پاکستان کے ۷۹ ہائی رسک اضلاع میں پولیو کے خلاف جنگ تیز
پاکستان میں پولیو کے خلاف جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ پاکستان میں پولیو مہم کے تحت ۷۹ ہائی رسک اضلاع میں ۱۹ ملین بچوں کو ویکسین لگانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ مہم ۱۸ سے ۲۴ مئی ۲۰۲۶ تک جاری رہے گی اور اس میں ۱۶۰،۰۰۰ سے زائد تربیت یافتہ محنتی کارکن گلی گلی جا کر بچوں کو پولیو کے قطروں سے محفوظ بنائیں گے۔
یہ کوشش نہ صرف قومی سطح پر اہم ہے بلکہ اسے پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ ہم آہنگی سے چلایا جا رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک اس بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
پولیو مہم کا پس منظر اور موجودہ صورتحال
پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو مستقل طور پر مفلوج کر سکتی ہے۔ جب ۱۹۹۴ میں پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی قومی کوششوں کا آغاز ہوا تو اس وقت ملک میں سالانہ ۲۰،۰۰۰ سے زائد کیس رپورٹ ہوتے تھے۔ آج وہی تعداد ڈرامائی طور پر کم ہو کر ۲۰۲۵ میں ۳۱ اور ۲۰۲۶ میں صرف تین کیس رہ گئی ہے۔
یہ کامیابی محض اعداد و شمار میں تبدیلی نہیں بلکہ لاکھوں پولیو ورکرز کی محنت، حکومتی عزم اور عوام کی شرکت کا ثمر ہے۔ تاہم ابھی بھی پولیو وائرس مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور کچھ ہائی رسک علاقوں میں یہ موجود ہے، جس کی وجہ سے بار بار ویکسینیشن مہم چلانا ضروری ہوگیا ہے۔
Pakistan has launched a targeted, week-long polio vaccination campaign across 79 high-risk districts, according to the National Emergency Operations Centre (NEOC). pic.twitter.com/Kn1eeFIZzj
— Pakistan TV Digital (@PakistanTVcom) May 18, 2026
صوبائی سطح پر پولیو مہم کی تیاریاں
اس قومی مہم میں چاروں صوبوں اور اسلام آباد کو یکساں طور پر شامل کیا گیا ہے:
خاص طور پر سندھ میں یہ مہم ۲۰ اضلاع میں چلائی جا رہی ہے جہاں ۵.۸ ملین بچوں کو ویکسین دی جائے گی۔ کراچی میں دو ہفتے پر محیط بوسٹر ڈوز مہم بھی جاری ہے جس میں اب تک ۱.۱ ملین بچوں کو ویکسین لگ چکی ہے۔
محاذ آرائی اور پولیو ورکرز کو درپیش خطرات
پولیو کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ ویکسین ورکرز اور ان کی سیکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر حملے ہیں۔ ۱۸ مئی کو مہم کے پہلے ہی دن خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے دو پولیس اہلکاروں کو شہید کر دیا۔
یہ واقعہ کوئی نیا نہیں۔ ۱۹۹۰ کی دہائی سے اب تک پاکستان میں ۲۰۰ سے زائد پولیو ورکرز اور پولیس اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ حملے اکثر اس غلط فہمی پر مبنی ہوتے ہیں کہ پولیو ویکسین مغربی سازش ہے، جبکہ حقیقت میں یہ بچوں کی زندگی بچانے کا سب سے محفوظ اور مؤثر طریقہ ہے۔
اس کے باوجود، راولپنڈی پولیس نے ۹۰۰ سے زائد اہلکار تعینات کیے ہیں جبکہ ٹیکسلا میں ۶۵۱ ٹیمیں گھر گھر جا رہی ہیں۔ یہ عزم اور لگن قابل ستائش ہے۔
عالمی تناظر اور مستقبل کی راہ
پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ آخری دو ممالک ہیں جہاں پولیو اب بھی مقامی سطح پر موجود ہے۔ اگر پاکستان اس بیماری کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستانی بچوں کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہوگی۔
تاہم اس کا انحصار عوام کے رویے پر بھی ہے۔ بدقسمتی سے اب بھی دیہی علاقوں میں ویکسین کے بارے میں غلط افواہیں عام ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ ان غلط اطلاعات کو مسترد کریں اور اپنے بچوں کو اس مہلک بیماری سے بچانے کے لیے ویکسین لگوائیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی پولیو کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو پولیو مہم سے منسلک کرنے کی تجویز پر بھی کام ہو رہا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: پاکستان میں پولیو کی ویکسینیشن مہم ۲۰۲۶ کب شروع ہوئی؟
جواب: پولیو کے خلاف قومی مہم ۱۸ مئی ۲۰۲۶ کو شروع ہوئی اور ۲۴ مئی تک جاری رہے گی۔ یہ ایک ہفتہ طویل مہم ہے جسے پاکستان کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی نگرانی میں چلایا جا رہا ہے۔
سوال: ۷۹ ہائی رسک اضلاع میں پولیو مہم کا مقصد کیا ہے؟
جواب: اس مہم کا مقصد ان ہائی رسک علاقوں میں رہنے والے ۱۹ ملین بچوں کو پولیو وائرس سے بچانا ہے جہاں یہ بیماری اب بھی پھیلنے کا خطرہ ہے۔ بار بار ویکسینیشن کے ذریعے بچوں میں قوت مدافعت پیدا کرنا اور وائرس کی ترسیل کا سلسلہ توڑنا ہے۔
سوال: پولیو ورکرز کو سیکیورٹی کیوں فراہم کی جاتی ہے؟
جواب: بدقسمتی سے پاکستان کے کچھ علاقوں میں شدت پسند عناصر پولیو ٹیموں کو نشانہ بناتے ہیں۔ صرف مہم کے پہلے دن باجوڑ میں دو پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ اس لیے ورکرز اور ان کی حفاظت پر تعینات اہلکاروں کی سیکیورٹی کے لیے ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں۔
سوال: سندھ میں پولیو مہم کن اضلاع میں چل رہی ہے؟
جواب: سندھ میں یہ مہم بدین، گھوٹکی، دادو، حیدرآباد، جیکب آباد، جامشورو، قمبر-شہدادکوٹ، کشمور، خیرپور، لاڑکانہ، میرپورخاص، سانگھڑ، شہید بینظیرآباد، شکارپور، سجاول، سکھر، تھرپارکر، ٹھٹہ، ٹنڈو محمد خان اور عمرکوٹ سمیت ۲۰ اضلاع میں چلائی جا رہی ہے۔

Comments
Post a Comment