کیا نتن یاہو واقعی قتل ہو گئے؟ وائرل ویڈیو اور غائب ہونے کی حقیقت

 



ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے مشرق وسطیٰ کو ایک بار پھر تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ مگر اس جنگ کے بیچ ایک اور جنگ سوشل میڈیا پر لڑی جا رہی ہے، جس کا مرکز اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کی مبینہ موت یا اغوا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے وائرل ہونے والی ویڈیوز، ان کی فوجی اجلاسوں میں غیر حاضری اور بیٹے کی خاموشی نے قیاس آرائیوں کو اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ لوگ سوال کر رہے ہیں: کیا نتن یاہو زندہ ہیں یا وہ ایرانی حملے کا نشانہ بن چکے ہیں؟ 

قیاس آرائیوں کا آغاز کیسے ہوا؟

یہ افواہیں پہلی بار اس وقت پھیلنا شروع ہوئیں جب ایرانی خبر رساں ادارے تسمیم نیوز ایجنسی نے نو مارچ دو ہزار چھببیس کو رپورٹ شائع کی کہ ممکنہ طور پر نتن یاہو ایرانی میزائل حملے میں ہلاک یا شدید زخمی ہو گئے ہیں ۔ اس رپورٹ میں ان کی عوامی نمائش میں کمی، سیکیورٹی میں اضافے اور امریکی وفد کے دورہ اسرائیل ملتوی ہونے جیسے واقعات کو بنیاد بنایا گیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی خبر رساں ایجنسی نے مزید دعویٰ کیا کہ نتن یاہو کا کوئی سراغ نہیں مل رہا اور ان کا طیارہ ممکنہ طور پر برلن یا قبرص میں محفوظ مقام پر کھڑا ہے ۔ حالانکہ ان دعوؤں کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی، لیکن سوشل میڈیا پر یہ بات آگ کی طرح پھیل گئی۔

چھ انگل والا معمہ: اے آئی ویڈیو یا پروپیگنڈا؟

تیرہ مارچ دو ہزار چھببیس کو نتن یاہو کا ایک ویڈیو بیان ان کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے جاری کیا گیا۔ یہ ویڈیو ان لوگوں کے لیے ایک جواب تھا جو ان کی غیر موجودگی پر سوال اٹھا رہے تھے۔ مگر اس ویڈیو نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

ناظرین نے دیکھا کہ ایک فریم میں نتن یاہو کے دائیں ہاتھ میں چھ انگل نظر آ رہے ہیں ۔ یہ معمہ ان لوگوں کے لیے ایک ثبوت بن گیا جو یہ مانتے ہیں کہ نتن یاہو یا تو مر چکے ہیں یا شدید زخمی ہیں، اور یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے بنائی گئی ہے۔

ایک صارف نے لکھا: "یہ چھٹی انگلی ثابت کرتی ہے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے۔ اصلی نتن یاہو کی جگہ اے آئی نے ان کا چہرہ کسی اور کے جسم پر لگا دیا ہے۔"

مگر کیا واقعی ایسا ہے؟ ماہرین اور حقائق جانچنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو میں کوئی ہیرا پھیری ثابت نہیں ہوتی ۔ یہ ممکن ہے کیمرے کے زاویے، روشنی یا ویڈیو کمپریشن کی وجہ سے انگلیوں کی تعداد غلط نظر آئی ہو۔ گوگل کی جی ایم ایم اے اور دیگر ٹولز نے بھی اس ویڈیو کو اے آئی سے تیار کردہ قرار دینے سے انکار کیا ہے ۔

نتن یاہو کا بیٹا اور فوجی اجلاس میں غیر حاضری

ان قیاس آرائیوں کو ہوا دینے والے دیگر عوامل میں نتن یاہو کے بیٹے یائیر نتن یاہو کی سوشل میڈیا پر خاموشی شامل ہے۔ یائیر جو عموماً دن میں پچاس سے ساٹھ پوسٹس شیئر کرتے ہیں، نو مارچ سے مکمل طور پر خاموش ہیں ۔

ساتھ ہی، تل ابیب میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس کی خبر آئی جس کی صدارت وزیردفاع اسرائیل کاٹز نے کی، مگر اس اجلاس میں وزیراعظم شریک نہیں ہوئے ۔ یہ دونوں واقعات ان لوگوں کے لیے مزید ایندھن بن گئے جو نتن یاہو کی موت کا نظریہ پیش کر رہے ہیں۔

سرکاری تردید: کیا یہ محض "جعلی خبریں" ہیں؟

ان تمام افواہوں کے درمیان اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ترک نیوز ایجنسی انادولو سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ "یہ جعلی خبریں ہیں، وزیراعظم بالکل ٹھیک ہیں" ۔

انادولو کی رپورٹ کے مطابق، دفتر نے تصدیق کی کہ نتن یاہو محفوظ ہیں اور وہ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ مزید برآں، چودہ مارچ کو نتن یاہو کا ایک اور ویڈیو بیان جاری کیا گیا جس میں وہ ایرانی قیادت کو خبردار کر رہے تھے ۔

ایرانی ردعمل: "اگر زندہ ہے تو قتل کریں گے"

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے پندرہ مارچ کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا: "اگر یہ بچے قتل کرنے والا مجرم زندہ ہے تو ہم پوری قوت سے اس کا تعاقب جاری رکھیں گے اور اسے قتل کریں گے" ۔

اس بیان میں "اگر زندہ ہے" کے الفاظ نے مزید سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا ایرانی ذرائع خود اس بارے میں یقین نہیں رکھتے کہ نتن یاہو زندہ ہیں یا نہیں؟ یا یہ محض ایک نفسیاتی حربہ ہے؟


حقائق کیا کہتے ہیں؟

جب ہم تمام شواہد کو اکٹھا کرتے ہیں تو درج ذیل حقائق سامنے آتے ہیں

پہلا: نتن یاہو کا آخری مصدقہ عوامی خطاب تیرہ مارچ دو ہزار چھببیس کو ہوا تھا ۔

دوسرا: اس سے قبل وہ دس مارچ کو مقامی کونسل کے سربراہان سے ملے اور نیشنل ہیلتھ کمانڈ سینٹر کا دورہ کیا ۔

تیسرا: ان کا دفتر مسلسل ان کی حفاظت اور صحت کی تصدیق کر رہا ہے ۔

چوتھا: "چھ انگل" والی ویڈیو کو ماہرین نے مصنوعی ذہانت کی تیار کردہ قرار دینے سے انکار کیا ہے ۔

نتیجہ: جنگ میں معلومات کا پہلا ہتھیار

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ افواہیں کیوں پھیلائی جا رہی ہیں؟ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ جدید جنگوں میں معلومات ہی سب سے بڑا ہتھیار ہوتی ہیں۔ جب دشمن کو میدان جنگ میں شکست نہیں دی جا سکتی تو اس کی قیادت پر اعتماد کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ایرانی میڈیا کی جانب سے پھیلائی جانے والی یہ افواہیں اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تسمیم نیوز ایجنسی جیسے ادارے جو براہ راست آئی آر جی سی سے منسلک ہیں، ایسی خبریں شائع کر رہے ہیں۔

اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل قریب میں ہم دیکھیں گے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ ڈیپ فیک ویڈیوز اور جعلی خبروں کا استعمال بڑھے گا۔ حقیقت میں، نتن یاہو زندہ ہیں اور اسرائیل کی قیادت کر رہے ہیں۔ مگر ان کے گرد موجود یہ افواہیں ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہیں: جنگ میں صرف میدان جنگ ہی نہیں، بلکہ خبروں پر بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

FAQs

سوال: کیا بنیامین نتن یاہو واقعی قتل ہو گئے ہیں؟
جواب: نہیں، بنیامین نتن یاہو کی موت کی افواہیں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے سرکاری طور پر ان کی حفاظت اور صحت کی تصدیق کی ہے۔ وہ دس مارچ کو نیشنل ہیلتھ کمانڈ سینٹر کے دورے پر گئے تھے اور تیرہ مارچ کو ان کا ویڈیو بیان بھی جاری کیا گیا۔

سوال: چھ انگلیوں والی ویڈیو کیسے بنی؟
جواب: یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق کیمرے کے زاویے، روشنی اور ویڈیو کمپریشن کی وجہ سے انگلیوں کی تعداد غلط نظر آئی۔ گوگل کی جی ایم ایم اے اور دیگر ٹولز نے بھی اس ویڈیو کو اے آئی سے تیار کردہ قرار دینے سے انکار کیا ہے۔

سوال: نتن یاہو فوجی اجلاسوں میں کیوں شریک نہیں ہو رہے؟
جواب: وزیراعظم کی فوجی اجلاسوں میں غیر حاضری کا مطلب موت یا اغوا نہیں ہے۔ اکثر اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر شرکت کا شیڈول تبدیل ہو جاتا ہے۔ مزید برآں، چودہ مارچ کو ان کا ایک اور ویڈیو بیان جاری کیا گیا جس میں وہ ایرانی قیادت کو خبردار کر رہے تھے۔

سوال: ایرانی میڈیا یہ افواہیں کیوں پھیلا رہا ہے؟
جواب: یہ جدید جنگ کا ایک حصہ ہے۔ جب دشمن کو میدان جنگ میں شکست نہیں دی جا سکتی تو اس کی قیادت پر اعتماد کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تسمیم نیوز ایجنسی جو براہ راست آئی آر جی سی سے منسلک ہے، ایسی خبریں شائع کر کے نفسیاتی جنگ لڑ رہی ہے۔

سوال: نتن یاہو کا بیٹا خاموش کیوں ہے؟
جواب: یائیر نتن یاہو کی سوشل میڈیا پر خاموشی کو سازش کا حصہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ممکن ہے کہ وہ خاندانی وجوہات، ذاتی مصروفیات یا سیکیورٹی خدشات کی بنا پر خاموش ہوں۔ کسی کی سوشل میڈیا سرگرمی سے ان کی موت یا زندگی کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

سوال: کیا امریکہ نے نتن یاہو کی موت کی تصدیق کی ہے؟
جواب: امریکی حکومت یا کسی بھی بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے نتن یاہو کی موت کی تصدیق نہیں کی ہے۔ تمام معتبر ذرائع کے مطابق وہ زندہ ہیں اور اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ افواہیں صرف غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹس اور ایرانی میڈیا تک محدود ہیں۔

سوال: پاسداران انقلاب کے بیان میں "اگر زندہ ہے" کا کیا مطلب ہے؟
جواب: یہ ایران کی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے۔ "اگر زندہ ہے" کے الفاظ سے وہ افواہوں کو مزید ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر انہیں یقین ہوتا کہ نتن یاہو مر چکے ہیں تو وہ براہ راست دعویٰ کرتے۔ ان کا یہ انداز خود ثابت کرتا ہے کہ ان کے پاس کوئی مصدقہ معلومات نہیں ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پاہلگام حملے سے جنگ بندی تک – پاک بھارت کشیدگی کی مکمل کہانی

آپریشن سندور – بھارتی فوج کی جوابی کارروائی اور اس کے اثرات

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی