لبنان پر اسرائیلی جارحیت: پاکستان کا سلامتی کونسل میں اہم مؤقف


پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اسرائیلی افواج کی طرف سے لبنان میں جاری وحشیانہ کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب آصف افتخار احمد نے کہا کہ صیہونی حکومت لبنان میں وہی طریقہ کار استعمال کر رہی ہے جو پہلے فلسطین میں دیکھنے میں آیا تھا۔ اندھا دھند قتل، جبری بے دخلی اور غیر قانونی قبضے کی یہ کارروائیاں عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔


لبنان میں اسرائیلی قبضے کے نتیجے میں کتنی جانیں ضائع ہوئی ہیں؟

اعداد و شمار انتہائی خوفناک ہیں۔ مارچ ۲۰۲۶ سے اب تک صرف ۳ ماہ میں ۳ ہزار ۴۰۰ سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں بے گناہ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد ۱۰ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ مزید برآں، اسرائیلی افواج نے لبنان کے ۲ ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر غیر قانونی قبضہ کر لیا ہے جو لبنان کے کل رقبے کا ۲۰ فیصد بنتا ہے۔


لبنان میں جاری انسانی بحران کی شدت کتنی ہے؟

یہ بحران انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ ۱۰ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ ۱۲۵ طبی عملے کے ارکان کو شہید کیا جا چکا ہے اور ۳۰۰ سے زائد زخمی ہیں۔ پاکستان کا لبنان جنگ بندی مطالبہ اس لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ انسانی المیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے اور شہری آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔


پاکستان کا لبنان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیوں اہم ہے؟

پاکستان نے نہ صرف لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے بلکہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف عملی کردار ادا کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ سفیر آصف افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے۔ یہ پاکستان کے ثابت قدم موقف کی عکاسی کرتا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں امن صرف بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔

سلامتی کونسل لبنان میں جنگ بندی کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے؟

فرانس کی درخواست پر بلائے گئے اس ہنگامی اجلاس میں سلامتی کونسل کے بیشتر اراکین نے اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ فرانس کے سفیر جیروم بونافون نے خبردار کیا کہ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں ایک بڑی اسٹریٹجک غلطی ہیں۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سلامتی کونسل محض اظہارِ تشویش پر اکتفا کرے گی یا عملی اقدامات کرے گی؟ اقوام متحدہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل مارتھا پوبی نے صورتحال کو "انتہائی خطرناک" قرار دیا ہے۔


اسرائیلی حملوں کی وجہ سے لبنان کے ثقافتی ورثے کو کتنا نقصان پہنچا ہے؟

لبنان کی تاریخی اور ثقافتی وراثت کو بھی شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ بو فورٹ قلعہ جیسی تاریخی عمارتوں پر اسرائیلی قبضے نے پوری عرب دنیا کو غم و غصے سے دوچار کر دیا ہے۔ پاکستان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ثقافتی ورثے کی یہ تباہی لبنان کے معاشرتی شیرازے کو بکھیرنے کے مترادف ہے۔


اقوام متحدہ کی قرارداد ۱۷۰۱ کی خلاف ورزی کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟

یہ سب سے اہم سوال ہے۔ پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ قرارداد ۱۷۰۱ پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور اسرائیل بلیو لائن کے پیچھے مکمل طور پر واپس چلا جائے۔ اگر اس قرارداد کی خلاف ورزی جاری رہی تو پورا مشرق وسطیٰ ایک بڑی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ۳۰ مئی کو صرف ایک دن میں اسرائیلی افواج کی ۹۹۲ پروجیکٹائل ٹریجیکٹریز ریکارڈ کی گئیں جو ۱۷ اپریل کی جنگ بندی کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔


عالمی برادری کو بیدار ہونا ہوگا

پاکستان کا لبنان جنگ بندی مطالبہ صرف ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک انسانی ضرورت ہے۔ فرانس کے سفیر نے درست کہا کہ تاریخ سبق دیتی ہے۔ اگر عالمی برادری نے ابھی بھی آنکھیں بند کر لیں تو لبنان وہی اندوہناک انجام دیکھے گا جو پچھلی صدی میں دیکھا گیا تھا۔

پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ امن صرف مکالمے سے قائم ہو سکتا ہے جبکہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اب وقت اظہارِ تشویش کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ ورنہ یہ تنازع پورے خطے کو آگ میں جھونک دے گا۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: پاکستان نے لبنان جنگ بندی کا مطالبہ کب کیا؟

جواب: پاکستان نے ۲ جون ۲۰۲۶ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اسرائیلی افواج کے لبنان میں گہرے دخول کے بعد فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

سوال: لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں؟

جواب: مارچ ۲۰۲۶ سے اب تک ۳ ہزار ۴۰۰ سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ ۱۰ ہزار سے زائد زخمی ہیں۔

سوال: اقوام متحدہ کی قرارداد ۱۷۰۱ کیا ہے؟

جواب: یہ قرارداد اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے منظور کی گئی تھی جس میں اسرائیل کو بلیو لائن کے پیچھے واپس جانے کا حکم دیا گیا تھا۔

سوال: پاکستان کا لبنان کے بحران پر کیا مؤقف ہے؟

جواب: پاکستان لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے اور فوری جنگ بندی اور سفارتی حل کا حامی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی

اسمرتی مندھانا کی شاندار سنچری، بھارت کی انگلینڈ پر تاریخی فتح-

امن و استحکام کے لیے خطرہ" – مسلم برادران کا یورپ اور امریکہ میں خفیہ ایجنڈا