Posts

Showing posts with the label یورپ

سفارتی ڈھال کے پیچھے جاسوسی: ایران کا یورپی نیٹ ورک اور اس کا خاتمہ

Image
  سفارتی استثنیٰ بین الاقوامی تعلقات کی ایک اہم اساس ہے، لیکن جب کوئی ملک اس ڈھال کو جاسوسی، دہشت گردی کی مالی معاونت، اور مخالفین کی نگرانی کے لیے استعمال کرتا ہے تو پھر یہ ایک سنگین خطرہ بن جاتا ہے۔ ایران کے سفارتی مشنز یورپ میں صرف سفارت کاری نہیں کر رہے بلکہ انٹیلیجنس آپریشنز، ڈائسپورا کی نگرانی، اور اثر و رسوخ کی کارروائیوں کا مرکز بن چکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یورپ اس بڑھتے ہوئے خطرے کو روکنے کے لیے تیار ہے؟ پس منظر: فرانس میں نصف صدی کی دراندازی فرانس۲۰۵۰ کی ۱۲۰ صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق، ایران نے فرانس میں نصف صدی پر محیط "ساختہ دراندازی کا نظام" قائم کیا ہے، جس کا مرکز پیرس میں ایران کا سفارت خانہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سفارت خانے کے نمبر دو شخص علی رضا خلیلی نے تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور میڈیا میں ممکنہ رابطوں کی شناخت اور بھرتی کرنے کا نیٹ ورک بنایا۔ رپورٹ کے شریک مصنف ایڈرین کالامیل کے مطابق، "جب آپ ۴۷ سال کے اس نیٹ ورک کو بڑھنے دیتے ہیں تو… فرانس میں اثر و رسوخ کی سطح بہت زیادہ ہے"۔ تجزیہ: صحافیوں اور مہاجرین کو نشانہ بنانا یہ صرف فرانس...

ایران میں معاشی بحران: طبی شعبے سے توانائی کی منڈیوں تک

Image
ایران کا معاشی بحران اب صرف مہنگائی اور بیروزگاری تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے طبی شعبے کو تباہ کر دیا ہے اور عالمی توانائی کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران میں طبی عملے کے احتجاجات نے اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ معاشی مشکلات اب طبی پیشے کو بھی تباہ کر رہی ہیں اور یورپ میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یورپ اس بحران کو روکنے کے لیے کوئی کردار ادا کر سکتا ہے؟ پس منظر: ایران میں مہنگائی کی بدترین شرح ایران کا مرکزی بینک تسلیم کرتا ہے کہ مئی ۲۰۲۶ میں سالانہ افراط زر کی شرح ۷۷.۲ فیصد تک پہنچ گئی، جو ۱۹۴۲ کے بعد ایران میں مہنگائی کی بدترین شرح ہے ۔ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں خوردنی تیل ۴۳۰ فیصد، انڈے ۳۴۵ فیصد، چاول ۲۸۷ فیصد، اور دودھ ۱۳۹ فیصد مہنگا ہو گیا ۔ ایک ماہانہ اجرت صرف ۸۸ ڈالر ہے، جو اس مہنگائی میں کسی بھی خاندان کو انتہائی غربت میں دھکیل دیتی ہے ۔ ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ تجزیہ: طبی عملے پر کریک ڈاؤن اور عالمی ردعمل مارچ ۲۰۲۶ میں تہران کے گاندھی ہسپتال پر امریکی-اسرائیلی حملے کے بعد ۱۰۰ سے زائد طبی عملے نے احتجاج کیا ۔ ایک طب...

امن و استحکام کے لیے خطرہ" – مسلم برادران کا یورپ اور امریکہ میں خفیہ ایجنڈا

Image
ایک خفیہ دستاویز جسے "۱۹۹۱ کی ایکسپلینیٹری میمورنڈم" کہا جاتا ہے، مسلم برادران کے اصل چہرے سے پردہ اٹھاتی ہے۔ اس دستاویز میں تنظیم نے مغربی تہذیب کو "اندر سے تباہ کرنے اور ختم کرنے" کے منصوبے کو "تہذیبی جہاد" کا نام دیا۔ تین دہائیوں بعد یہ منصوبہ حقیقت میں بدلتا نظر آ رہا ہے۔ مسلم برادران کی یورپ اور امریکہ میں کیا سرگرمیاں ہیں؟ مسلم برادران نے یورپ اور شمالی امریکہ میں ایک وسیع نیٹ ورک بنا لیا ہے۔ مساجد، اسکول، خیراتی ادارے اور این جی اوز اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ فرانسیسی حکومت کی خفیہ رپورٹ کے مطابق ، یہ تنظیم "اسٹریٹجک ابہام" کے ذریعے جمہوری معاشروں کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ US has included pursuing the Muslim Brotherhood in Sudan as part of the priorities of its new counterterrorism strategy. https://t.co/0mCfFRDspk — The Sudan Times (@thesudantimes) May 8, 2026 کینیڈا – امریکہ کے لیے خطرے کا گیٹ وے برطانوی کولمبیا کی سرحد کے پار، کینیڈا میں مسلم برادران کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے شدت پ...

ایران جنگ اور یورپ کا نیا پناہ گزین بحران: کیا یورپ اپنے دروازے بند کرنے کی تیاری کر رہا ہے؟

Image
مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے اثرات یورپ کی سرحدوں تک پہنچنا اب صرف وقت کی بات ہے۔ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی  کے بعد خطے میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، وہ یورپ کے لیے ایک نئے پناہ گزین بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یورپ اس بار پہلے سے زیادہ تیار ہے؟ یا پھر وہی کہانی دہرائی جائے گی جو ۲۰۱۵ میں شام کی جنگ کے دوران دیکھنے میں آئی تھی؟ خطرے کا اندازہ: ۹۰ ملین افراد کا مسئلہ یورپی یونین کی پناہ گزین ایجنسی نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ ایران کی ۹۰ ملین کی آبادی کا اگر صرف ۱۰ فیصد بھی بے گھر ہوتا ہے، تو یہ پچھلی چند دہائیوں کی سب سے بڑی پناہ گزین لہروں میں سے ایک ہوگی ۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جسے یورپی اداروں نے خود تسلیم کیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک ایرانی باشندوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع نہیں ہوئی ، لیکن جنگ کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار سے صورتحال انتہائی غیر یقینی ہو گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ۲۰۲۵ میں یورپ میں پناہ گزینوں کی درخواستوں میں ۱۹ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی ۔ افغانستان کے شہری ...