امریکہ ایران مذاکرات: سفارتی کھیل میں نیا موڑ، ٹرمپ کی کال کی پیشکش اور پاکستان کی الجھن
دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں سفارتی کھیل ایک بار پھر دلچسخ موڑ پر آ گیا ہے۔ ایران امریکہ مذاکرات کے سلسلے میں ایک طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واپس اسلام آباد کا رخ کر لیا تو دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے وفود کے بھاری بھرکم سفر کی بجائے ٹیلی فون پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اس پیش رفت نے خطے کے امن کی امیدیں تو بڑھا دی ہیں، لیکن پاکستان کے لیے ثالث کی حیثیت سے مشکلات بھی پیدا کر دی ہیں ۔ پاکستان کی ثالثی: مشکل ترین سفارتی آزمائش پاکستان کے لیے یہ لمحات سفارتی طور پر انتہائی نازک ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے دیرینہ اتحادی امریکہ ہیں تو دوسری طرف سرحد بانٹنے والا پڑوسی ملک ایران۔ ایسے میں پاکستان نے خود کو ثالث کے کردار میں ڈال رکھا ہے، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی شدید کمی اس ثالثی کو انتہائی مشکل بنا رہی ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کی ہیں، لیکن ابھی تک کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی ۔ پاکستان کی یہ کوشش صرف سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ اسے خطے میں اپنی س...