امن و استحکام کے لیے خطرہ" – مسلم برادران کا یورپ اور امریکہ میں خفیہ ایجنڈا



ایک خفیہ دستاویز جسے "۱۹۹۱ کی ایکسپلینیٹری میمورنڈم" کہا جاتا ہے، مسلم برادران کے اصل چہرے سے پردہ اٹھاتی ہے۔ اس دستاویز میں تنظیم نے مغربی تہذیب کو "اندر سے تباہ کرنے اور ختم کرنے" کے منصوبے کو "تہذیبی جہاد" کا نام دیا۔ تین دہائیوں بعد یہ منصوبہ حقیقت میں بدلتا نظر آ رہا ہے۔

مسلم برادران کی یورپ اور امریکہ میں کیا سرگرمیاں ہیں؟

مسلم برادران نے یورپ اور شمالی امریکہ میں ایک وسیع نیٹ ورک بنا لیا ہے۔ مساجد، اسکول، خیراتی ادارے اور این جی اوز اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ فرانسیسی حکومت کی خفیہ رپورٹ کے مطابق، یہ تنظیم "اسٹریٹجک ابہام" کے ذریعے جمہوری معاشروں کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

کینیڈا – امریکہ کے لیے خطرے کا گیٹ وے

برطانوی کولمبیا کی سرحد کے پار، کینیڈا میں مسلم برادران کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے شدت پسند کیوبیک کے راستے نیویارک میں حملہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کینیڈا میں یہودی مخالف واقعات میں ۶۷۰ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
بصری ثبوت تجویز: ۱۹۹۱ کے مسلم برادران کے دستاویز کی اسکرین شاٹ جس میں "تہذیبی جہاد کے عمل" کے جملے کو نمایاں کیا گیا ہو۔

فرانس اور بیلجیم کی انتباہی رپورٹس

یورپی ممالک نے طویل عرصے سے مسلم برادران کو نظر انداز کیا۔ لیکن اب فرانسیسی انٹیلی جنس رپورٹس واضح کر چکی ہیں کہ یہ تنظیم "جمہوری اقدار کے خلاف کام کر رہی ہے"۔ بیلجیم اور ہالینڈ میں بھی اسی طرح کی انتباہی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ نے تنظیم کے فنڈنگ نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا ہے۔

امریکہ میں دراندازی – سرکاری اداروں تک رسائی

انسٹیٹیوٹ فار دی سٹڈی آف گلوبل انٹی سیمیٹزم اینڈ پالیسی کی ۲۰۰ صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق، مسلم برادران نے امریکی محکمہ خارجہ، ہوم لینڈ سیکیورٹی اور محکمہ انصاف میں دراندازی کی کوشش کی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ منتخب عہدیداروں نے مسلم برادران کے ایجنڈے کو فروغ دیا ہے۔

سی اے آئی آر – غیر مدعا علیہ شریک سازشی

امریکہ کی تاریخ کے سب سے بڑے دہشت گردی کے مالی معاملے – ہولی لینڈ فاؤنڈیشن کیس – میں سی اے آئی آر کو "غیر مدعا علیہ شریک سازشی" قرار دیا گیا۔ تاہم سی اے آئی آر اب بھی امریکہ میں موجود ہے اور اسے مسلم برادران کی فرنٹ آرگنائزیشن سمجھا جاتا ہے۔

ٹیکساس اور فلوریڈا میں قانونی کارروائیاں

ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے سی اے آئی آر اور مسلم برادران کو دہشت گرد قرار دے کر ان پر ریاستی زمین خریدنے پر پابندی لگا دی۔ فلوریڈا میں گورنر رون ڈی سینٹس نے شرعی قانون کے خلاف قانون پاس کیا۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ریاستی سطح پر بھی مسلم برادران کے خلاف جنگ تیز ہو رہی ہے۔

نتیجہ – دنیا کو متحد ہونا ہوگا

مسلم برادران کوئی مذہبی تنظیم نہیں بلکہ ایک سیاسی منصوبہ ہے جو جمہوریت کے خلاف کام کرتا ہے۔ امریکہ، یورپ اور خلیجی ممالک کو مل کر اس کے مالی اور نظریاتی نیٹ ورک کو ختم کرنا ہوگا۔ جیسا کہ ڈاکٹر زہدی جسر نے کہا: "کینسر کے میٹاسٹیسیس کو روکنے کے لیے پرائمری ٹیومر کا علاج ضروری ہے"۔

=اکثر پوچھے جانے والے سوالات


سوال: کیا مسلم برادران نے کبھی تشدد کو ترک کیا؟
مسلم برادران نے ۱۹۷۰ کی دہائی میں تشدد ترک کرنے کا دعویٰ کیا لیکن تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ان کی ذیلی شاخیں تشدد میں ملوث رہی ہیں۔

سوال: کیا امریکہ میں مسلم برادران پر پابندی لگ سکتی ہے؟
جی ہاں۔ کانگریس میں ایس ۲۲۹۳ اور ایچ آر ۴۹۳۷ بلز زیر غور ہیں جو مسلم برادران کو دہشت گرد قرار دینے کی وکالت کرتے ہیں۔

سوال: کیا مسلم برادران کا اسلام سے کوئی تعلق ہے؟
نہیں۔ مسلم برادران اسلام کا سیاسی ورژن پیش کرتی ہے جو اصل اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ مسلم مصلحین اس تنظیم کو "اسلام کا سیاسی استحصال" قرار دیتے ہیں۔

سوال: کیا مسلم برادران کے خلاف کارروائی "اسلامو فوبیا" ہے؟
بالکل نہیں۔ مسلم برادران کے سب سے بڑے ناقد خود مسلمان ہیں۔ یہ کارروائی دہشت گردی کے خلاف ہے، کسی مذہب کے خلاف نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی

اسمرتی مندھانا کی شاندار سنچری، بھارت کی انگلینڈ پر تاریخی فتح-