تیل کی قیمتوں میں افراتفری: ٹرمپ کی دھمکی اور آبنائے ہرمز کا بحران
عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ چند روز سے شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف نئی اور انتہائی سخت دھمکیاں ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں واضح کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کے لیے منگل کی رات تک نہ کھولا تو وہ ایرانی پل اور بجلی گھروں کو تباہ کر دیں گے ۔ اس اعلان کے فوری بعد برینٹ کروڈ کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل کے اوپر جا پہنچی ۔ یہ صورتحال محض تیل کی قیمتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی اقتصادی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی ۲۰ فیصد تیل کی سپلائی کا راستہ ہے ۔ جب ایران نے اس پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تو بیمہ کمپنیوں نے ٹینکرز کے پریمیم میں اضافہ کر دیا اور شپنگ کمپنیوں نے متبادل راستے تلاش کرنے شروع کر دیے، جس سے لاگت میں مزید اضافہ ہوا ۔ درحقیقت، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہی تو مہنگائی کی شرح اتنی بڑھ سکتی ہے جتنی 2022 کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔ عالمی اثرات سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا اثر صرف مغرب تک محدود رہے گا؟ بالکل نہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے ...