Posts

Showing posts with the label آبنائے ہرمز

مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ کا تریخی دفاعی معاہدہ

Image
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران-امریکہ جنگ کے پس منظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ ایک ایسے تریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں جو خطے کی عسکری سیاست کو یکسر تبدیل کر سکتا ہے ۔ پاکستان سعودی عرب ترکیہ دفاعی معاہدہ اتوار ۷ اگست ۲۰۲۶ کو جدہ میں ایک اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس میں طے پائے گا، جس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان، اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف شرکت کریں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ معاہدہ محض ایک علامتی اقدام ہے یا یہ ایک نئے "اسلامی نیٹو" کی بنیاد بن سکتا ہے؟ پس منظر: موجودہ دفاعی معاہدوں سے نیا اتحاد تک ستمبر ۲۰۲۵ میں پاکستان اور سعودی عرب نے ایک اسٹریٹجک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی بھی ملک پر حملے کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا ۔ اب اس معاہدے کو وسعت دے کر ترکیہ کو بھی اس میں شامل کیا جا رہا ہے ۔ اس معاہدے پر تقریباً ایک سال سے مذاکرات جاری تھے، لیکن حالیہ علاقائی پیشرفتوں — خاص طور پر ایران-امریکہ جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش — نے اس عمل کو تیز کر دیا ہے ۔ تجزیہ: تین...

ایران کا اصلی چہرہ: مافیا طرز حکمرانی یا ریاستی دہشت گردی؟

Image
یہ سوال آج عالمی سیاست میں بار بار اٹھ رہا ہے۔ ایران کی مافیا ریاست نے اپنے رویے سے ثابت کر دیا ہے کہ یہ نہ تو بین الاقوامی قانون کا احترام کرتی ہے اور نہ ہی پڑوسی ممالک کی خودمختاری کو اہمیت دیتی ہے ۔ حالیہ دنوں میں ایران نے کویت اور بحرین پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونوں سے حملے کیے، جن میں سات میزائل فائر کیے گئے ۔ کویت انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا مسافر ٹرمینل تباہ ہوا، ایک شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی ریاست کے ساتھ سفارت کاری ممکن ہے جو تشدد کو اپنی پہلی ترجیح بنائے؟ کویت اور بحرین پر حملے کا مقصد کیا تھا؟ ۶ جون ۲۰۲۶ کو ایران نے کویت اور بحرین کی طرف متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون فائر کیے ۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق، یہ حملے کویت میں واقع علی السلیم ایئربیس (جہاں امریکی افواج موجود ہیں) اور بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ۔ خوش قسمتی سے، امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظاموں نے تین ایرانی میزائلوں اور متعدد ڈرونوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ۔ کویت کی وزارت دفاع نے اس حملے کو "کھلی جارحیت" اور "بین ال...

آبنائے ہرمز میں "پروجیکٹ فریڈم": امریکا کا انسانی جہاز روانگی

Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ۴ مئی ۲۰۲۶ کو آبنائے ہرمز میں پھنسی ہوئی تجارتی جہازوں کو نکالنے کے لیے "پروجیکٹ فریڈم" کے نام سے فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ۔ ٹرمپ کے مطابق یہ ایک "انسانی اقدام" ہے جس کا مقصد غیر جانبدار ممالک کی جہازوں کو خوراک اور اشیائے ضروریہ کی قلت سے بچانا ہے ۔ تاہم، ایران نے اس منصوبے کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی غیر ملکی فوج آبنائے میں داخل ہوگی تو اسے نشانہ بنایا جائے گا ۔ آبنائے ہرمز میں بحران کا پس منظر آبنائے ہرمز دنیا کی ۲۰ فیصد تیل کی ترسیل کا راستہ ہے اور گزشتہ دو ماہ سے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے آبنائے کو بند کرنے کے بعد یہ تجارتی قافلے جام ہو گئے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق تقریباً ۲۰۰۰ جہاز اور ۲۰،۰۰۰ ملاح خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا شکار ہیں ۔ "پروجیکٹ فریڈم" کیا ہے؟ یہ منصوبہ دراصل امریکی فوج کی طرف سے ایک "محفوظ راہداری" قائم کرنے کی کوشش ہے۔ امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام...

امریکہ ایران مذاکرات: سفارتی کھیل میں نیا موڑ، ٹرمپ کی کال کی پیشکش اور پاکستان کی الجھن

Image
  دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں سفارتی کھیل ایک بار پھر دلچسخ موڑ پر آ گیا ہے۔ ایران امریکہ مذاکرات کے سلسلے میں ایک طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واپس اسلام آباد کا رخ کر لیا تو دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے وفود کے بھاری بھرکم سفر کی بجائے ٹیلی فون پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اس پیش رفت نے خطے کے امن کی امیدیں تو بڑھا دی ہیں، لیکن پاکستان کے لیے ثالث کی حیثیت سے مشکلات بھی پیدا کر دی ہیں ۔ پاکستان کی ثالثی: مشکل ترین سفارتی آزمائش پاکستان کے لیے یہ لمحات سفارتی طور پر انتہائی نازک ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے دیرینہ اتحادی امریکہ ہیں تو دوسری طرف سرحد بانٹنے والا پڑوسی ملک ایران۔ ایسے میں پاکستان نے خود کو ثالث کے کردار میں ڈال رکھا ہے، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی شدید کمی اس ثالثی کو انتہائی مشکل بنا رہی ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کی ہیں، لیکن ابھی تک کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی ۔ پاکستان کی یہ کوشش صرف سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ اسے خطے میں اپنی س...

تیل کی قیمتوں میں افراتفری: ٹرمپ کی دھمکی اور آبنائے ہرمز کا بحران

Image
عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ چند روز سے شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف نئی اور انتہائی سخت دھمکیاں ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں واضح کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کے لیے منگل کی رات تک نہ کھولا تو وہ ایرانی پل اور بجلی گھروں کو تباہ کر دیں گے ۔ اس اعلان کے فوری بعد برینٹ کروڈ کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل کے اوپر جا پہنچی ۔ یہ صورتحال محض تیل کی قیمتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی اقتصادی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی ۲۰ فیصد تیل کی سپلائی کا راستہ ہے ۔ جب ایران نے اس پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تو بیمہ کمپنیوں نے ٹینکرز کے پریمیم میں اضافہ کر دیا اور شپنگ کمپنیوں نے متبادل راستے تلاش کرنے شروع کر دیے، جس سے لاگت میں مزید اضافہ ہوا ۔ درحقیقت، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہی تو مہنگائی کی شرح اتنی بڑھ سکتی ہے جتنی 2022 کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔ عالمی اثرات سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا اثر صرف مغرب تک محدود رہے گا؟ بالکل نہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے ...

آبنائے ہرمز: ٹرمپ کی دھمکیاں — دباؤ کا حربہ یا حقیقی خطرہ؟

Image
مارچ ۲۰۲۶ کے آغاز میں دنیا نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے کئی دہائیوں پرانی جغرافیائی سیاست کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ۔ یہ فیصلہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر حملوں کے بعد سامنے آیا، جس میں ایران کے اعلیٰ ترین فوجی اور سیاسی رہنما بھی مارے گئے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا بھر میں خام تیل کی سپلائی کو مفلوج کر دیا ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں افراتفری مچ گئی ہے۔ کیا ٹرمپ کی دھمکیاں محض دباؤ کا حربہ ہیں؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب سے یہ جنگ شروع کی ہے، الفاظ کے ہتھیار کو خوب استعمال کیا ہے۔ انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو ایران پر اتنی شدت سے حملہ کیا جائے گا جیسا کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ تاہم، ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ انداز نیا نہیں ہے۔ سن ۲۰۱۷ میں شمالی کوریا کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ اپنایا گیا تھا، جہاں ’فائر اینڈ فیوری‘ کی دھمکیاں دینے کے بعد بالآخر سفارتی مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی ۔ اس لیے بہت سے تجزیہ کار ان دھمکیوں کو ایران پر دباؤ ڈالنے کا ایک حربہ سمجھتے ہیں تاکہ وہ نیوکل...

ایران جنگ اور یورپ کا نیا پناہ گزین بحران: کیا یورپ اپنے دروازے بند کرنے کی تیاری کر رہا ہے؟

Image
مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے اثرات یورپ کی سرحدوں تک پہنچنا اب صرف وقت کی بات ہے۔ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی  کے بعد خطے میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، وہ یورپ کے لیے ایک نئے پناہ گزین بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یورپ اس بار پہلے سے زیادہ تیار ہے؟ یا پھر وہی کہانی دہرائی جائے گی جو ۲۰۱۵ میں شام کی جنگ کے دوران دیکھنے میں آئی تھی؟ خطرے کا اندازہ: ۹۰ ملین افراد کا مسئلہ یورپی یونین کی پناہ گزین ایجنسی نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ ایران کی ۹۰ ملین کی آبادی کا اگر صرف ۱۰ فیصد بھی بے گھر ہوتا ہے، تو یہ پچھلی چند دہائیوں کی سب سے بڑی پناہ گزین لہروں میں سے ایک ہوگی ۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جسے یورپی اداروں نے خود تسلیم کیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک ایرانی باشندوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع نہیں ہوئی ، لیکن جنگ کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار سے صورتحال انتہائی غیر یقینی ہو گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ۲۰۲۵ میں یورپ میں پناہ گزینوں کی درخواستوں میں ۱۹ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی ۔ افغانستان کے شہری ...