گرمیوں میں بجلی کا بحران گہراتا ہوا: حکومت کی طرف سے لوڈ شیڈنگ اور قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ
حکومت پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایل این جی کی فراہمی میں شدید کمی کے پیش نظر گرمیوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور قیمتوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن ایک ہائبرڈ حکمت عملی کے تحت اوسطاً دو سے تین گھنٹے روزانہ لوڈ شیڈنگ اور فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے ۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اور بجلی کی طلب میں غیرمعمولی اضافے کا امکان ہے۔
حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور لوڈ شیڈنگ کا فیصلہ کیوں کیا؟
اس فیصلے کی سب سے بڑی وجہ ایل این جی کی فراہمی میں متوقع طور پر صفر کی سطح تک گراوٹ ہے۔ ایل این جی فی الحال ملک کی کل بجلی پیداوار کا اکیس فیصد سے زائد حصہ فراہم کرتی ہے ۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ مشرق وسطیٰ میں جنگ فوری طور پر ختم بھی ہو جاتی ہے، تب بھی اگلے مہینے سے ایل این جی کی دستیابی تقریباً ختم ہو جائے گی۔ اسی طرح مقامی اور درآمد شدہ کوئلے کی فراہمی بھی کم رہنے کا امکان ہے، جو مجموعی طور پر قومی گرڈ کو تیس فیصد تک بجلی فراہم کرتے ہیں ۔
ایل این جی کی فراہمی میں کمی سے بجلی کا بحران کیسے پیدا ہوا؟
موجودہ بحران کا محرک بیرونی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورت حال اور ایران پر حملوں کے باعث ایندھن کی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے ۔ حکومت کے پاس متبادل کے طور پر فرنس آئل کو استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔ تاہم، فرنس آئل سے بجلی بنانے کی لاگت انتہائی مہنگی ہے جو کہ موجودہ حالات میں پینتیس روپے فی یونٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ایل این جی اور کوئلے سے بجلی بنانے کی لاگت تیرہ سے بیس روپے فی یونٹ ہے ۔ یہ لاگت کا یہ بھاری فرق بالآخر عوام کے بلوں میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوگا۔
گرمیوں میں کتنی دیر تک لوڈ شیڈنگ ہوگی اور بجلی کے نرخوں میں کتنا اضافہ ہوگا؟
ذرائع کے مطابق حکومت اوسطاً دو سے تین گھنٹے روزانہ لوڈ شیڈنگ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم یہ مدت ایندھن کی دستیابی اور پیدا ہونے والے حالات کے مطابق بڑھ بھی سکتی ہے ۔ قیمتوں کے معاملے پر بات کریں تو اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین کو دس سے بارہ روپے فی یونٹ کا اضافی بوجھ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ چار ایل این جی پاور پلانٹس جو پانچ ہزار میگاواٹ کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کا آپریشن بند ہونے سے یہ اضافی لاگت آ رہی ہے ۔
ریلوے اور پاور پلانٹس کے تنازعے نے صورتحال کیسے خراب کی؟
خارجہ مشکلات کے ساتھ ساتھ اندرونی انتظامی ناہمواریوں نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ پاکستان ریلویز اور ساہیوال اور جامشورو پاور پلانٹس کی انتظامیہ کے درمیان جھگڑے کی وجہ سے کوئلے کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے ۔ اس وقت ان پلانٹس میں کوئلے کا اسٹاک محض تین سے سات دن کے لیے باقی ہے۔ اگر یہ تنازع جلد حل نہ ہوا تو ایک ہزار پانچ سو سے ایک ہزار آٹھ سو میگاواٹ کی پیداوار خطرے میں پڑ سکتی ہے، جس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ میں مزید ڈھائی سے تین گھنٹے کا اضافہ ہو سکتا ہے ۔ حکام نے اس معاملے کو وزیراعظم آفس تک پہنچا دیا ہے۔
کیا سی این جی سیکٹر کو گیس کی سپلائی بند کردی جائے گی؟
بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت گیس کی ترسیل کو بھی ری ڈائریکٹ کر رہی ہے۔ گیس کمپنیوں نے اشارہ دیا ہے کہ اپریل سے پاور سیکٹر کو محض اسی ملین کیوبک فٹ فی دن (گیس ملے گی، جبکہ مارچ میں یہ مقدار تھی ۔ سی این جی سیکٹر کو گیس کی سپلائی مکمل طور پر بند کر کے اسے بجلی بنانے میں استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔ کھاد بنانے والی صنعتوں کو ملنے والی گیس میں بھی کٹوتی کی جا سکتی ہے تاکہ پاور پلانٹس کو چلایا جا سکے ۔
بجلی کے بحران کا صارفین اور صنعتی شعبے پر کیا اثر پڑے گا؟
اس فیصلے کا سب سے زیادہ نقصان عام صارفین اور صنعتی شعبے کو برداشت کرنا پڑے گا۔ عام آدمی کو ایک جانب تو لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے گرمی میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا، دوسری جانب مہنگے بلوں کی صورت میں اس کی جیب بھی کٹے گی ۔ صنعتی شعبے کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب پیداواری لاگت میں اضافہ ہے، جس سے برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں اور مہنگائی پر قابو پانا مزید مشکل ہو جائے گا۔ وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ صنعتوں پر مکمل بوجھ ڈالنا ممکن نہیں، لیکن پھر بھی بجلی کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کا امکان ہے ۔
حکومت کے پاس فی الحال ایل این جی اور کوئلے کی قلت کے پیش نظر متبادل کے طور پر مہنگا فرنس آئل استعمال کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ تاہم، یہ حکمت عملی عارضی نوعیت کی حامل ہے اور اس کے نتیجے میں عوام کو دوہری سزا بھگتنی پڑ رہی ہے — ایک طرف بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور دوسری طرف بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے مقامی وسائل (شمسی، ہوا، پن بجلی) کو فروغ دے کر ان بیرونی دباؤ سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے؟ اس سوال کا جواب ہی اس بحران سے مستقل نجات کی کنجی ہے۔
(FAQs)
سوال: گرمیوں میں روزانہ کتنی گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوگی؟
جواب: ذرائع کے مطابق حکومت اوسطاً ٢ سے ٣ گھنٹے روزانہ لوڈ شیڈنگ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم، ایندھن کی قلت اور ریلوے کے تنازعے کی صورت میں یہ مدت بڑھ کر ٥ سے ٦ گھنٹے تک بھی جا سکتی ہے ۔
سوال: بجلی کے بلوں میں کتنا اضافہ متوقع ہے؟
جواب: فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین کو فی یونٹ ١٠ سے ١٢ روپے تک کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ سستے ایندھن (ایل این جی) کی جگہ مہنگا فرنس آئل استعمال کیا جا رہا ہے ۔
سوال: فرنس آئل سے بجلی بنانے کی لاگت کتنی ہے؟
جواب: فرنس آئل سے بجلی بنانے کی موجودہ لاگت تقریباً ٣٥ روپے فی یونٹ ہے، جبکہ ایل این جی سے بجلی ٢٠ روپے اور کوئلے سے ١٣.٥٠ روپے فی یونٹ پر تیار ہوتی تھی ۔
سوال: کیا سی این جی اس بحران سے متاثر ہوگی؟
جواب: ہاں، حکومت سی این جی سیکٹر کو ملنے والی گیس مکمل طور پر بند کر کے اسے بجلی بنانے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے گاڑیوں میں سی این جی کی دستیابی شدید متاثر ہو سکتی ہے ۔

Comments
Post a Comment