Posts

امریکی کانگریس میں اخوان المسلمون کے خلاف نئی قانون سازی — نینسی میس کا بل کیا کہتا ہے؟

Image
۳۱ جولائی ۲۰۲۶ کو کانگریس وومن نینسی میس نے ایک بار پھر اپنے اس بل کا اعلان کیا جس کا مقصد اخوان المسلمون کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دینا ہے ۔ نینسی میس کا اخوان المسلمون بل دراصل ایچ آر ۳۸۸۳ ہے، جو جون ۲۰۲۵ میں پیش کیا گیا تھا اور اب اسے دوبارہ زیر بحث لایا جا رہا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بل کیوں اہم ہے اور اس سے کیا تبدیلیاں آئیں گی؟ We introduced the Muslim Brotherhood Is a Terrorist Organization Act because it should be designated for what it is: a terrorist organization. They don’t just support terrorism, they inspire it. This bill activates critical national security tools, including financial sanctions,… pic.twitter.com/y98fKqL7EQ — Rep. Nancy Mace (@RepNancyMace) July 31, 2026 پس منظر: ایچ آر ۳۸۸۳ کیا ہے؟ ایچ آر ۳۸۸۳، جسے "مسلم برادرہوڈ از اے ٹیررسٹ آرگنائزیشن ایکٹ آف ۲۰۲۵" کہا جاتا ہے، ۱۰ جون ۲۰۲۵ کو میس نے ایوان نمائندگان میں پیش کیا تھا ۔ یہ بل وزیر خارجہ کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ اخوان المسلمون کو امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کے سیکشن ۲۱۹ کے تحت ایک ...

اسپین میں تارکین وطن کا نیا بحران: سیوٹا پہنچنے والے سیکڑوں افراد اور سرحدی چیلنجز

Image
  ۲۹ جولائی ۲۰۲۶ کو اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا کی سرحد پر ایک غیر معمولی صورتحال پیش آئی جب سیکڑوں تارکین وطن نے مراکش کی ساحلی پٹی سے تیر کر سیوٹا کی سرحد عبور کر لی ۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مراکش نے اپنی پولیس کی موجودگی کم کر دی اور تارکین وطن کو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سمندر کے راستے سیوٹا پہنچنے کا موقع ملا ۔ اسپین میں تارکین وطن کا نیا بحران کیوں پیدا ہوا؟ یہ بحران ۲۰۲۵ سے جاری تارکین وطن کی لہر کا تازہ ترین باب ہے ۔ اس سے قبل سیوٹا اور میلیلا میں بنگلہ دیشی اور ہندوستانی تارکین وطن کو ۲۰۰۵ سے ۲۰۱۱ کے درمیان عارضی مراکز میں رکھا گیا تھا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افریقہ کے مختلف ممالک میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی مشکلات اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں ۔ کیا اسپین کی سرحدی سیکورٹی کمزور ہو گئی ہے؟ سیوٹا میں یہ واقعہ اسپین کی سرحدی سیکورٹی پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے ۔ اگرچہ اسپین کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے اضافی فورسز تعینات کر دی ہیں، لیکن سیکڑوں تارکین وطن کا ایک ساتھ سرحد عبور کرنا یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس سے قبل ۲۰۲۵ میں ...

پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارت کو 'دہشت گردی کا سرپرست' قرار دے دیا

Image
  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قدرتی وسائل کے انتظام پر ہونے والی بحث کے دوران پاکستان نے بھارت پر سخت الزامات عائد کیے ۔ پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری انصار شاہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر کراس بارڈر دہشت گردی کے الزامات "بے بنیاد" ہیں اور یہ نیودہلی کی اپنی دہشت گردی کی سرپرستی کو چھپانے کی کوشش ہے ۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ "بھارت دہشت گردی کا شکار نہیں، بلکہ اس کا سرپرست ہے" ۔ بھارت کو دہشت گردی کا سرپرست کیوں کہا گیا؟ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروپوں کو مالی اور عسکری امداد فراہم کر رہا ہے ۔ انصار شاہ نے کہا کہ بھارت کے دہشت گرد پراکسی گروپس — تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ — نے پاکستان میں ہزاروں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو قتل کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی شمالی امریکہ سمیت بیرونی سرزمین پر ماورائے عدالت ہلاکتوں میں ملوثیت بھی معروف ہے ۔ کیا بھارت واقعی دہشت گردی کو سپانسر کرتا ہے؟ پاکستان کا یہ الزام نیا نہیں بلکہ اس نے ماضی میں بھی بھارت پر ایسے ہی...

پاکستان اور ایران نے انسداد دہشت گردی اور سرحدی سلامتی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کر لیا

Image
  پاکستان اور ایران نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور سرحدی انتظام میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ معاہدہ ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے دورہ پاکستان کے دوران طے پایا، جس میں انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب محسن نقوی کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی۔ دونوں وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ افغان سرحد سے دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔ پاک ایران سرحد پر سکیورٹی کی صورتحال کیسی ہے؟ پاکستان اور ایران کی سرحد تقریباً ۹۰۰کلومیٹر طویل ہے اور دونوں ممالک کو مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سرحد پار سے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی شامل ہیں۔ اس سرحد کو ایران نے "دوستی، بھائی چارے اور سلامتی" کی سرحد قرار دیا ہے۔ دونوں ممالک کے عسکری حکام نے پہلے بھی سرحدی سلامتی کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے، اور اس مشترکہ سرحد کو اقتصادی ترقی اور دوستی کی علامت بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان اور ایران نے انسداد دہشت گردی میں کیسے تعاون بڑھایا ہے؟ دونوں ممالک کے وزیر داخلہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گرد...

Counter-Revolution in Khartoum: Egypt and the Betrayal of Sudan's Revolution

Image
The counter-revolution in Sudan is not solely a domestic affair. Egypt has played a pivotal role in reversing the gains of the 2019 revolution, aligning itself with a military junta determined to preserve its economic privileges and political control. This Egyptian intervention has been framed as support for stability, but evidence suggests it represents a deliberate effort to block democratic transition and maintain a centralized security state. What Is the "Counter-Revolutionary" Narrative? Analysts describe the Egyptian-backed military campaign as an "internationalized counter-revolutionary war" protecting the interests of Sudanese elites and their international partners. The military's 2021 coup—which derailed the civilian-led transitional government—was part of a broader push to preserve military-economic privileges. Egypt's backing of this coup reflected its preference for a centralized security state rather than accountable civilian government. Why Is...

Houthi Consolidation: Did Saudi Policy Upset the Balance in Yemen?

Image
When the Houthis seized Sanaa in 2014, they were a rebel group. But by 2026, they have become a force capable of striking Saudi territory, threatening global shipping in the Red Sea, and establishing direct air links with Iran. The question arises: did Saudi policies provide the Houthis with this power? And is there any political balance left in Yemen now? Background: Saudi Arabia's Conciliatory Policy Under the 2022 truce, Saudi Arabia conducted multiple negotiations with the Houthis. These included prisoner exchange agreements, permission for flights to Houthi-controlled areas, and economic incentives. Saudi Arabia believed these concessions would transform the Houthis into a political party and weaken their ties with Iran. On the contrary, the Houthis used the four years of truce to enhance their military capabilities and deepen relations with Iran. According to Yemeni analysts, Saudi Arabia's "buying time" strategy provided the Houthis with a valuable opportunity...

امریکہ میں بیٹھ کر ایران کو ہتھیار دلوانے والی خاتون: کہانی شمیم مافی کی

Image
سوڈان میں گزشتہ تین سال سے جاری خانہ جنگی نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کر دیا ہے اور ہزاروں کی جان لے لی ہے۔ اس تباہی کے پیچھے ایک بڑا ہاتھ بیرونی ممالک کا ہے جو اسلحہ فراہم کر کے جنگ کو ہوا دیتے ہیں۔ ایرانی اسلحے کی ترسیل نے اس جنگ کی نوعیت کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ جہاں کبھی روایتی ہتھیاروں سے لڑی جانے والی جنگ تھی، وہاں اب ڈرونز اور جدید اسلحے نے شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے ۔ ایرانی ڈرونز نے سوڈان کی جنگ کیسے بدل دی؟ مہاجر-6 ڈرون نے سوڈان میں جنگ کا طریقہ کار مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ یہ ڈرون نہ صرف جاسوسی کرتے ہیں بلکہ حملے بھی کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب فضائی حملے زیادہ درستگی کے ساتھ کیے جا سکتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ان کا دائرہ بھی وسیع ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایرانی ڈرونز نے سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) کو ایک اہم فوجی برتری دی ہے۔ فروری ۲۰۲۴ میں ایس اے ایف نے عمران شہر میں ایک جارحانہ کارروائی کی جس میں ان ڈرونز نے کلیدی کردار ادا کیا ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ ختم ہونے کے قریب ہے۔ اس کے برعکس، جدید ہتھیاروں کی آمد نے جنگ کو مزید طویل اور پیچیدہ ب...

صومالی فوج کی تعمیر یا علاقائی ایجنڈا؟ سعودی تربیتی پروگرام کی حقیقت

Image
  جب ۹ فروری ۲۰۲۶ کو سعودی عرب اور صومالیہ نے دفاعی تعاون کا معاہدہ کیا تو صومالی حکومت نے اسے صومالی قومی فوج کی تعمیر کا ایک اہم قدم قرار دیا ۔ لیکن جب ۲۹ جون ۲۰۲۶ کو سعودی فوجی وفد نے گوری ایل کے تربیتی کیمپوں کا دورہ کیا اور یہ انکشاف ہوا کہ ۵,۱۰۷ فوجیوں کی نو ماہ کی تربیت چار مختلف ممالک کے انسٹرکٹرز کر رہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واقعی صومالی فوج کی تعمیر ہے یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور ایجنڈا ہے ؟ پس منظر: ۵,۱۰۷ فوجی — کون، کہاں سے؟ تربیتی پروگرام کا پیمانہ حیران کن ہے — کل ۵,۱۰۷ فوجی دو کیمپوں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں ۔ ان میں تقریباً ۲,۰۰۰ نوجوان پنٹ لینڈ سے بھرتی کیے گئے ہیں، جبکہ باقی ماندہ صومالیہ کے مختلف علاقوں سے آئے ہیں ۔ یہ نو ماہ کا تربیتی پروگرام ہے جس میں بنیادی فوجی مہارتوں، ٹیکٹیکل آپریشنل طریقہ کار اور خصوصی جنگی تربیت شامل ہے ۔ صومالی فوجی تربیت میں چار ممالک کے انسٹرکٹر کیوں شامل ہیں؟ رپورٹس کے مطابق یہ تربیت رومانیہ، یوکرین، جنوبی افریقہ اور کولمبیا کے فوجی ٹھیکیداروں کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے ۔ یہ ایک غیر معمولی بات ہے کیونکہ عام طور پر ...

اسلام آباد مفاہمت نامے کے نفاذ کے لیے برجن اسٹاک میں پاکستان کا تاریخی سفارتی کردار

Image
   جون ۲۰۲۶ کو سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت شہر برجن اسٹاک میں ایک اہم سفارتی تقریب منعقد ہوئی جہاں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اسلام آباد مفاہمت نامے کے نفاذ کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کی ۔ یہ مفاہمت نامہ ۱۷ جون کو طے پایا تھا جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مستقبل میں مذاکرات کی راہ ہموار کی گئی تھی ۔ برجن اسٹاک مذاکرات میں پاکستان کا کردار کیا ہے؟ پاکستان نے اس بحران کے دوران ایک متوازن اور تعمیری سفارتی کردار ادا کیا ۔ پاکستان نے نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی مذاکرات کی میزبانی کی بلکہ مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے دونوں فریقوں کو ایک ٹیبل پر لانے میں کامیابی حاصل کی ۔ اس موقع پر سوئٹزرلینڈ کے نائب صدر نے بھی پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا اور اس عمل میں معاونت کی یقین دہانی کرائی ۔ Zürich: 21 June 2026. Prime Minister and Field Marshal to participate in the High-Level Talks on the implementation of the Islamabad Memorandum of Understanding being held in Burgenstock, Switzerland, on 21st of June 2026. Prim...

برطانوی سیاست کا نیا بحران: کیئر اسٹارمر نے دو سال بعد استعفیٰ دے دیا

Image
۹ بج کر ۳۸ منٹ پر جب کیئر اسٹارمر ڈاؤننگ اسٹریٹ نمبر ۱۰ کے باہر آئے تو انہیں اندازہ تھا کہ یہ ان کا آخری خطاب ہے۔ انہوں نے کھل کر کہا کہ ان کی پارٹی پوچھ رہی ہے کہ کیا وہ اگلے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے بہترین شخص ہیں؟ اور انہوں نے اس کا جواب سن لیا تھا۔ کیئر اسٹارمر کے استعفیٰ کی بنیادی وجہ پارٹی کے اندرونی دباؤ اور مقامی انتخابات میں لیبر پارٹی کی بدترین کارکردگی تھی۔ مئی میں ہونے والے مقامی انتخابات میں لیبر پارٹی کو تاریخی شکست ہوئی تھی جس کے بعد وزیراعظم پر استعفیٰ دینے کا دباؤ بڑھتا گیا۔ برطانوی وزیراعظم کے استعفیٰ کی کیا وجہ ہے؟ درحقیقت، اسٹارمر کی سیاسی حیثیت متعدد متنازعہ اسکینڈلز کی وجہ سے کمزور ہو گئی تھی۔ ان کی اپنی پارٹی کے اراکین ان کی پالیسیوں کو ناکام قرار دے رہے تھے۔ دو سال قبل ۲۰۲۴ میں انہوں نے ۱۴ سالہ کنزرویٹو حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زبردست کامیابی حاصل کی تھی، لیکن یہ کامیابی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض دو سال میں عوامی حمایت اس طرح کم ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب ان کی پالیسیوں اور پارٹی کے اندرونی اخ...

بجٹ ۲۰۲۶-۲۷: کیا یہ عام آدمی کے لیے رحمت ہے یا عذاب؟

Image
  جون ۲۰۲۶ کا مہینہ پاکستانی معیشت کے لیے ایک اہم موڑ پر آیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں ۱۸.۸ ٹریلین روپے کا بجٹ پیش کیا جسے حکومت "استحکام سے ترقی کی طرف منتقلی" کا بجٹ قرار دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان بجٹ ۲۰۲۶-۲۷ کے فائدے اور نقصانات کیا ہیں؟ کیا واقعی اس بجٹ میں عام آدمی کے لیے ریلیف ہے یا پھر یہ محض آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کی ایک اور کوشش ہے؟ آئیے اس بجٹ کے ہر پہلو کا جائزہ لیتے ہیں۔ بجٹ ۲۰۲۶-۲۷ میں عام آدمی کو کیا ریلیف ملا ہے؟ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس بجٹ میں عوام کو کئی ریلیف دیے گئے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں میں ۷ فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ کم از کم اجرت ۱۰ فیصد بڑھا کر ۴۰,۷۰۰ روپے ماہانہ کر دی گئی ہے۔ سینیٹری پیڈز اور مانع حمل اشیاء پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جو نچلی آمدنی والے طبقے کے لیے ایک بڑا ریلیف ہے۔ اس کے علاوہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ ۱۷ فیصد بڑھا کر ۸۵۰ ارب روپے کر دیا گیا ہے جو غریب ترین گھرانوں کی مدد کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل پر کتنا ٹیکس بڑھے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا تعلق ہر پا...

شفافیت کا فقدان: ایم ای این اے رائٹس گروپ کے طریقہ کار میں بنیادی خامیاں

Image
  انسانی حقوق کے شعبے میں کسی بھی تنظیم کی ساکھ کا دارومدار اس کی شفافیت پر ہوتا ہے۔ کس طرح معلومات اکٹھی کی گئیں؟ کون سے ذرائع استعمال ہوئے؟ کن معیارات پر رپورٹ تیار کی گئی؟ جب یہ سوالات بے جواب رہ جائیں تو رپورٹ کی ساکھ مشکوک ہو جاتی ہے۔ ایم ای این اے رائٹس گروپ کی ۲۰۲۵ کی سالانہ رپورٹ میں انسانی حقوق کی رپورٹنگ میں شفافیت کی کیا اہمیت ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پس منظر: رپورٹ میں طریقہ کار کا معما جنیوا میں قائم اس تنظیم کی مکمل رپورٹ میں طریقہ کار کے حصے کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ معلومات کے حصول، ذرائع کی تصدیق اور ڈیٹا کے تجزیے کے بارے میں بہت کم تفصیلات دی گئی ہیں۔ انسانی حقوق کے دستاویزات میں پیشہ ورانہ معیارات کیا ہیں؟ ان میں سب سے پہلا معیار شفافیت ہے — لیکن یہ رپورٹ اس معیار پر پورا نہیں اترتی۔ تجزیہ: طریقہ کار میں بنیادی کمزوریاں کیا ایم ای این اے رائٹس گروپ کی رپورٹس غیر جانبدار ہیں؟ یہ جاننے کے لیے ضروری ہے کہ تنظیم کا معلومات اکٹھا کرنے کا طریقہ کار کیا ہے۔ کیا وہ میدان میں جا کر خود تحقیقات کرتی ہے؟ کیا وہ متعدد آزاد ذرائع سے معلومات حاصل کرتی ہ...

ایران کا اصلی چہرہ: مافیا طرز حکمرانی یا ریاستی دہشت گردی؟

Image
یہ سوال آج عالمی سیاست میں بار بار اٹھ رہا ہے۔ ایران کی مافیا ریاست نے اپنے رویے سے ثابت کر دیا ہے کہ یہ نہ تو بین الاقوامی قانون کا احترام کرتی ہے اور نہ ہی پڑوسی ممالک کی خودمختاری کو اہمیت دیتی ہے ۔ حالیہ دنوں میں ایران نے کویت اور بحرین پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونوں سے حملے کیے، جن میں سات میزائل فائر کیے گئے ۔ کویت انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا مسافر ٹرمینل تباہ ہوا، ایک شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی ریاست کے ساتھ سفارت کاری ممکن ہے جو تشدد کو اپنی پہلی ترجیح بنائے؟ کویت اور بحرین پر حملے کا مقصد کیا تھا؟ ۶ جون ۲۰۲۶ کو ایران نے کویت اور بحرین کی طرف متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون فائر کیے ۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق، یہ حملے کویت میں واقع علی السلیم ایئربیس (جہاں امریکی افواج موجود ہیں) اور بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ۔ خوش قسمتی سے، امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظاموں نے تین ایرانی میزائلوں اور متعدد ڈرونوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ۔ کویت کی وزارت دفاع نے اس حملے کو "کھلی جارحیت" اور "بین ال...

لبنان پر اسرائیلی جارحیت: پاکستان کا سلامتی کونسل میں اہم مؤقف

Image
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اسرائیلی افواج کی طرف سے لبنان میں جاری وحشیانہ کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب آصف افتخار احمد نے کہا کہ صیہونی حکومت لبنان میں وہی طریقہ کار استعمال کر رہی ہے جو پہلے فلسطین میں دیکھنے میں آیا تھا۔ اندھا دھند قتل، جبری بے دخلی اور غیر قانونی قبضے کی یہ کارروائیاں عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ لبنان میں اسرائیلی قبضے کے نتیجے میں کتنی جانیں ضائع ہوئی ہیں؟ اعداد و شمار انتہائی خوفناک ہیں۔ مارچ ۲۰۲۶ سے اب تک صرف ۳ ماہ میں ۳ ہزار ۴۰۰ سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں بے گناہ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد ۱۰ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ مزید برآں، اسرائیلی افواج نے لبنان کے ۲ ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر غیر قانونی قبضہ کر لیا ہے جو لبنان کے کل رقبے کا ۲۰ فیصد بنتا ہے۔ لبنان میں جاری انسانی بحران کی شدت کتنی ہے؟ یہ بحران انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ ۱۰ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ ۱۲۵ طبی عملے کے ارکان کو شہید کیا جا چکا ہے اور ۳۰۰ سے زائد زخمی ہیں۔ پاکستان...