ہنٹا وائرس اگلی عالمی وبا: کیا ہمیں واقعی گھبرا جانا چاہیے؟


گذشتہ دنوں ہنٹا وائرس کی خبروں نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ خاص طور پر جب بحر اوقیانوس میں ایک کروز جہاز پر یہ وائرس پھیلا اور ۳ افراد جاں بحق ہو گئے . یہ اعداد و شمار خاصے پریشان کن ہیں، لیکن کیا واقعی ہمیں گھبرا کر بیٹھ جانے کی ضرورت ہے؟ آئیے اس وائرس کے بارے میں حقائق، علامات اور عالمی خطرے کا جائزہ لیتے ہیں۔


ہنٹا وائرس کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟

ہنٹا وائرس ایک نایاب مگر انتہائی خطرناک وائرس ہے جو بنیادی طور پر چوہوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ چوہوں کے پیشاب، فضلے یا لعاب سے ہوا میں موجود ذرات کو سانس کے ذریعے انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے . ماہرین کے مطابق، یہ وائرس انسان سے انسان میں عام طور پر نہیں پھیلتا، لیکن جنوبی امریکہ میں پائے جانے والا اینڈیز وائرس کچھ غیر معمولی صورتوں میں قریبی رابطے سے پھیل سکتا ہے .

کیا ہنٹا وائرس علامات میں کووڈ جیسا ہے؟

ابتدائی طور پر اس وائرس کی علامات عام فلو یا بخار سے ملتی جلتی ہیں۔ متاثرہ مریض کو تیز بخار، پٹھوں میں درد، تھکاوٹ اور سر درد ہوتا ہے . تاہم، یہ علامات تیزی سے سنگین شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ چند ہی دنوں میں وائرس پھیپھڑوں پر حملہ کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے سانس لینے میں شدید دشواری اور پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے۔ طبی اصطلاح میں اسے ہنٹا وائرس پلمونری سنڈروم کہا جاتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے .


کیا ہنٹا وائرس کا کوئی علاج موجود ہے؟

یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ ابھی تک ہنٹا وائرس کی کوئی ویکسین تیار نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص اینٹی وائرل علاج ہے . ڈاکٹر صرف مریض کی علامات کو کم کرنے پر توجہ دیتے ہیں، جیسے کہ آکسیجن دینا یا وینٹی لیٹر کا استعمال۔ تاہم، اگر بروقت تشخیص ہو جائے اور مریض کو آئی سی یو میں رکھا جائے تو جان بچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔


کیا یہ کووڈ-۱۹ جیسی عالمی وبا بن سکتا ہے؟

یہ وہ سوال ہے جس نے سب سے زیادہ لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، عوام کے لیے عالمی خطرہ انتہائی کم ہے . اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کووڈ-۱۹ کے برعکس، ہنٹا وائرس آسانی سے ہوا کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے میں نہیں پھیلتا۔ اس کی منتقلی کے لیے چوہوں سے براہ راست رابطہ ضروری ہے۔ کروز جہاز میں یہ پھیلاؤ ایک محدود ماحول تک محدود تھا، جسے روک لیا گیا ہے .


حفاظتی تدابیر اور احتیاط

چونکہ یہ وائرس چوہوں سے پھیلتا ہے، اس لیے بچاؤ کا سب سے بڑا ہتھیار صفائی ہے۔

اپنے گھر اور اردگرد کے ماحول کو چوہوں سے پاک رکھیں۔

کھانے پینے کی اشیاء کو ڈھک کر رکھیں۔

اگر کبھی کسی بند یا پرانی جگہ کی صفائی کر رہے ہیں تو ماسک اور دستانے ضرور استعمال کریں .


ہنٹا وائرس ایک سنگین بیماری ہے جس کی اموات کی شرح ۳۸ سے ۴۰ فیصد تک ہے ، لیکن یہ آسانی سے پھیلنے والی وبا نہیں ہے۔ ہمیں گھبرانے کی بجائے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ سائنس دان اس پر تحقیق کر رہے ہیں، اور عوام الناس کے لیے پیغام صاف ہے: چوہوں سے بچیں، صفائی رکھیں، اور بے جا افواہوں پر دھیان نہ دیں۔


FAQs

سوال: کیا ہنٹا وائرس انسان سے انسان میں پھیل سکتا ہے؟

جواب: زیادہ تر اقسام نہیں پھیلتیں۔ صرف جنوبی امریکہ میں پائی جانے والی اینڈیز وائرس کی قسم انتہائی قریبی رابطے میں پھیل سکتی ہے، لیکن یہ کیسز بہت کم ہیں .

سوال: ہنٹا وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

جواب: یہ وائرس انکیوبیشن پیریڈ (دب جانے کی مدت) ۱ سے ۸ ہفتوں تک ہو سکتا ہے، لیکن عام طور پر ۲ سے ۴ ہفتوں میں علامات سامنے آتی ہیں .

سوال: کیا پاکستان میں ہنٹا وائرس کا خطرہ ہے؟

جواب: ڈبلیو ایچ او کے مطابق عالمی خطرہ بہت کم ہے۔ تاہم، پبلک ہیلتھ ماہرین نے شہری علاقوں میں چوہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے احتیاط کی ہدایت کی ہے .

سوال: کیا ماسک پہننے سے ہنٹا وائرس سے بچا جا سکتا ہے؟

جواب: ہاں، جہاں دھول اڑ رہی ہو یا چوہوں کا فضلہ ہو، وہاں N-95 ماسک سانس کے ذریعے وائرس کو اندر جانے سے روک سکتا ہے .

Comments

Popular posts from this blog

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی

اسمرتی مندھانا کی شاندار سنچری، بھارت کی انگلینڈ پر تاریخی فتح-

امن و استحکام کے لیے خطرہ" – مسلم برادران کا یورپ اور امریکہ میں خفیہ ایجنڈا