ایران جنگ: امریکہ کے اسٹیلتھ میزائل ختم ہونے کے قریب، جنگی تیاری خطرے میں؟
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکہ نے اپنے اسٹیلتھ میزائلوں کی آدھی سے زائد تعداد استعمال کر لی ہے ۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ۳۹ روزہ فضائی اور میزائل مہم کے دوران پرسمیزائل کا ۴۵ فیصد سے زائد ذخیرہ استعمال کر لیا ۔
اس کے علاوہ تھاڈ انٹرسیپٹرز کی ۵۲ سے ۸۰ فیصد تک تعداد ختم ہو چکی ہے جبکہ پیٹریاٹ میزائلوں کی تقریباً ۶۰ فیصد انوینٹری بھی استعمال ہو چکی ہے ۔ صرف تھاڈ کے ۳۶۰ میں سے ۱۹۰ سے ۲۹۰ تک میزائل استعمال کیے جا چکے ہیں۔
پرسمیزائل کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
پرسمیزائل امریکہ کا جدید ترین اسٹیلتھ ہتھیار ہے جو پہلی بار ایران جنگ میں استعمال ہوا ۔ یہ میزائل زمین سے زمین پر حملے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس میں ایئربرسٹ ٹیکنالوجی شامل ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے تحت میزائل ہدف کے اوپر فضا میں پھٹتا ہے اور ۱۸۰,۰۰۰ سے زائد ٹنگسٹن پلیٹس کو چاروں طرف بکھیر دیتا ہے ۔ یہ پلیٹس انتہائی تیز رفتاری سے ہدف کو تباہ کر دیتی ہیں۔ لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کی تیار کردہ یہ میزائل انتہائی مہلک ہے اور اسے روکنا بہت مشکل ہے۔
کیا امریکہ کے پاس مزید جنگی ذخائر باقی ہیں؟
سی ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ موجودہ ذخائر ایران جنگ جاری رکھنے کے لیے کافی ہیں، لیکن مستقبل کے کسی اور بڑے تنازعے کے لیے یہ ناکافی ہیں ۔
مختلف میزائلوں کی باقیات اس طرح ہیں:
پیٹریاٹ میزائل: ۶۰ فیصد استعمال، ۴۰ فیصد باقی
تھاڈ انٹرسیپٹرز: ۸۰ فیصد استعمال
ٹوما ہاک کروز میزائل: ۳۰ فیصد استعمال (۸۵۰ میں سے ۳۱۰۰)
جی اے ایس ایم: ۲۰ فیصد سے زائد استعمال
امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان شان پارنیل کا دعویٰ ہے کہ "فوج کے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جس کی ضرورت ہے" لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلحے کی بحالی میں ۱ سے ۴ سال لگ سکتے ہیں۔
🔴 Since the start of the Iran war on Feb 28, it has fired 1,100 long-range stealth cruise missiles that had been designated for a potential conflict with China, leaving about 1,000 in America’s stockpile, according to a report
— The Telegraph (@Telegraph) April 24, 2026
Find out what these depleted stockpiles mean for… pic.twitter.com/Xllv9cu9tJ
ایران میں شہریوں پر حملوں میں امریکی میزائل کیسے استعمال ہوئے؟
نیویارک ٹائمز کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ لامرد شہر میں امریکی پرسمیزائل نے ایک اسپورٹس ہال، اسکول اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا ۔ ان حملوں میں ۲۱ شہری ہلاک ہوئے جن میں کم از کم ۵ بچے شامل تھے۔ سب سے کم عمر بچہ صرف ۲ سال کا تھا۔
پینٹاگون نے ابتدا میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ ایرانی کروز میزائل "حویزہ" تھا۔ لیکن میزائل کے ملبے اور ویڈیو فوٹیج کی فرانزک تحقیقات نے ثابت کیا کہ یہ امریکی پرسمیزائل تھا ۔ حملوں میں ایک اسکول کو بھی نشانہ بنایا گیا جس میں ۱۷۵ افراد مارے گئے، یہ واقعہ ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدا میں ایران پر تھوپنے کی کوشش کی تھی۔
کیا چین امریکی میزائل کی کمی کا فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
سی ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق امریکی میزائل ذخائر کی یہ کمی چین جیسے مقابلہ کرنے والے ملک کے لیے امریکی جوابی صلاحیتوں کو محدود کر سکتی ہے ۔
مارک کینشین، جو ریٹائرڈ امریکی میرین کرنل اور رپورٹ کے مصنف ہیں، کا کہنا ہے کہ:
"میزائلوں کے زیادہ استعمال نے مغربی پیسیفک میں بڑھتی ہوئی کمزوری پیدا کر دی ہے۔ اسلحے کی بحالی میں ۱ سے ۴ سال لگیں گے اور مطلوبہ سطح تک پہنچنے میں مزید برسوں لگ سکتے ہیں۔"
ٹرمپ انتظامیہ کے باوجود یہ دعویٰ ہے کہ میزائل لامحدود ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مستقبل میں کسی اور بڑی جنگ کی صورت میں امریکہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے ۔
امریکی اسلحے کی بحالی میں کتنا وقت لگے گا؟
ماہرین کے مطابق جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آنے میں پٹریاٹ میزائلوں کے لیے ۱ سے ۴ سال لگ سکتے ہیں ۔ تھاڈ سسٹم کی بحالی میں بھی کئی برس لگیں گے جبکہ پرسمیزائل کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے نئے معاہدوں کی ضرورت ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اسلحہ ساز کمپنیوں کے ساتھ پیداوار دوگنی اور چار گنا کرنے کے لیے مذاکرات کیے ہیں۔ لیکن یہ عمل کافی طویل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ کو اپنے میزائل ذخائر کو مکمل طور پر بحال کرنے میں ۲۰۲۹ تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: کیا ٹرمپ کا دعویٰ سچ ہے کہ امریکہ کے پاس لامحدود میزائل ہیں؟
جواب: نہیں، یہ دعویٰ حقیقت سے ہٹ کر ہے۔ سی ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے جنگ میں اپنے ۴۵ فیصد سے زائد اہم میزائل استعمال کر لیے ہیں اور بحالی میں کئی برس لگیں گے۔ ٹرمپ کا یہ دعویٰ محض سیاسی بیان بازی ہے ۔
سوال: پرسمیزائل کی سب سے بڑی خصوصیت کیا ہے؟
جواب: پرسمیزائل کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی ایئربرسٹ ٹیکنالوجی ہے۔ یہ میزائل ہدف کے اوپر فضا میں پھٹتا ہے اور ۱۸۰,۰۰۰ سے زائد ٹنگسٹن پلیٹس بکھیرتا ہے، جس سے بڑے رقبے میں تباہی ہوتی ہے اور عام میزائلوں کے برعکس اسے روکنا بہت مشکل ہے ۔
سوال: کیا امریکہ چین کے خلاف جنگ لڑ سکتا ہے؟
جواب: ماہرین کے مطابق موجودہ میزائل ذخائر چین جیسے بڑے مقابلہ کرنے والے ملک کے خلاف جنگ کے لیے ناکافی ہیں۔ سی ایس آئی ایس نے خبردار کیا ہے کہ جنگ سے پہلے ہی ذخائر کم تھے اور اب یہ صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے ۔
سوال: ایران حملوں میں کتنے شہری مارے گئے؟
جواب: نیویارک ٹائمز کی تحقیقات کے مطابق صرف لامرد شہر میں امریکی پرسمیزائل حملوں میں ۲۱ شہری مارے گئے جن میں ۵ بچے شامل تھے۔ جبکہ میناب شہر میں ٹوما ہاک میزائل حملے میں ۱۷۵ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملے پہلے دن کیے گئے تھے اور دونوں میں امریکی میزائل استعمال ہوئے ۔

Comments
Post a Comment