Posts

Showing posts with the label مہاجرین

سفارتی ڈھال کے پیچھے جاسوسی: ایران کا یورپی نیٹ ورک اور اس کا خاتمہ

Image
  سفارتی استثنیٰ بین الاقوامی تعلقات کی ایک اہم اساس ہے، لیکن جب کوئی ملک اس ڈھال کو جاسوسی، دہشت گردی کی مالی معاونت، اور مخالفین کی نگرانی کے لیے استعمال کرتا ہے تو پھر یہ ایک سنگین خطرہ بن جاتا ہے۔ ایران کے سفارتی مشنز یورپ میں صرف سفارت کاری نہیں کر رہے بلکہ انٹیلیجنس آپریشنز، ڈائسپورا کی نگرانی، اور اثر و رسوخ کی کارروائیوں کا مرکز بن چکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یورپ اس بڑھتے ہوئے خطرے کو روکنے کے لیے تیار ہے؟ پس منظر: فرانس میں نصف صدی کی دراندازی فرانس۲۰۵۰ کی ۱۲۰ صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق، ایران نے فرانس میں نصف صدی پر محیط "ساختہ دراندازی کا نظام" قائم کیا ہے، جس کا مرکز پیرس میں ایران کا سفارت خانہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سفارت خانے کے نمبر دو شخص علی رضا خلیلی نے تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور میڈیا میں ممکنہ رابطوں کی شناخت اور بھرتی کرنے کا نیٹ ورک بنایا۔ رپورٹ کے شریک مصنف ایڈرین کالامیل کے مطابق، "جب آپ ۴۷ سال کے اس نیٹ ورک کو بڑھنے دیتے ہیں تو… فرانس میں اثر و رسوخ کی سطح بہت زیادہ ہے"۔ تجزیہ: صحافیوں اور مہاجرین کو نشانہ بنانا یہ صرف فرانس...

اسپین میں تارکین وطن کا نیا بحران: سیوٹا پہنچنے والے سیکڑوں افراد اور سرحدی چیلنجز

Image
  ۲۹ جولائی ۲۰۲۶ کو اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا کی سرحد پر ایک غیر معمولی صورتحال پیش آئی جب سیکڑوں تارکین وطن نے مراکش کی ساحلی پٹی سے تیر کر سیوٹا کی سرحد عبور کر لی ۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مراکش نے اپنی پولیس کی موجودگی کم کر دی اور تارکین وطن کو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سمندر کے راستے سیوٹا پہنچنے کا موقع ملا ۔ اسپین میں تارکین وطن کا نیا بحران کیوں پیدا ہوا؟ یہ بحران ۲۰۲۵ سے جاری تارکین وطن کی لہر کا تازہ ترین باب ہے ۔ اس سے قبل سیوٹا اور میلیلا میں بنگلہ دیشی اور ہندوستانی تارکین وطن کو ۲۰۰۵ سے ۲۰۱۱ کے درمیان عارضی مراکز میں رکھا گیا تھا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افریقہ کے مختلف ممالک میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی مشکلات اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں ۔ کیا اسپین کی سرحدی سیکورٹی کمزور ہو گئی ہے؟ سیوٹا میں یہ واقعہ اسپین کی سرحدی سیکورٹی پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے ۔ اگرچہ اسپین کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے اضافی فورسز تعینات کر دی ہیں، لیکن سیکڑوں تارکین وطن کا ایک ساتھ سرحد عبور کرنا یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس سے قبل ۲۰۲۵ میں ...

ایران جنگ اور یورپ کا نیا پناہ گزین بحران: کیا یورپ اپنے دروازے بند کرنے کی تیاری کر رہا ہے؟

Image
مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے اثرات یورپ کی سرحدوں تک پہنچنا اب صرف وقت کی بات ہے۔ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی  کے بعد خطے میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، وہ یورپ کے لیے ایک نئے پناہ گزین بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یورپ اس بار پہلے سے زیادہ تیار ہے؟ یا پھر وہی کہانی دہرائی جائے گی جو ۲۰۱۵ میں شام کی جنگ کے دوران دیکھنے میں آئی تھی؟ خطرے کا اندازہ: ۹۰ ملین افراد کا مسئلہ یورپی یونین کی پناہ گزین ایجنسی نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ ایران کی ۹۰ ملین کی آبادی کا اگر صرف ۱۰ فیصد بھی بے گھر ہوتا ہے، تو یہ پچھلی چند دہائیوں کی سب سے بڑی پناہ گزین لہروں میں سے ایک ہوگی ۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جسے یورپی اداروں نے خود تسلیم کیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک ایرانی باشندوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع نہیں ہوئی ، لیکن جنگ کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار سے صورتحال انتہائی غیر یقینی ہو گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ۲۰۲۵ میں یورپ میں پناہ گزینوں کی درخواستوں میں ۱۹ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی ۔ افغانستان کے شہری ...