اسلام آباد ہائی کورٹ میں £190 ملین کیس: سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت 11 مارچ کو طے.
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی £190 ملین (القادر ٹرسٹ) کرپشن کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر 11 مارچ کو سماعت طے کر دی ہے۔ یہ کیس جس میں الزام ہے کہ PTI حکومت کے دوران برطانیہ سے واپس کیے گئے 50 ارب روپے کی قانونی حیثیت دینے کے لیے بحریہ ٹاؤن سے اربوں روپے اور زمین حاصل کی گئی، ایک اہم قانونی اور سیاسی تنازع ہے۔ عدالت نے دفتر کی اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے سماعت کی تاریخ فکس کی جبکہ عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان سردار نے فوری سماعت کی درخواست کی وجہ ان کی آنکھ کی اچانک بیماری اور بشریٰ بی بی کی سات سالہ سزا کو قرار دیا۔ عدالت نے PTI وکلاء کی جانب سے ایک ساتھ روسٹرم پر آنے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ کیا عدالت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت عدالتی عمل کی شفافیت کو ظاہر کرتی ہے مگر ساتھ ہی سیاسی مقدمات میں تاخیر کے الزامات کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں ہیں اور متعدد کیسز میں سزائیں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جو ان کے قانونی سفر کی پیچیدگی کو بڑھاتے ہیں۔
ایک متعلقہ پیش رفت میں ٹوشاخانہ 2.0 کیس میں بھی سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراضات ہٹا کر سماعت طے کرنے کا حکم دیا گیا ہے جہاں دسمبر 2025 میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ PTI رہنماؤں بشمول علیمہ خانم، سلمان اکرم راجہ اور گوہر علی خان نے تاخیر پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ عدالتی پالیسی کے مطابق ایسی درخواستوں کو 35 سے 60 دن میں فیصلہ ہونا چاہیے مگر یہ ایک سال سے زیر التوا ہیں۔ یہ الزامات عدالتی عمل کی رفتار اور فریقین کے حقوق کے تحفظ پر سوال اٹھاتے ہیں۔ عدالت کا یہ فیصلہ کہ درخواستوں کو مرکزی اپیلوں کے ساتھ ہی سنا جائے گا، مقدمات کی موثر سماعت کی طرف ایک قدم ہے۔ غیر جانبدار طور پر دیکھا جائے تو یہ اقدامات عدالتی نظام کی آزادی اور بروقت انصاف کی کوششوں کو ظاہر کرتے ہیں مگر سیاسی تنازعات میں تاخیر کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد برقرار رہے۔
آخر میں، یہ سماعت کی تاریخ طے ہونا ایک یاد دہانی ہے کہ قانونی عمل میں صبر اور طریقہ کار کی پابندی دونوں ضروری ہیں۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے متعدد کیسز، جن میں ٹوشاخانہ، القادر ٹرسٹ اور مئی 9 کے واقعات شامل ہیں، ملک کے سیاسی منظر نامے کو متاثر کر رہے ہیں۔ اگر عدالتیں بروقت فیصلے کرتی رہیں اور فریقین عدالت کے احترام کو برقرار رکھیں تو یہ تنازعات قانونی دائرے میں حل ہو سکتے ہیں۔ امید ہے کہ 11 مارچ کی سماعت نہ صرف درخواستوں پر غور کرے گی بلکہ مجموعی طور پر انصاف کی فراہمی میں ایک مثبت کردار ادا کرے گی۔ عدالتیں جب آزادانہ اور موثر طریقے سے کام کریں تو ملک میں استحکام اور جمہوریت مضبوط
Comments
Post a Comment