیا ریئلٹی شو Desi Bling Dubai Bling کا ایک دلچسپ اسپن آف ہے، جو اب دبئی کی عیاشی کو مکمل دیسی ٹچ کے ساتھ پیش کر رہا ہے۔ ٹیزر میں ہی ایک کاسٹ ممبر کا بیان "وہ مجھے ہر سال تین کلو سونا خریدتا ہے" سن کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ شو دولت کی نمائش، پرائیویٹ جیٹس، ڈائمنڈز اور کچھ خاص کپڑوں کی دنیا میں لے جانے والا ہے۔ یہ شو صرف انڈین ایکسپیٹس کے امیر طبقے پر فوکس کرتا ہے، جہاں بزنس ایمپائرز، سیلیبرٹی ایگوز اور پرسنل ڈرامہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ کرن کنڈرا اور تیجسوی پرکاش جیسے بالی ووڈ ٹی وی سٹارز کے ساتھ رضوان ساجن، ستیش سانپال جیسے ارب پتی بزنس مین شامل ہیں، جو دبئی کی ایلیٹ سوسائٹی کا اہم حصہ ہیں۔ پاکستانی ناظرین کے لیے یہ شو دلچسپ ہو سکتا ہے کیونکہ دبئی ہمارے لیے بھی ایک بڑا مرکز ہے، جہاں لاکھوں پاکستانی محنت کر کے اپنی زندگیاں سنوارتے ہیں، اور یہاں کی ایسی چمک دمک والی زندگیاں دیکھنا ایک طرح کا vicarious thrill دیتا ہے۔ پروڈیوسر کا کہنا ہے کہ یہ شو صرف سطحی عیاشی نہیں بلکہ شناخت، خاندانی توقعات اور جنریشنل فرق کو بھی چھوئے گا، جو اسے تھوڑا گہرائی دے سکتا ہے۔


یہ شو Different Productions نے بنایا ہے، جو Dubai Bling کا بھی پروڈیوسر ہے، اور یہ ان کا پہلا پروجیکٹ ہے جو خاص طور پر انڈین مارکیٹ کے لیے ہے۔ انگریزی اور ہندی دونوں میں فلم کیا گیا ہے، اور دبئی شہر خود ایک بڑا کردار ادا کر رہا ہے، جہاں پارٹیز، ریسٹورنٹس اور نائٹ لائف کا پس منظر سب کچھ ہے۔ پروڈیوسر نے بتایا کہ یہ شو vulnerability اور raw conversations بھی دکھائے گا، جو عام طور پر گلاسی ریئلٹی فارمیٹس میں کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔ تاہم، ٹیزر دیکھ کر کچھ لوگوں کا ردعمل "cringe" اور over-the-top ہے، جو سمجھ میں آتا ہے کیونکہ ایسی نمائش ہمیشہ تنقید کا باعث بنتی ہے۔ پاکستان میں بھی لوگ اسے دیکھ کر سوچیں گے کہ کیا واقعی یہ دیسی کلچر کی نمائندگی کر رہا ہے یا صرف دولت کی دکھاوے پر مبنی ہے۔ پھر بھی، یہ شو تفریح کے لیے بنایا گیا ہے، اور لوگ اسے گھورنے، تنقید کرنے یا ہنسنے کے لیے دیکھیں گے۔


مجموعی طور پر Desi Bling دبئی کی دیسی کمیونٹی کی ایک جھلک پیش کرے گا، جو کامیابی، طاقت اور خاندانی ڈرامہ سے بھری ہوئی ہے۔ یہ شو 2026 میں ریلیز ہونے والا ہے، اور ابھی تک ریلیز ڈیٹ کا اعلان نہیں ہوا، مگر ٹیزر نے کافی ہائیپ پیدا کر دیا ہے۔ پاکستانی ناظرین کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ دیکھیں کہ ہمارے پڑوسی ملک کے امیر طبقے کی زندگی کیسے ہے، اور شاید اس سے کچھ سبق بھی سیکھیں کہ دولت کتنی بھی ہو، انسانی رشتوں اور شناخت کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ امید ہے کہ شو صرف عیاشی تک محدود نہ رہے بلکہ کچھ معنی خیز بات بھی کرے، تاکہ ناظرین کو صرف گھورنے کے بجائے سوچنے پر بھی مجبور کرے۔

Comments

Popular posts from this blog

پاہلگام حملے سے جنگ بندی تک – پاک بھارت کشیدگی کی مکمل کہانی

آپریشن سندور – بھارتی فوج کی جوابی کارروائی اور اس کے اثرات

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی