ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پوسٹس: ٹرمپ نے ایران معاہدے کو کیسے خطرے میں ڈالا؟
واشنگٹن: سات ہفتوں سے جاری ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اس وقت خطرے میں آ گئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر متضاد بیانات دینا شروع کر دیے۔ ایران مذاکرات میں ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس کا اثر اتنا گہرا پڑا کہ وہ مذاکرات جو تقریباً طے پا چکے تھے، اب غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بدھ کی شب جنگ بندی کی میعاد ختم ہونے سے پہلے دونوں فریقین ایک معاہدے پر دستخط کرنے سے محض گھنٹوں دور تھے ۔
ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس نے ایران مذاکرات کو کیسے متاثر کیا؟
جمعہ کے روز جب پاکستانی ثالث ٹہران میں ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے، ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل اور مختلف ٹی وی چینلز کو انٹرویوز میں دعویٰ کرنا شروع کر دیا کہ ایران نے تمام امریکی مطالبات مان لیے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے بھرپور یورینیم کے ذخائر امریکہ کے حوالے کرنے اور ہارمز آبنائے پر کنٹرول ختم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے ۔
لیکن ایرانی حکام نے فوری طور پر ان دعوؤں کی تردید کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ابھی تک حتمی مرحلے میں نہیں پہنچے اور ٹرمپ کے بیانات سفارتی عمل کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ ایک ایرانی اہلکار نے بتایا کہ "ایرانی عوام کے سامنے کمزور دکھائی دینا ان کے لیے انتہائی مشکل ہے" ۔
کیا ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ ممکن ہے؟
امریکی عہدیداروں کے مطابق مذاکرات میں دو بڑی رکاوٹیں ہیں۔ پہلی، یورینیم افزودگی پر پابندی کی مدت اور دوسری، ہارمز آبنائے پر ایران کا کنٹرول۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران ۲۰ سال تک یورینیم افزودگی مکمل طور پر بند کر دے، جبکہ ایران پانچ سال کی پابندی پر راضی ہے ۔
ایک تجویز کے مطابق ایران ۱۰ سال کے لیے افزودگی روک سکتا ہے اور اگلے ۱۰ سال میں صرف محدود سطح پر افزودگی کی اجازت ہوگی ۔ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کے حق میں نہیں ہیں۔
US President Donald Trump says that he feels confident that Iran will negotiate, adding that the country would “see problems” otherwise.🔴 LIVE updates: https://t.co/f4AuXNCQeP pic.twitter.com/tRB3CCUg7F— Al Jazeera English (@AJEnglish) April 21, 2026
ایران مذاکرات میں پاکستان کا کیا کردار ہے؟
پاکستان نے ۱۱ اور ۱۲ اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان پہلی اعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی کی ۔ یہ ۱۹۷۹ میں سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہ راست گفتگو تھی۔ پاکستانی حکام نے دونوں فریقین کے درمیام پیغام رسانی کا کام کیا اور جنگ بندی کے معاہدے کو ممکن بنایا۔
اب دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ اسپیشل انوائے اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر بھی اس وفد میں شامل ہیں ۔
ٹرمپ کے بیانات سے ایران مذاکرات میں رکاوٹ کیسے پیدا ہوئی؟
سی این این کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے کچھ عہدیداروں نے نجی طور پر تسلیم کیا کہ صدر کی عوامی گفتگو مذاکرات کے لیے نقصان دہ رہی ہے ۔ ٹرمپ نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ نائب صدر وینس سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے پاکستان نہیں جا رہے، جبکہ چند گھنٹے بعد وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ وینس وفد کی قیادت کریں گے ۔
یہی نہیں، ٹرمپ نے پیر کو ایک انٹرویو میں کہا کہ وینس اسلام آباد روانہ ہو چکے ہیں جبکہ حقیقت میں وہ منگل کو جانے والے تھے ۔ اس طرح کے متضاد بیانات نے نہ صرف امریکی انتظامیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ ایرانی حکام کے اعتماد کو بھی مجروح کیا۔
ایران مذاکرات کی ناکامی کے کیا اثرات ہوں گے؟
ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو تباہ کر سکتے ہیں، جو کہ ایک ممکنہ جنگی جرم ہے ۔
دوسری جانب، ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران "دھمکیوں کے سائے میں" کوئی مذاکرات نہیں کرے گا اور نئی فوجی تیاریاں مکمل کر لی ہیں ۔ انہوں نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ مذاکرات کی میز کو "ہتھیار ڈالنے کی میز" میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
ایران جوہری پروگرام پر امریکہ کے کیا مطالبات ہیں؟
ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے لیے کئی سرخ خطوط کھینچے ہیں۔ ان میں یورینیم افزودگی کا مکمل خاتمہ، ہتھیاروں کے قابل مواد کے ذخائر کا حوالگی، اور ہارمز آبنائے پر ایران کے کنٹرول کا خاتمہ شامل ہے۔ اس کے بدلے میں امریکہ ایران کے ۲۰ ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کرنے پر غور کر رہا ہے ۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ "اوباما انتظامیہ کے خوفناک معاہدے کے برعکس، امریکہ کبھی بھی ایران کے ساتھ اچھے معاہدے کے اتنے قریب نہیں تھا جتنا کہ آج ہے" ۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس نے ایران مذاکرات کو کیسے متاثر کیا؟
جواب: ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس نے مذاکرات کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کے قبل از وقت اور متضاد بیانات نے ایرانی حکام کو غصہ دلایا، جس سے ان کا اعتماد مجروح ہوا۔ امریکی عہدیداروں نے بھی تسلیم کیا کہ ان پوسٹس نے سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ۔
سوال: کیا ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ ہو سکتا ہے؟
جواب: اگرچہ دونوں فریقین مذاکرات کی میز پر موجود ہیں، لیکن بڑے اختلافات ابھی باقی ہیں۔ یورینیم افزودگی کی مدت اور ہارمز آبنائے پر کنٹرول دو بڑے مسائل ہیں۔ ماہرین کے مطابق جنگ بندی کی آخری تاریخ ختم ہونے سے پہلے معاہدہ مشکل لگتا ہے ۔
سوال: ایران مذاکرات میں جنگ بندی کی آخری تاریخ کب ختم ہو رہی ہے؟
جواب: ٹرمپ نے ۷ اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ ابتدائی طور پر یہ منگل کی شام ختم ہو رہی تھی، لیکن ٹرمپ نے بعد میں بتایا کہ یہ بدھ کی شام واشنگٹن کے مطابق ختم ہوگی ۔
سوال: کیا ایران ٹرمپ کی شرائط ماننے پر تیار ہے؟
جواب: ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ دھمکیوں کے تحت کوئی معاہدہ نہیں کریں گے۔ قالیباف نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ مذاکرات کو "ہتھیار ڈالنے کی میز" بنانا چاہتے ہیں۔ ایران نے نئی فوجی صلاحیتیں بھی تیار کر لی ہیں اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں ۔
سوال: ایران مذاکرات میں پاکستان کا کیا کردار ہے؟
جواب: پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کیا۔ اسلام آباد میں پہلی بار براہ راست مذاکرات ہوئے اور پاکستانی حکام نے پیغام رسانی میں مدد کی۔ دوسرے دور کے مذاکرات بھی اسلام آباد میں ہونے تھے ۔
.png)
Comments
Post a Comment