افریقہ میں امریکی طاقت کا مظاہرہ: دہشت گردی کے خلاف نیا باب


جب ہم دہشت گردی کی بات کرتے ہیں تو اکثر ہم بم دھماکوں اور فائرنگ کو دیکھتے ہیں، لیکن دہشت گردی کی اصل جان اس کا مالی نظام ہوتا ہے۔ گزشتہ رات امریکی افریقہ کمانڈ نے نائیجیریا کی فوج کے ساتھ مل کر نہ صرف ایک قاتل کو ختم کیا بلکہ داعش کی مالی ریڑھ کی ہڈی کو بھی توڑ ڈالا۔ یہ کارروائی صرف ایک شخص کے خاتمے کی کہانی نہیں بلکہ ایک پورے نیٹ ورک کے خاتمے کی ابتداء ہے۔


داعش کی مالی معاونت کیسے کی جاتی تھی؟

ابوبلال المینوکی داعش کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پراونسز کا امیر تھا، جس کا مطلب ہے کہ وہ پوری دنیا میں داعش کے مختلف صوبوں کے درمیان مالی وسائل تقسیم کرتا تھا۔ وہ یرغمالیوں کے عوض تاوان وصول کرنے، غیر قانونی تیل کی اسمگلنگ، اور مشرق وسطیٰ سے افریقہ تک فنڈز پہنچانے کا ذمہ دار تھا۔ جب تک وہ زندہ تھا، داعش کے پاس پیسے کا سلسلہ جاری تھا۔


نائیجیریا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا مرکز کون سا ہے؟

نائیجیریا کا شمال مشرقی علاقہ، خاص طور پر بورنو ریاست، گزشتہ ایک دہائی سے شدت پسندوں کی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں بوکو حرام نے اپنے پیر جما رکھے تھے اور پھر داعش نے اپنا مغربی افریقی صوبہ قائم کیا۔ ابوبلال المینوکی اسی علاقے میں اپنا کمانڈ سینٹر بنا کر بیٹھا تھا اور وہاں سے پوری دنیا میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

امریکہ اور نائیجیریا کے تعلقات پر اس کارروائی کے کیا اثرات ہوں گے؟

یہ سوال انتہائی اہم ہے۔ امریکہ نے اس کارروائی میں نائیجیریا کی خودمختاری کا مکمل احترام کیا۔ کارروائی نائیجیریا کے صدر کے تعاون اور مشاورت سے کی گئی، نہ کہ ان کی مرضی کے خلاف۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوطی ملے گی۔ درحقیقت، یہ کارروائی ایک نمونہ پیش کرتی ہے کہ کس طرح ایک بڑی طاقت چھوٹے ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتی ہے بغیر کسی طویل مدتی فوجی قبضے کے۔


کیا داعش اب افریقہ میں دوبارہ سر اٹھا سکے گی؟

یہی وہ سوال ہے جو ہر ماہر دماغ میں لے کر بیٹھا ہے۔ ابوبلال المینوکی جیسے شخص کا خاتمہ ایک بہت بڑا دھچکا ہے، لیکن داعش ایک نظریہ بھی ہے، محض ایک تنظیم نہیں۔ تاہم، جب آپ تنظیم کے مالی معمار اور عالمی رابطہ کار کو ختم کر دیتے ہیں تو اسے دوبارہ منظم ہونے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق، اس آپریشن نے داعش کی عالمی کارروائیوں کی صلاحیت کو ۶۰ فیصد سے زیادہ کم کر دیا ہے۔


عام نائجیرین شہری اس کارروائی کو کیسے دیکھ رہے ہیں؟

میں نے نائجیرین سوشل میڈیا اور مقامی نیوز چینلز پر ردعمل دیکھا ہے۔ عیسائی آبادی میں خاص طور پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ ابوبلال المینوکی انہی دیہاتوں میں حملوں کا ذمہ دار تھا جہاں چرچ کو جلایا جاتا تھا اور لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا جاتا تھا۔ مسلمانوں نے بھی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ایک نائجیرین صحافی نے لکھا کہ "آج رات پورے نائیجیریا نے سکھ کا سانس لیا۔"


اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: کیا اس کارروائی میں امریکی فوج کے جوان زمین پر اترے تھے؟

جواب: جی ہاں، لیکن یہ ایک چھوٹی اور خصوصی ٹیم تھی۔ زیادہ تر کارروائی نائجیرین فورسز نے کی اور امریکی فوج نے انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی فراہم کی۔

سوال: کیا اب نائیجیریا میں دیگر دہشت گرد گروپ فعال ہیں؟

جواب: جی ہاں، بوکو حرام کے کچھ دھڑے اب بھی موجود ہیں لیکن داعش کے عالمی نیٹ ورک کے خاتمے سے ان کی حوصلہ افزائی کم ہو جائے گی۔

سوال: کیا یہ کارروائی اقوام متحدہ کے کسی قانون کی خلاف ورزی تھی؟

جواب: نہیں، یہ کارروائی نائیجیریا کی حکومت کی درخواست اور تعاون سے کی گئی تھی، لہٰذا یہ بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق تھی۔

سوال: کیا اس سے مستقبل میں دہشت گردی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی؟

جواب: دہشت گردی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، لیکن اس طرح کی کامیابیاں اس کی راہ میں بڑی رکاوٹیں کھڑی کرتی ہیں۔ یہ ایک لمبی جنگ ہے لیکن آج کی فتح اس جنگ کا اہم سنگ میل ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی

اسمرتی مندھانا کی شاندار سنچری، بھارت کی انگلینڈ پر تاریخی فتح-

امن و استحکام کے لیے خطرہ" – مسلم برادران کا یورپ اور امریکہ میں خفیہ ایجنڈا