Posts

Showing posts from November, 2025

عمران خان کی صحت سے متعلق افواہیں: شفافیت، ذمہ داری اور عوامی اعتماد کی ضرورت

Image
پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بانی عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ افواہوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال پر واضح مؤقف پیش کرے اور فی الفور ان کی فیملی کو ملاقات کی اجازت دے۔ پارٹی کے مطابق افغان اور بھارتی میڈیا سمیت مختلف غیر مصدقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے عمران خان کی صحت اور ممکنہ انتقال سے متعلق گمراہ کن دعوے پھیلائے، جس نے عوامی اضطراب میں اضافہ کیا۔ پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح کی اطلاعات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ دوسری جانب وزارت اطلاعات نے ان افواہوں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ دعوے پرانی تصاویر اور ہم آہنگ پروپیگنڈا کا نتیجہ ہیں۔ فیکٹ چیکنگ سیل کے مطابق 2013 اور 2022 کی دو تصاویر کو حالیہ واقعات سے منسوب کرکے غلط بیانی کی گئی، جبکہ کسی بھی سرکاری یا آزاد ذریعے سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے کوئی غیر معمولی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ اس وضاحت نے صورتحال کے کئی پہلوؤں میں روشنی ڈالی، تاہم خاندان اور پارٹی رہنماؤں تک مسلسل ملاقات کی اجازت نہ ہونا سوالات پیدا ...

پاک–چین شراکت کا نیا دور: علاقائی رابطہ کاری اور اقتصادی تعاون کی ممکنہ سمتیں

Image
چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ کے بیان نے اس تصور کو مزید تقویت دی ہے کہ پاکستان اور چین اپنی ترقیاتی حکمتِ عملی کو ایک جامع اور مربوط فریم ورک کے تحت آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ سفیر کے مطابق، سی پیک کے دوسرے مرحلے کو صنعت، زراعت اور کان کنی کے شعبوں میں گہرے تعاون کے لیے مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جائے گا، جس کا مقصد دونوں ممالک کی جدیدیت کی کوششوں کو مشترکہ طور پر تقویت دینا ہے۔ اس جامع نقطۂ نظر کے تحت زرعی برآمدات میں اضافہ، صنعتی پارکس کا قیام، اور برآمدی صلاحیت بڑھانے جیسے اہداف پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ خطے میں بدلتے ہوئے جیو اکنامک ماحول کے تناظر میں، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور سی پیک کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ماہرین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ان منصوبوں نے پاکستان میں نہ صرف توانائی، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں بلکہ علاقائی روابط کو مضبوط بنانے کی بھی بنیاد رکھی ہے۔ چینی سرمایہ کاری کے نئے منصوبے — جیسے گھریلو آلات اور ٹیکسٹائل کے صنعتی پارکس — پاکستان کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ خنجراب، گوادر اور کاراکورم شاہراہ کی ترقی جیس...

ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کا روایتی مقابلہ

Image
ٹی20 ورلڈ کپ کے گروپز کے اعلان کے بعد پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ میں رکھا گیا ہے، اور دونوں ٹیمیں 15 فروری کو کولمبو میں آمنے سامنے ہوں گی۔ یہ پہلا موقع ہوگا جب دونوں ٹیمیں 2025 ایشیا کپ کے بعد ایک دوسرے سے ملاقات کریں گی، جس میں دونوں جانب گرم جوشی کے مظاہرے دیکھنے کو ملے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس میچ سے نہ صرف شائقین میں جوش و ولولہ بڑھے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کھیل کے ذریعے تعلقات میں ہلکی سی کشادگی کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ورلڈ کپ کے تمام میچز میں پاکستان کی ٹیم سری لنکا میں کھیلنے جا رہی ہے، جو ایک متفقہ فیصلہ ہے تاکہ بھارت اور پاکستان کو نیوٹرل مقامات پر کھیلنے کا موقع مل سکے۔ اس مقابلے میں بھارت بطور موجودہ چیمپیئن داخل ہو رہا ہے، اور اس کے کھیل کی مقبولیت، خاص طور پر آئی پی ایل کے ذریعے، عالمی شائقین کو بھی متوجہ کرتی ہے۔ اس بار بھی ٹورنامنٹ 20 ٹیموں پر مشتمل چار گروپوں کے فارمیٹ میں ہوگا، جس کے بعد سپر ایٹس اور پلے آف مرحلے ہوں گے۔ رائے کے مطابق، بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ نہ صرف کرکٹ کی روایت کا حصہ ہے بلکہ خطے میں کھیل کے ذریعے تعلقات بہتر بنانے کا ...

پنجاب میں گورننس اور صفائی کے اصلاحاتی اقدامات: مضبوط فیصلہ یا متواتر چیلنج؟

Image
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے صفائی اور گورننس کے حوالے سے سخت ہدایات نے صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی کو نئی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ غیر جانبدار تجزیہ کاروں کے مطابق، ناقص کام پر ادائیگیوں کی فوری معطلی اور ٹھیکیداروں کی جوابدہی ایک ایسا قدم ہے جو اداروں میں نظم و ضبط کا احساس پیدا کر سکتا ہے۔ کئی مبصرین اسے صوبائی سطح پر انتظامی اصلاحات کو تیز کرنے کی جانب ایک مؤثر اشارہ سمجھتے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ متعدد شہروں میں صفائی کے حالات عرصے سے تنقید کی زد میں ہیں۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو تنبیہ اور مسلسل نگرانی پر زور دینا شہری خدمت کے معیار کو بہتر بنانے کی سنجیدہ کوشش کا مظہر ہے۔ ان کے مطابق بے قابو کتوں کے حملوں، کھلے مین ہولز اور ناقص شہری انفراسٹرکچر جیسے مسائل نے انتظامی استعداد پر سوالات اٹھائے ہیں، اور اس مرحلے پر سخت حکمتِ عملی انتخابی یا عوامی دباؤ سے زیادہ عملی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ کچھ مبصرین مزید کہتے ہیں کہ KPIs کی سختی اور خفیہ مانیٹرنگ ٹیموں کی تعیناتی اس نظام کو مزید فعال بنا سکتی ہے۔ تاہم، بعض غیر جانب ...

*عمران خان کی بہنوں پر تشدد: ایک احتجاجی بیان*

عمران خان کی بہنوں، علیمہ خان، نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان نے ایڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور پرتشدد طریقے سے گرفتار کیا۔ یہ احتجاج اس وقت کیا گیا جب انہیں اپنے بھائی سے ہفتہ وار ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ¹ ² ³۔ *پولیس کی کارروائی* پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مطابق، پولیس نے خواتین کو پرتشدد طریقے سے گرفتار کیا جب وہ ایڈیالہ جیل کے باہر پرامن طریقے سے بیٹھی ہوئی تھیں۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب عمران خان کے خاندان اور پارٹی رہنماؤں کو ہفتہ وار ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی ⁴ ⁵۔ *عمران خان کے حقوق کی پامالی* پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے قیدی کے حقوق کے مطابق ہفتہ وار ملاقات کی اجازت ہونی چاہیے، لیکن اسے دباؤ اور تشدد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ عمران خان کی بہنوں نے جیل حکام پر عدالت کی توہین کا الزام لگایا ہے کیونکہ انہیں بار بار عمران خان سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ¹ ² ³۔

پاکستان چین تعاون: سیکیورٹی، اعتماد اور مشترکہ مفادات کا مضبوط رُخ.

Image
اسلام آباد میں چینی سفیر جیانگ ژائی ڈونگ اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی ملاقات حالیہ خودکش حملے کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ چینی سفیر کی جانب سے نہ صرف حملے کی مذمت کی گئی بلکہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط انسانی اور سفارتی رشتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور باہمی مفادات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک علاقائی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنے تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے خواہاں ہیں۔ ملاقات میں پاکستان اور چین کے درمیان انسدادِ دہشت گردی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، جو ان دونوں ممالک کے مشترکہ چیلنجز اور ترجیحات کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان اس حوالے سے چین کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے، اور چینی سفیر کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی سے واضح ہوتا ہے کہ بیجنگ بھی اسی نوعیت کی شراکت داری برقرار رکھنے کا خواہش مند ہے۔ غیرجانبدارانہ زاویے سے دیکھا جائے تو یہ تعاون نہ صرف باہمی اعتماد کا مظہر ہے بلکہ اس سے خطے میں امن و...

جلمود-۱: پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے دفاعی تعلقات میں عملی ہم آہنگی کا نیا باب"

Image
تربیلہ میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دو ہفتوں پر مشتمل مشترکہ فوجی مشقیں “جلمود-۱” اپنے اختتام کو پہنچ گئیں، جن کا مقصد انسدادِ دہشت گردی اور یرغمالیوں کی بازیابی کے آپریشنز میں تعاون اور مہارت کو فروغ دینا تھا۔ اس مشق میں یو اے ای کے صدارتی گارڈز اور پاکستان کی اسپیشل سروسز گروپ (SSG) نے حصہ لیا۔ اختتامی تقریب میں اعلیٰ فوجی و دفاعی حکام کے ساتھ ساتھ اماراتی سفارت کاروں کی موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ دونوں ممالک دفاعی شراکت داری کو ایک مستحکم اور دیرپا تعاون میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔ مشق “جلمود-۱” ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کے شمال مغربی اور سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس پس منظر میں یرغمالیوں کی بازیابی اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے جدید تربیت کا حصول نہ صرف ضروری بلکہ ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔ جلمود-۱ نے دونوں ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کے آپریشنل تجربات سے سیکھنے کا موقع فراہم کیا، جس سے نہ صرف فیلڈ اسکلز میں بہتری آئے گی بلکہ انٹیلیجنس شیئرنگ اور مشترکہ حکمتِ عملی کے امکانات بھی بڑھیں گے۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات ک...

کینسر کے خلاف عالمی تعاون پاکستان اور چین کی مشترکہ پیش رفت۔

Image
چین کے شہر کنمنگ میں ہونے والی 2025 چین کانفرنس آن ہولسٹک انٹیگریٹو آنکولوجی (CCHIO) میں پاکستان کی شمولیت صحت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرتی ہے۔ پاکستان کی نمائندگی چین-پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر محمد شہباز نے کی، جنہوں نے اس کانفرنس کو کینسر کے خلاف عالمی جنگ میں ایک موڑ قرار دیا۔ اس موقع پر چین اینٹی کینسر ایسوسی ایشن کی علاجی رہنما ہدایات (Guidelines) کا اردو ترجمہ جاری کیا گیا — جو پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے معیاری، شواہد پر مبنی علاج کے دروازے کھولنے کی جانب ایک عملی قدم ہے۔ ڈاکٹر شہباز نے تجویز پیش کی کہ نشتَر میڈیکل یونیورسٹی (ملتان) اور کنمنگ میڈیکل یونیورسٹی کے درمیان "سسٹر یونیورسٹی پارٹنرشپ" قائم کی جائے، تاکہ تحقیق، تربیت، اور طلبہ کے تبادلے کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ جدید ریڈیوتھراپی ٹیکنالوجی، خاص طور پر KylinRay MELAC Linear Accelerator کی ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر بھی بات چیت ہوئی، جس سے پاکستان میں علاج کی لاگت کم ہونے اور سہولیات کے معیار میں بہتری کی امید ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ ہیلتھ کیئر سینٹر کے ساتھ ملاقاتوں میں پاکست...

*پی ٹی آئی کے سابق راہنما میدان میں واپس، عمران خان کی رہائی کی کوششیں تیز*

Image
تعارف سابق وزیراعظم عمران خان اگست 2023 سے مختلف مقدمات میں قید ہیں۔ حال ہی میں پی ٹی آئی کے سابق اہم رہنما ایک بار پھر سرگرم ہو گئے ہیں، جو سیاسی تناؤ کم کرنے اور خان کی رہائی کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔ اہم نکات - فواد چودھری، عمران اسماعیل اور محمود مولوی نے حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ - جمعہ کو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ملاقات متوقع ہے، جس میں مکالمہ بحال کرنے پر بات ہو گی۔ - قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور مولانا فضل الرحمان سے بھی ملاقاتوں کا پروگرام زیر غور ہے۔ - ملاقاتوں کے بعد یہ وفد عادل آباد جیل میں عمران خان سے بھی ملاقات کرے گا۔ فواد چودھری کی گفتگو فواد چودھری نے پی ایم ایل کیو کے سربراہ چودھری شجاعت حسین سے ملاقات کی اور سیاسی حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تلخی کم کرنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہئے۔ نتیجہ پی ٹی آئی کے سابق رہنماؤں کی یہ کوششیں عمران خان کی رہائی اور ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کو کم کرنے کی امید دلا رہی ہیں۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، تمام فریقین کے درمیان مکالمہ ہی وا...

پاکستان کا سیاسی بحران: مکالمے کی گنجائش یا مزاحمت کا تسلسل؟

Image
پاکستان کی سیاسی تاریخ ہمیشہ تضادات سے بھری رہی ہے — ایک طرف عوامی مقبولیت کے حامل رہنما، اور دوسری طرف طاقتور ادارے جن کے بغیر اقتدار کی راہیں مسدود نظر آتی ہیں۔ عمران خان کا جیل سے آنا والا سخت لہجہ اور فوجی قیادت پر براہِ راست تنقید اس بات کی علامت ہے کہ سیاسی تناؤ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ ان کے سابق ساتھیوں فواد چوہدری، عمران اسماعیل، اور محمود مولوی کی جانب سے مصالحتی کردار ادا کرنے کی کوشش اگرچہ ایک نرم سیاسی رویے کا اظہار ہے، لیکن عمران خان کی جانب سے مذاکرات سے انکار نے ان کی مہم کو متزلزل کر دیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان عدم توازن اب محض بیانیے کا حصہ نہیں رہا، بلکہ عملی سیاست کا مرکزی مسئلہ بن چکا ہے۔ عمران خان کے مؤقف کو عوامی سطح پر اب بھی ایک بڑی حمایت حاصل ہے، مگر ان کی سخت گیر حکمتِ عملی انہیں سیاسی تنہائی کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔ دوسری جانب، حکومت اور فوجی اداروں کی جانب سے سخت اقدامات، سوشل میڈیا پر پابندیاں، اور مقدمات کا تسلسل اس بات کا مظہر ہے کہ ریاستی طاقت اپنی گرفت مضبوط رکھنا چاہتی ہے۔ ایسے میں فواد ...

"عدالتی احکامات اور سیاسی مقدمات ایک توازن کی تلاش"

Image
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سلمان اکرم راجہ اور عمران خان کی ملاقات یقینی بنانے کا حکم ملک میں جاری سیاسی مقدمات کے تناظر میں ایک اہم عدالتی پیش رفت ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ عدالتیں اس وقت سیاسی و قانونی معاملات میں شفافیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سلمان اکرم راجہ کا یہ کہنا کہ گزشتہ عدالتی حکم کے باوجود ملاقات نہیں ہو سکی، اس امر کی علامت ہے کہ عدالتی احکامات اور انتظامی عمل درآمد کے درمیان اب بھی خلا موجود ہے۔ یہ صورتِ حال محض ایک شخص یا ایک جماعت کا معاملہ نہیں بلکہ عدالتی نظام کے مؤثر نفاذ کا امتحان بھی ہے۔ اگر کسی قانونی نمائندے کو اپنے موکل سے ملاقات کے لیے عدالت کا بار بار رجوع کرنا پڑے تو یہ نظامِ انصاف کی سست روی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس تناظر میں عدلیہ کی براہِ راست نگرانی ایک وقتی حل تو ہے، مگر مستقل اصلاحات کے بغیر ایسے مسائل دوبارہ جنم لے سکتے ہیں۔ آج کے عدالتی فیصلے نے کم از کم یہ واضح کر دیا ہے کہ عدلیہ سیاسی دباؤ کے باوجود بنیادی حقوق کے تحفظ کی پابند ہے۔ تاہم، حقیقی چیلنج یہ ہے کہ ریاستی ادارے عدالتی فیصلوں پر بروق...