مکہ معاہدے کے بعد پاکستان اور سعودی عرب تین ارب ڈالر کی خوراک تجارت کے لیے تیار
۷ اگست ۲۰۲۶ کو ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے مکہ میں ایک اہم دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک کسی بھی فریق پر مسلح حملے کو اجتماعی سلامتی کے لیے چیلنج تصور کریں گے اور باہمی دفاع کا اصول لاگو ہوگا ۔ اگرچہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، لیکن اس کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون کو بھی فروغ ملا ہے، جس کا اظہار خوراک اور زرعی تجارت کے نئے منصوبوں سے ہوتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان خوراک کی تجارت کا حجم کیا ہے؟ مکہ معاہدے کے بعد پاکستان اور سعودی عرب خوراک اور زرعی تجارت کو ۳ ارب ڈالر تک پہنچانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں ۔ یہ حجم دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارت سے کافی زیادہ ہے اور اس سے پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب خوراک کی درآمدات کے لیے بڑی منڈی ہے اور پاکستان اس میں اپنا حصہ بڑھانا چاہتا ہے۔ اربو ڈالر کی خوراک تجارت سے پاکستان کو کیا فائدے ہوں گے؟ اس تجارتی منصوبے سے پاکستان کو کئی اہم فوائد حاصل ہوں گے۔ سب سے پہلے تو پاکستان کی زرعی برآمدات میں بے پناہ اضافہ ہوگا جس سے کسانوں اور زرعی ش...