یورپ کا نیا مائیگریشن پیکٹ: کیا یورپی یونین خاموشی سے ’آف شور اسائلم زونز‘ تعمیر کر رہی ہے؟

  

کیا یورپ پناہ کے حقداروں کو باہر ہی روکنے کی تیاری کر رہا ہے؟ فروری ۲۰۲٦ میں یورپی پارلیمان نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے پناہ کے قوانین میں مزید سختی کی راہ ہموار کر دی ہے۔ درحقیقت، یہ صرف ایک معمولی ترمیم نہیں بلکہ یورپ کی نقل مکانی پالیسی کا ایک نیا باب ہے، جسے "یورپ کی نئی نقل مکانی پیکٹ" کے نام سے جانا جا رہا ہے۔ اس پیکٹ کے تحت یورپی یونین نے پہلی بار "محفوظ ممالک" کی ایک مشترکہ فہرست منظور کی ہے اور "محفوظ تیسرے ملک" کے تصور کو اتنا وسیع کر دیا ہے کہ اب پناہ کے متلاشی افراد کو ان ممالک سے کوئی حقیقی تعلق نہ ہونے کے باوجود واپس بھیجا جا سکے گا ۔

محفوظ تیسرا ملک‘ کے تصور میں نئی تبدیلیاں

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس نئے تصور میں اتنی خاص بات کیا ہے؟ اس سے قبل کسی پناہ گزین کو کسی تیسرے ملک اس وقت بھیجا جا سکتا تھا جب اس کا اس ملک سے کوئی حقیقی تعلق ہو، مثلاً وہ وہاں رہ چکا ہو یا اس کے وہاں رشتہ دار ہوں۔ لیکن اب یہ شرط ختم کر دی گئی ہے۔ یورپی قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے تین نئے راستے نکالے گئے ہیں: پہلا، اگر درخواست گزار یورپ پہنچنے سے پہلے کسی "محفوظ" ملک سے گزرا ہو (خواہ وہ صرف ٹرانزٹ زون میں ہی کیوں نہ رہا ہو)؛ دوسرا، اگر اس ملک سے کوئی معاہدہ یا انتظام موجود ہو؛ اور تیسرا، پرانا تعلق والا معیار ۔ یہی وجہ ہے کہ اسے یورپ کی نئی نقل مکانی پیکٹ کا سب سے متنازع حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

کون کون سے ممالک ہیں "محفوظ"؟

یورپی یونین نے اپنی پہلی مشترکہ فہرست میں جن ممالک کو "محفوظ" قرار دیا ہے، ان میں بنگلہ دیش، کولمبیا، مصر، ہندوستان، کوسوو، مراکش اور تیونس شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ تمام امیدوار ممالک (جیسے ترکیہ اور جارجیا) بھی اس فہرست میں شمار کیے گئے ہیں ۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ خاص طور پر تیونس کا نام اس فہرست میں شامل کرنا تنقید کی زد میں ہے، جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے واقعات سامنے آئے ہیں، اور افریقی تارکین وطن کو صحراؤں میں چھوڑنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں ۔ گرینز/ای ایف اے گروپ کے رکن پارلیمنٹ ایرک مارکوارڈ کا کہنا ہے کہ مصر یا ترکیہ جیسے ممالک کو "محفوظ" قرار دینا، جہاں انسانی حقوق کے مسائل اچھی طرح دستاویزی ہیں، پناہ گزینوں کے لیے مشکلات پیدا کرے گا اور انہیں خطرے میں ڈال دے گا ۔

اٹلی البانیہ معاہدہ: ایک عملی نمونہ

اسی تناظر میں، ان نئے قوانین کی جھلک اٹلی اور البانیہ کے درمیان ہونے والے معاہدے میں صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ اس معاہدے کے تحت اٹلی البانیہ کی سرزمین پر تارکین وطن کے لیے مراکز قائم کر رہا ہے۔ اسی طرح نیدرلینڈز نے یوگنڈا کے ساتھ اپنے مسترد شدہ پناہ گزینوں کی واپسی کا معاہدہ کیا ہے ۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ یورپی یونین کس طرح "آف شور اسائلم زونز" کی طرف بڑھ رہی ہے، یعنی پناہ کے عمل کو یورپ کی سرزمین سے باہر منتقل کرنا۔

انسانی حقوق بمقابلہ سیاسی بیانیہ

یورپی کمیشن کے مطابق، یہ اقدامات "غیر قانونی نقل مکانی" کو روکنے، سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے، اور مجرم اسمگلرنگ نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے ضروری ہیں ۔ اس پیکٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے اسمگلروں کا کاروبار ختم ہو گا اور جنہیں واقعی تحفظ کی ضرورت ہے، انہیں یورپ میں داخلے کی بجائے کسی "محفوظ" تیسرے ملک میں بھی دیا جا سکتا ہے ۔ تاہم، چالیس سے زائد غیر سرکاری تنظیموں کے اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ قوانین انفرادی طور پر ہر درخواست کے منصفانہ جائزے کے حق کو ختم کر رہے ہیں ۔ آئرلینڈ میں شہری حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ سرحدوں پر بچوں کی حراست جیسی شقیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں ۔

عالمی اثرات: کیا یہ نیا معمول بنے گا؟

اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یورپ کی نئی نقل مکانی پیکٹ نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کے لیے پناہ گزینوں کی پالیسی کا ایک نیا نمونہ بن سکتی ہے۔ برطانیہ کا روانڈا منصوبہ (جسے موجودہ حکومت نے ختم کر دیا) اسی سوچ کا عکاس تھا ۔ اب یورپی یونین نے باضابطہ طور پر اس راستے کو اختیار کر لیا ہے۔ یہ پالیسیاں فروری ۲۰۲٦ میں قانونی شکل اختیار کر چکی ہیں اور جون ۲۰۲٦ سے ان کا نفاذ شروع ہو جائے گا ۔

نتیجہ

یورپ کا یہ نیا نقطہ نظر ظاہری طور پر تو نقل مکانی کو منظم کرنے کا ایک "عملی" حل لگتا ہے، لیکن اس کی بنیاد پناہ کے بنیادی حق پر سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی کوئی ملک اس وقت "محفوظ" ہو سکتا ہے جب وہاں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہو؟ اور کیا پناہ گزینوں کو صرف اس لیے واپس کر دینا چاہیے کہ وہ کسی "محفوظ" ملک سے گزرے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب شاید عدالتیں دیں گی، لیکن اس وقت تک یورپ نے اپنی سرحدوں کو مزید مضبوط کر لیا ہے، چاہے اس کی قیمت اپنی اقدار ہی کیوں نہ ہو۔

FAQs

یورپ نیا مائیگریشن پیکٹ کیا ہے؟
یہ یورپی یونین کی نقل مکانی اور پناہ کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے، جو فروری ۲۰۲٦ میں منظور ہوئی۔ اس کے تحت پناہ کے قوانین سخت کر دیے گئے ہیں، "محفوظ ممالک" کی پہلی مشترکہ فہرست جاری کی گئی ہے، اور تیسرے ممالک میں پناہ کی درخواستوں کے جائزے کو ممکن بنایا گیا ہے ۔

کیا یورپ تارکین وطن کے لیے بیرونی ممالک میں مراکز بنا رہا ہے؟
جی ہاں، اس رجحان کو "آف شور اسائلم" کہا جا رہا ہے۔ اٹلی-البانیہ معاہدہ اس کی تازہ ترین مثال ہے، جہاں البانیہ کی سرزمین پر تارکین وطن کے لیے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح نیدرلینڈز نے یوگنڈا کے ساتھ واپسی کا معاہدہ کیا ہے ۔

"محفوظ تیسرا ملک" کے تصور میں کیا تبدیلی آئی ہے؟
پہلے کسی تیسرے ملک میں پناہ گزین کو اس وقت بھیجا جا سکتا تھا جب اس کا اس ملک سے حقیقی تعلق ہو۔ نئے قوانین میں یہ شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اب محض اس ملک سے گزرنا (ٹرانزٹ) بھی پناہ کی درخواست مسترد کرنے کے لیے کافی ہے ۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں نئے پیکٹ پر کیوں تنقید کر رہی ہیں؟
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قوانین پناہ کے بنیادی حق کو ختم کر رہے ہیں۔ چالیس سے زائد این جی اوز کے اتحاد نے خبردار کیا ہے کہ انفرادی درخواستوں کے منصفانہ جائزے کا حق ختم ہو رہا ہے، اور بچوں کو سرحدوں پر حراست میں لینے جیسی شقیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں ۔

Comments

Popular posts from this blog

پاہلگام حملے سے جنگ بندی تک – پاک بھارت کشیدگی کی مکمل کہانی

آپریشن سندور – بھارتی فوج کی جوابی کارروائی اور اس کے اثرات

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی