پاکستان اور قطر کا افغانستان پر مکالمے کی اپیل: سرحدی کشیدگی کے تناظر میں ایک متوازن جائزہ-

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے دوحہ میں قطر کے نائب وزیراعظم شیخ سعود بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات کے دوران افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور دونوں ممالک نے علاقائی استحکام کے لیے مکالمے، تناؤ میں کمی اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے، خاص طور پر پاکستان کی جانب سے حالیہ فضائی حملوں کے بعد جو مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں پر کیے گئے تھے۔ قطر، جو ماضی میں بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر چکا ہے، اب ایک بار پھر امن کی بحالی کے لیے سفارتی راستے کی حمایت کر رہا ہے۔ یہ اقدام ایک طرف تو علاقائی امن کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے جہاں سرحدی تنازعات سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورا خطہ متاثر ہو سکتا ہے، مگر دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی کی ثالثی کوششیں مستقل حل تک نہیں پہنچ سکیں اور اعتماد کی کمی اب بھی بنیادی رکاوٹ ہے۔ ایک غیر جانبدار نظر سے دیکھا جائے تو یہ مشترکہ اپیل ایک مثبت اشارہ ہے مگر اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا دونوں فریق اسے عملی جامہ پہنا سکتے ہیں یا یہ محض بیان بازی تک محدود رہے گی۔


اس کشیدگی کے پس منظر میں پاکستان کا موقف واضح ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان مخالف گروہوں کی کارروائیاں جاری ہیں اور کابل انتظامیہ انہیں روکنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ افغان طالبان اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان پر سرحدی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہیں۔ قطر کی جانب سے مکالمے کی اپیل اس تناظر میں اہم ہے کیونکہ قطر نے 2021 کے بعد سے افغانستان کے مسائل میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے اور اس کی ثالثی کو دونوں فریقوں نے ماضی میں قبول کیا تھا۔ تاہم حالیہ واقعات، جیسے فضائی حملے اور جوابی فائرنگ، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سرحدی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہنے سے انسانی جانوں کا ضیاع اور معاشی نقصانات بڑھ رہے ہیں۔ متوازن تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ مکالمہ ہی واحد قابل عمل راستہ ہے کیونکہ فوجی تصادم سے کوئی فریق مستقل فتح حاصل نہیں کر سکتا بلکہ یہ علاقائی عدم استحکام کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان اور افغانستان دونوں اس اپیل کو سنجیدگی سے لیں اور اعتماد سازی کے اقدامات اٹھائیں جیسے مشترکہ سرحدی نگرانی یا انٹیلی جنس شیئرنگ تو یہ کشیدگی کم ہو سکتی ہے، البتہ اگر الزام تراشی جاری رہی تو یہ کوششیں بھی ناکام ہو سکتی ہیں۔


آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور قطر کی مشترکہ اپیل افغانستان کے معاملے پر ایک ذمہ دارانہ اور حقیقت پسندانہ نقطہ نظر کو ظاہر کرتی ہے جو علاقائی امن کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ قدم نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہ راست بات چیت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی یہ پیغام دیتا ہے کہ سفارت کاری فوجی آپشنز سے بہتر ہے۔ اگرچہ ماضی کی ناکامیوں سے سبق سیکھتے ہوئے دونوں ممالک کو زیادہ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے مگر یہ مشترکہ بیان ایک اچھی شروعات ہو سکتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت امید افزا ہے بشرطیکہ اسے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے ورنہ سرحدی تنازعات خطے کی ترقی اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے رہیں گے۔ ایک غیر جانبدار رائے یہ ہے کہ مکالمہ، برداشت اور مشترکہ ذمہ داری ہی اس پیچیدہ مسئلے کا پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پاہلگام حملے سے جنگ بندی تک – پاک بھارت کشیدگی کی مکمل کہانی

آپریشن سندور – بھارتی فوج کی جوابی کارروائی اور اس کے اثرات

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی