سفارتی ڈھال کے پیچھے جاسوسی: ایران کا یورپی نیٹ ورک اور اس کا خاتمہ
سفارتی استثنیٰ بین الاقوامی تعلقات کی ایک اہم اساس ہے، لیکن جب کوئی ملک اس ڈھال کو جاسوسی، دہشت گردی کی مالی معاونت، اور مخالفین کی نگرانی کے لیے استعمال کرتا ہے تو پھر یہ ایک سنگین خطرہ بن جاتا ہے۔ ایران کے سفارتی مشنز یورپ میں صرف سفارت کاری نہیں کر رہے بلکہ انٹیلیجنس آپریشنز، ڈائسپورا کی نگرانی، اور اثر و رسوخ کی کارروائیوں کا مرکز بن چکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یورپ اس بڑھتے ہوئے خطرے کو روکنے کے لیے تیار ہے؟
پس منظر: فرانس میں نصف صدی کی دراندازی
فرانس۲۰۵۰ کی ۱۲۰ صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق، ایران نے فرانس میں نصف صدی پر محیط "ساختہ دراندازی کا نظام" قائم کیا ہے، جس کا مرکز پیرس میں ایران کا سفارت خانہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سفارت خانے کے نمبر دو شخص علی رضا خلیلی نے تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور میڈیا میں ممکنہ رابطوں کی شناخت اور بھرتی کرنے کا نیٹ ورک بنایا۔
رپورٹ کے شریک مصنف ایڈرین کالامیل کے مطابق، "جب آپ ۴۷ سال کے اس نیٹ ورک کو بڑھنے دیتے ہیں تو… فرانس میں اثر و رسوخ کی سطح بہت زیادہ ہے"۔
تجزیہ: صحافیوں اور مہاجرین کو نشانہ بنانا
یہ صرف فرانس تک محدود نہیں ہے۔ حقوق گروپ ہانا کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران اپنے سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو مہاجرین، صحافیوں، حقوق کارکنوں اور پناہ کے متلاشی افراد کی نگرانی، شناخت اور تعاقب کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ہانا نے خبردار کیا کہ بعض ایرانی سفارتی مشن اپنی قانونی ذمہ داریوں سے تجاوز کر رہے ہیں اور سیکورٹی اور عدالتی اداروں کے ساتھ مل کر کارکنوں کے پتے، اثاثے اور خاندانی تعلقات کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔
برطانیہ میں صورتحال اور بھی سنگین ہے۔ جولائی ۲۰۲۶ میں برطانیہ نے ایران کے چارج ڈی افیئر علی ناصم فر کو طلب کیا جب انکشاف ہوا کہ ایران نے پراکسی گروپوں کو یورپ میں حملے کرنے کی ہدایت دی تھی۔ برطانوی دفتر خارجہ نے اس سرگرمی کو "مکمل طور پر ناقابل قبول" قرار دیا اور کہا: "بار بار کی تنبیہ کے باوجود، ایران کی انٹیلیجنس سروسز نے اپنی مخالفانہ سرگرمیاں بند نہیں کیں"۔
برطانیہ نے انقلابی گارڈز کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے، جس کی خلاف ورزی پر ۱۴ سال قید کی سزا ہے۔
"بغیر جنگ کے افراتفری" کی حکمت عملی
فرانس۲۰۵۰ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو بڑے اہداف ہیں: ایران کے ایٹمی معاملے اور اسرائیل پر فرانس پر دباؤ ڈالنا، اور جمہوریتوں کے دل میں "بغیر جنگ کے افراتفری" لانا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے سفارت خانے نے فرانسیسی یونیورسٹیوں اور عظیم اسکولوں کو بھرتی کے لیے اہم میدان بنایا۔ سفارت خانے نے "ایرانی ثقافت کی طرف کھلے ذہن رکھنے والے طلباء یا محققین" کو اسکالرشپ، انٹرن شپ، اور ایران کے منظم دورے پیش کیے۔ ان اہداف میں "نوجوان دانشور، تربیت یافتہ صحافی، یا این جی او کارکن جو مغرب مخالف یا سامراج مخالف بیانیے کے شکار ہو سکتے ہیں" شامل تھے۔
عالمی اثرات: یورپی ردعمل اور توانائی کی قیمتیں
ہرمز آبنائے کی بندش — جس میں سے عالمی تیل اور گیس کا ۲۰ فیصد گزرتا ہے — نے یورپی معیشتوں کو تباہ کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کے صدر نے بتایا کہ صرف ۶۰ دنوں میں یورپ کے فوسل فیول درآمدی بل میں ۲۷ بلین یورو کا اضافہ ہوا "بغیر توانائی کے ایک اضافی مالیکیول کے"۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ایران کا یورپی نیٹ ورک مزید پھیلتا رہے گا اور یورپ کی داخلی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق رہے گا۔
نتیجہ: اب کارروائی کا وقت
یہی وجہ ہے کہ یورپی ممالک کو فوری اور سخت اقدامات کرنے چاہییں۔ سفارتی استثنیٰ کو جاسوسی اور دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یورپ کو ایران کے سفارتی اہلکاروں کی تعداد میں کمی، مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی، اور انقلابی گارڈز کو یورپی یونین کی سطح پر دہشت گرد تنظیم قرار دینے جیسے اقدامات کرنے چاہییں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
ایران اپنے سفارت خانوں کو مہاجرین کی نگرانی کے لیے کیسے استعمال کر رہا ہے؟
حقوق گروپ ہانا کے مطابق، ایران اپنے سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو مہاجرین، صحافیوں اور کارکنوں کی نگرانی اور تعاقب کے لیے استعمال کر رہا ہے، جن میں ان کے پتے، اثاثے اور خاندانی تعلقات کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
کیا ایران کی انٹیلیجنس سروسز سفارتی تحفظ کا غلط استعمال کر رہی ہیں؟
جی ہاں، فرانس۲۰۵۰ کی رپورٹ کے مطابق، پیرس میں ایران کے سفارت خانے کے متعدد اہلکار جنہیں سفارت کار کے طور پر رجسٹرڈ کیا گیا ہے، یورپی انٹیلیجنس سروسز نے ایران کی وزارت انٹیلیجنس یا قدس فورس کے افسران کے طور پر شناخت کیے ہیں۔
برطانیہ نے ایرانی کارندے کو کیوں طلب کیا؟
برطانیہ نے جولائی ۲۰۲۶ میں ایران کے چارج ڈی افیئر علی ناصم فر کو طلب کیا جب انکشاف ہوا کہ ایران نے پراکسی گروپوں کو یورپ میں حملے کرنے کی ہدایت دی تھی۔ برطانیہ نے انقلابی گارڈز کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
یورپ میں ایرانی سفارت خانوں کی نگرانی کے لیے کون سے قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟
یورپ سفارتی اہلکاروں کی تعداد میں کمی، مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی، انقلابی گارڈز کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے، اور سفارتی استثنیٰ کے غلط استعمال پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ یورپی پارلیمان نے پہلے ہی انقلابی گارڈز پر پابندیوں میں توسیع کا مطالبہ کر دیا ہے۔
Comments
Post a Comment