ٹی وی ہوسٹ جسمین منظور کی خاموشی ٹوٹ گئی ایک المناک حقیقت سامنے آئی.

 

پاکستانی صحافت کی معروف شخصیت جسمین منظور نے حالیہ دنوں ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا۔ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کی گئی تصاویر میں اُن کے چہرے پر واضح چوٹوں کے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔ جسمین نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ زخم اُن کے سابق شوہر کے مبینہ تشدد کا نتیجہ ہیں۔ ان تصاویر کے ساتھ اُنہوں نے لکھا: "یہ میں ہوں۔ یہ میری کہانی ہے۔ ایک ظالم انسان نے میری زندگی تباہ کر دی۔ میں اپنا انصاف اللہ پر چھوڑتی ہوں۔"


جسمین کا یہ قدم نہایت جرأت مندانہ تھا، لیکن اس نے کئی سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ گھریلو تشدد جیسے معاملات میں اکثر متاثرہ افراد خاموشی اختیار کرتے ہیں، لیکن جب ایک معروف چہرہ اس طرح سامنے آتا ہے، تو یہ معاشرتی زخموں کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ جو لوگ باہر سے محفوظ نظر آتے ہیں، ان کے گھروں کے اندر کیا ہو رہا ہوتا ہے، ہمیں نہیں معلوم۔ سب سے زیادہ خطرناک وہی لوگ ہوتے ہیں جن پر آپ آنکھ بند کر کے بھروسہ کرتے ہیں۔"


اس کیس پر تاحال پولیس یا ملزم کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جو خود ایک تشویشناک خاموشی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے اس کیس کو پاکستان کے عدالتی و معاشرتی نظام پر ایک کڑا سوال قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا کتنا ضروری ہے — چاہے وہ آواز کتنی ہی دیر بعد کیوں نہ گونجے۔

Comments

Popular posts from this blog

پاہلگام حملے سے جنگ بندی تک – پاک بھارت کشیدگی کی مکمل کہانی

آپریشن سندور – بھارتی فوج کی جوابی کارروائی اور اس کے اثرات

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی