ایران جنگ اور یورپ کا نیا پناہ گزین بحران: کیا یورپ اپنے دروازے بند کرنے کی تیاری کر رہا ہے؟
مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے اثرات یورپ کی سرحدوں تک پہنچنا اب صرف وقت کی بات ہے۔ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد خطے میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، وہ یورپ کے لیے ایک نئے پناہ گزین بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یورپ اس بار پہلے سے زیادہ تیار ہے؟ یا پھر وہی کہانی دہرائی جائے گی جو ۲۰۱۵ میں شام کی جنگ کے دوران دیکھنے میں آئی تھی؟ خطرے کا اندازہ: ۹۰ ملین افراد کا مسئلہ یورپی یونین کی پناہ گزین ایجنسی نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ ایران کی ۹۰ ملین کی آبادی کا اگر صرف ۱۰ فیصد بھی بے گھر ہوتا ہے، تو یہ پچھلی چند دہائیوں کی سب سے بڑی پناہ گزین لہروں میں سے ایک ہوگی ۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جسے یورپی اداروں نے خود تسلیم کیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک ایرانی باشندوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع نہیں ہوئی ، لیکن جنگ کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار سے صورتحال انتہائی غیر یقینی ہو گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ۲۰۲۵ میں یورپ میں پناہ گزینوں کی درخواستوں میں ۱۹ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی ۔ افغانستان کے شہری ...