کونار کی یونیورسٹی پر حملہ: حقیقت، پروپیگنڈا اور سرحد پار سے بڑھتا خطرہ


۲۷ اپریل ۲۰۲۶ کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک اضافہ دیکھنے کو ملا۔ افغان طالبان حکومت نے الزام لگایا کہ پاکستانی فورسز نے مشرقی صوبہ کونار کے دارالحکومت اسد آباد میں واقع سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی اور رہائشی علاقوں پر میزائل اور مورٹار حملے کئے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے ۔ تاہم، اسلام آباد نے ان اطلاعات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں "جھوٹا پروپیگنڈا" قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی انتہائی نازک صورتحال سے گزر رہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پاکستان نے ایک جامعہ کو نشانہ بنایا، یا یہ کوئی اور کھیل ہے؟


کونار حملے میں ہلاکتیں اور افغان طالبان کے الزامات

افغان ذرائع کے مطابق، یہ حملے دوپہر ۲ بجے شروع ہوئے۔ طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ پاکستان کی نام نہاد جارحیت میں ۴ شہری جاں بحق اور ۷۰ زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تعداد طلباء، خواتین اور بچوں کی تھی ۔ افغان حکام نے اس کارروائی کو "ناقابل معافی جنگی جرم" قرار دیا اور عالمی برادری سے نوٹس لینے کی اپیل کی۔ یہ الزامات خاص طور پر اس لیے اہم ہیں کیونکہ یہ ایک تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانے کی نشاندہی کرتے ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

اسلام آباد کا ردعمل: "یہ بھارت کی حمایت یافتہ جھوٹی کہانی ہے"

پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے فوری طور پر ان الزامات کی تردید کر دی۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ کونار کی یونیورسٹی پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا اور یہ خبریں "بے بنیاد اور جعلی" ہیں ۔ وزارت کے مطابق، یہ پرانا طریقہ کار ہے جس میں افغان میڈیا "فتنہ الخوارج" (ٹی ٹی پی) کو پناہ دینے کی حمایت چھپانے کے لیے جھوٹی خبریں پھیلاتا ہے اور انہیں بھارتی میڈیا کی مدد سے ہوا دیتا ہے ۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف انٹیلی جنس بنیادوں پر اور عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف ہیں، اور وہ ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے نہیں گھبراتا۔


سرحد پار فائرنگ: جنوبی وزیرستان میں تین شہری زخمی

اس الزامات کے تبادلے سے پہلے، جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ علاقے میں زمینی تصادم بھی ہوا۔ پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق، افغان فورسز کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں تین شہری (جن میں دو خواتین شامل ہیں) زخمی ہو گئے ۔ پاک فوج نے اس موقع پر نہ صرف جوابی کارروائی کی بلکہ "فتنہ الخوارج" کی دراندازی کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا۔ مقامی قبائلی رہنماؤں نے اس فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ کے لیے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔


آپریشن غضب الحق اور جنگ بندی کا بحران

یہ جھڑپیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب رمضان کے موقع پر چین، ترکی اور سعودی عرب کی کوششوں سے دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی ۔ تاہم، پاکستان کا آپریشن غضب الحق اب بھی جاری ہے، جسے فروری میں ٹی ٹی پی کے خلاف شروع کیا گیا تھا ۔ پاکستان کا اصرار ہے کہ جب تک افغانستان اپنی سرزمین پاکستان مخالف مسلح گروپوں کے لیے استعمال ہونے سے نہیں روکتا، امن ممکن نہیں۔ دوسری طرف، افغان طالبان پاکستان پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتا ہے اور سرحدی تنازعات کو ہوا دیتا ہے۔


عالمی اثرات: کیا علاقائی استحکام خطرے میں ہے؟

یہ پاک افغان کشیدگی پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اگر یہ جھڑپیں بڑھ گئیں تو پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز اور الجزیرہ نے اس صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے ۔ ماہرین کے مطابق، اگر دونوں طرف سے جھوٹے پروپیگنڈے اور فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو خطے میں دہشت گردوں کو ایک بار پھر پنپنے کا موقع مل سکتا ہے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال: کیا پاکستان نے واقعی کونار یونیورسٹی پر حملہ کیا؟

پاکستان کی وزارت اطلاعات نے ان اطلاعات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ پاکستان صرف عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتا ہے ۔

سوال: کونار حملے میں کتنے افراد جاں بحق ہوئے؟

افغان طالبان کے مطابق، ۲۷ اپریل ۲۰۲۶ کو ہونے والے مبینہ حملوں میں کم از کم ۴ افراد ہلاک اور ۷۰ زخمی ہوئے، جبکہ کچھ ذرائع میں ہلاکتوں کی تعداد ۴ بتائی گئی ہے ۔

سوال: پاکستان کی فوجی کارروائی کا نام کیا ہے؟

افغانستان کی سرزمین پر مبینہ طور پر موجود عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستان کی جاری فوجی کارروائی کو "آپریشن غضب الحق" کا نام دیا گیا ہے جو فروری ۲۰۲۶ میں شروع کیا گیا تھا ۔

سوال: اس تنازع میں بھارت کا کیا کردار ہے؟

اسلام آباد کا الزام ہے کہ بھارتی میڈیا اور پروپیگنڈا مشینری افغان جھوٹے الزامات کو ہوا دے رہی ہے تاکہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کیا جا سکے ۔

Comments

Popular posts from this blog

پاہلگام حملے سے جنگ بندی تک – پاک بھارت کشیدگی کی مکمل کہانی

آپریشن سندور – بھارتی فوج کی جوابی کارروائی اور اس کے اثرات

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی