تین سال بعد ڈالر ۲۷۹ روپے سے نیچے: کیا پاکستانی معیشت مستحکم ہوگئی؟
گزشتہ روز کراچی کی انٹربینک کرنسی مارکیٹ میں ایک اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ تقریباً تین سال کے طویل عرصے بعد امریکی ڈالر کی قیمت ۲۷۹ روپے کی نفسیاتی حد سے نیچے آگئی۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق جمعہ کو ڈالر کا خریداری کا نرخ ۲۷۸.۹۵ روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ایک روز قبل یہ ۲۷۹ روپے تھا۔ یہ کمی صرف چند پیسوں کی ہے، لیکن اس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ مارچ ۲۰۲۳ میں ڈالر ۲۷۷ سے ۲۷۸ روپے کے درمیان تھا، اور اس کے بعد یہ ۳۰۷ روپے کی تاریخی بلندی کو چھو چکا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس پیش رفت کو پاکستانی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ کرنسی ڈیلر عاطف احمد کے مطابق ۱۶ جنوری سے روپیہ مسلسل بہتر ہو رہا ہے اور یہ سطح اس استحکام کی عکاس ہے۔
پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں کیوں مضبوط ہوا؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مضبوط کیا؟ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام اور چین کی طرف سے مالی معاونت نے پاکستان کو ۲۰۲۳ میں ممکنہ ڈیفالٹ سے بچا لیا تھا۔ اس کے بعد کرنسی کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی چینلز کے خلاف کریک ڈاؤن نے بھی زرمبادلہ کے اخراج کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔
دوسری جانب، ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوسٹن نے اس بات پر زور دیا کہ اسٹاک مارکیٹ کی بے مثال کارکردگی اور دفاعی برآمدات میں اضافے نے بھی ڈالر کی قدر میں کمی کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسٹاک مارکیٹ ۴۶,۰۰۰ پوائنٹس سے بڑھ کر ۱۸۵,۰۰۰ پوائنٹس تک جا پہنچی ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ علاوہ ازیں، ۲۰۲۲ میں جہاں زرمبادلہ کے ذخائر ۳ ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے، وہیں اب یہ ذخائر بڑھ کر ۲۲ ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔
Pakistani rupee strengthens to 278 vs US dollar, marking 139th consecutive day of stability.
— Bloom Pakistan (@bloom_pakistan) April 14, 2026
Consequently, this recovery signals a return to a stability zone that has eluded the interbank market for nearly 24 months.
The journey back to this level follows a volatile period.… pic.twitter.com/djVm0pQykC
کیا روپے کی موجودہ قدر حقیقی معاشی صورتحال کی عکاس ہے؟
اگرچہ حکومت اور مرکزی بینک اس استحکام کو اپنی پالیسیوں کی کامیابی قرار دے رہے ہیں، لیکن ماہرین اقتصادیات کی ایک بڑی تعداد اسے "مصنوعی استحکام" قرار دیتی ہے۔ ڈان اخبار میں شائع ہونے والے ایک تجزیاتی مضمون کے مطابق، روپے کی یہ مضبوطی معاشی بنیادوں کے بجائے انتظامی کنٹرولز اور سیاسی اشاروں کا نتیجہ ہے۔
ان کے مطابق، جب روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر مضبوط رکھا جاتا ہے تو یہ برآمدات کو غیر مسابقتی بنا دیتا ہے اور درآمدات کو فروغ دیتا ہے، جس سے تجارتی خسارہ بڑھتا ہے۔ درحقیقت، حالیہ اعداد و شمار اس تشویش کو تقویت دیتے ہیں۔ مالی سال ۲۰۲۶ کے پہلے سات مہینوں میں پاکستان کا تجارتی خسارہ ۲۸ فیصد بڑھ کر ۲۲.۰۴ ارب ڈالر ہوگیا، جبکہ برآمدات میں ۷ فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ روپے کی مضبوطی پاکستان کی برآمدات کو نقصان پہنچا رہی ہے، جس سے مقامی صنعتوں کو شدید دھچکا لگ رہا ہے۔
ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ مہنگائی پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟
روپے کی مضبوطی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مہنگائی میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ درآمدی اشیاء سستی ہونے کی وجہ سے افراط زر کی شرح گھٹ کر صرف ۳ فیصد رہ گئی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ ۱۰.۵ فیصد پر برقرار رکھا ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے شہریوں کو تو عارضی ریلیف ملا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کم مہنگائی اور بلند شرح پالیسی نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی بانڈز کو پرکشش بنا رکھا ہے، لیکن جب تک برآمدات نہیں بڑھیں گی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کنٹرول میں نہیں آئے گا۔
کیا روپہ مزید مضبوط ہو کر ۲۵۰ روپے فی ڈالر تک جاسکتا ہے؟
مارکیٹ میں یہ قیاس آرائیاں بھی عام ہیں کہ آنے والے مہینوں میں ڈالر مزید نیچے آ سکتا ہے۔ ملک بوسٹن جیسے ماہرین کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت ۲۵۰ روپے سے بھی نیچے جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق جے ایف ۱۷ تھنڈر طیاروں کی برآمدات اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی اس تبدیلی کی بڑی وجوہات ہیں۔
لیکن دوسری طرف، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی پیش گوئیاں کچھ مختلف ہیں۔ BMI (Fitch Solutions) کے مطابق، اسٹیٹ بینک آف پاکستان روپے کو ۲۸۰ روپے کے ارد گرد ہی رکھنے کی کوشش کرے گا، اور ۲۰۲۷ کے آخر تک روپے میں ۵ فیصد تک معمولی گراوٹ آ سکتی ہے۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تجزیہ کاروں کا بھی خیال ہے کہ جون ۲۰۲۶ تک ڈالر ۲۸۵ سے ۲۹۰ روپے کے درمیان ہوگا۔ یعنی مختصر مدت میں تو استحکام رہے گا، لیکن طویل مدت میں روپے کی قدر میں معمولی کمی کا امکان ہے۔
پاکستان کے برآمدی شعبے پر مصنوعی استحکام کے اثرات
روپے کی اس مصنوعی مضبوطی کا سب سے زیادہ نقصان برآمد کنندگان کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے ٹیکسٹائل، چاول اور چمڑے کی مصنوعات عالمی منڈی میں مہنگی ہوگئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھارت، بنگلہ دیش اور ویت نام جیسے حریف ممالک اپنی کرنسیوں کو مسابقتی رکھنے کے لیے قدر میں کمی کرتے ہیں، تو پاکستان ان کے مقابلے میں پیچھے رہ جاتا ہے۔
نتیجتاً، پاکستانی مصنوعات کی مانگ کم ہو رہی ہے اور مقامی صنعت کار بے روزگاری اور بندش کا شکار ہو رہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ڈی انڈسٹرلائزیشن (بے صنعتی) ہوگا، جہاں پیداوار بند ہو جائے گی اور ملک درآمدات پر مکمل انحصار کرنے لگے گا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: کیا پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مزید مضبوط ہوگا؟
جواب: ماہرین اس بارے میں متفق نہیں ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر اور اسٹاک مارکیٹ کی بہتری کی وجہ سے ڈالر ۲۵۰ روپے تک جاسکتا ہے، جبکہ بین الاقوامی اداروں کا خیال ہے کہ ۲۰۲۶ کے آخر تک ڈالر ۲۸۵ سے ۲۹۰ روپے کے درمیان رہے گا۔
سوال: روپے کی مضبوطی عام آدمی پر کیا اثر ڈالتی ہے؟
جواب: اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ درآمدی اشیاء جیسے پیٹرول، خوردنی تیل اور مشینری سستی ہو جاتی ہے، جس سے مہنگائی کم ہوتی ہے۔ تاہم، اگر برآمدات کم ہو جائیں تو بیرونی زرمبادلہ کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
سوال: کیا روپے کی موجودہ قدر حقیقی ہے یا مصنوعی؟
جواب: زیادہ تر ماہرین اقتصادیات اسے مصنوعی استحکام قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مضبوطی اسٹیٹ بینک کی مداخلت اور درآمدات پر پابندیوں کی وجہ سے ہے، نہ کہ برآمدات میں حقیقی اضافے کی وجہ سے۔
سوال: پاکستان کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا کیوں ہے اگر روپیہ مضبوط ہے؟
جواب: مضبوط روپیہ درآمدات کو سستا بنا دیتا ہے، جس کی وجہ سے ملک میں غیر ضروری اشیاء کی درآمدات بڑھ جاتی ہیں۔ جبکہ برآمدات مہنگی ہونے کی وجہ سے کم ہوتی ہیں، جس سے تجارتی خسارہ بڑھتا ہے۔
سوال: کیا اسٹیٹ بینک کو روپے کی قدر میں کمی کرنی چاہیے؟
جواب: ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر روپے کو حقیقی قدر پر آنے دیا جائے تو برآمدات بڑھ سکتی ہیں، لیکن اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ حکومت کے لیے چیلنج ان دونوں کو متوازن رکھنا ہے۔

Comments
Post a Comment