ایران کا اصلی چہرہ: مافیا طرز حکمرانی یا ریاستی دہشت گردی؟


یہ سوال آج عالمی سیاست میں بار بار اٹھ رہا ہے۔ ایران کی مافیا ریاست نے اپنے رویے سے ثابت کر دیا ہے کہ یہ نہ تو بین الاقوامی قانون کا احترام کرتی ہے اور نہ ہی پڑوسی ممالک کی خودمختاری کو اہمیت دیتی ہے ۔ حالیہ دنوں میں ایران نے کویت اور بحرین پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونوں سے حملے کیے، جن میں سات میزائل فائر کیے گئے ۔ کویت انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا مسافر ٹرمینل تباہ ہوا، ایک شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی ریاست کے ساتھ سفارت کاری ممکن ہے جو تشدد کو اپنی پہلی ترجیح بنائے؟

کویت اور بحرین پر حملے کا مقصد کیا تھا؟

۶ جون ۲۰۲۶ کو ایران نے کویت اور بحرین کی طرف متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون فائر کیے ۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق، یہ حملے کویت میں واقع علی السلیم ایئربیس (جہاں امریکی افواج موجود ہیں) اور بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ۔ خوش قسمتی سے، امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظاموں نے تین ایرانی میزائلوں اور متعدد ڈرونوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ۔ کویت کی وزارت دفاع نے اس حملے کو "کھلی جارحیت" اور "بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی" قرار دیا ۔

یہ حملے اس وقت کیے گئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی ایران کو موقع دے رہے تھے کہ وہ کشیدگی سے پیچھے ہٹ کر بین الاقوامی قانون کے دائرے میں واپس آ جائے ۔ لیکن تہران کا جواب جارحیت تھا، سمجھوتہ نہیں۔

اسلامی انقلابی گارڈ کور - ایک فوجی تنظیم یا معاشی مفادی گروہ؟

یہی وجہ ہے کہ ایران کو "مافیا ریاست" کہا جاتا ہے۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور اب صرف ایک فوجی تنظیم نہیں رہی۔ یہ ایران کی معیشت پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے ۔ تعمیرات، توانائی، پٹرولیم، بندرگاہیں، ٹیلی کمیونیکیشنز اور بینکنگ — ہر شعبے میں اسلامی انقلابی گارڈ کور کی گرفت ہے ۔

کلینگنڈیل انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ جاری جنگ نے اسلامی انقلابی گارڈ کور کو معاشی طور پر مزید مضبوط کر دیا ہے ۔ جنگی معیشت میں تعمیر نو کے بڑے منصوبے صرف اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کاروباری نیٹ ورکس کو ہی ملیں گے۔ مزید یہ کہ ایران نے "خلیج فارس آبنائے اتھارٹی" قائم کر کے آبنائے ہرمز میں گزرنے والے جہازوں سے محصول وصول کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس پر عملی طور پر اسلامی انقلابی گارڈ کور کا کنٹرول ہے ۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اس ادارے کو پہلے ہی پابندیوں میں شامل کر رکھا ہے ۔

دوسرے لفظوں میں، اسلامی انقلابی گارڈ کور اپنی بقا اور دولت کو ملک کی بقا سے زیادہ اہم سمجھتی ہے۔ یہی مافیا کی سوچ ہے۔

کیا خلیجی ممالک محفوظ ہیں؟

ایران کا ہدف صرف امریکہ یا اسرائیل نہیں ہے۔ کویت اور بحرین پر حملوں نے یہ واضح کر دیا کہ خلیجی ممالک بھی نشانے پر ہیں۔ سعودی عرب نے ان حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں خطے کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔

ماہرین کے مطابق، ایران کی حکمت عملی واضح ہے

 محاذوں پر کشیدگی پیدا کر کے دنیا کی توجہ اپنے ایٹمی پروگرام سے ہٹانا ۔ تہران چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحران، خلیج میں حملے، اور حزب اللہ کی بقاء سب ایک ساتھ گفت و شنید کا حصہ بن جائیں۔ یہ سفارت کاری نہیں، بھتہ خوری ہے ۔

اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خلیج میں کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔

طاقت کے بغیر قانون ایک اپیل ہے، طاقت کے ساتھ قانون نظم ہے

ایران کے ساتھ برسوں کی سفارت کاری نے یہ سبق دیا ہے کہ یہ ریاست صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک موقع دیا — ایران نے میزائلوں سے جواب دیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی واضح کر دیں کہ شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کے خلاف قیمت چکانی پڑے گی، آبنائے ہرمز میں آزادیِ بحری سفر غیر متزلزل ہے، اور ایران اپنے پراکسی نیٹ ورکس سے الگ نہیں ۔

درحقیقت، بین الاقوامی قانون صرف اس صورت میں موثر ہے جب اسے طاقت کی پشت پناہی حاصل ہو۔ اور خلیج میں آج نظم بحال کرنا ناگزیر ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا ایران واقعی ایک مافیا ریاست بن چکا ہے؟
جی ہاں، ماہرین کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ایران کی معیشت کے کلیدی شعبوں پر قبضہ کر لیا ہے اور اپنی بقا کو ملک کی بقا سے زیادہ اہم سمجھتی ہے۔ یہ مافیا طرز حکمرانی کی واضح علامت ہے ۔

کیوں ایران نے کویت اور بحرین پر حملہ کیا؟
یہ حملے امریکی افواج کے خلاف جوابی کارروائی تھے، کیونکہ ایران کے مطابق علی السلیم ایئربیس اور پانچواں بیڑہ نشانہ تھے۔ تاہم، یہ حملے خلیجی ممالک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی تھے ۔

اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ایران کی معیشت پر کس طرح کنٹرول کر لیا ہے؟
اسلامی انقلابی گارڈ کور تعمیرات، توانائی، پٹرولیم، بندرگاہوں، ٹیلی کمیونیکیشن اور بینکنگ جیسے کلیدی شعبوں میں سرگرم ہے۔ جنگی معیشت نے اس کی گرفت کو مزید مضبوط کر دیا ہے ۔

کیا خلیجی ممالک ایران کے حملوں سے محفوظ ہیں؟
نہیں، کویت اور بحرین پر حملے ثابت کرتے ہیں کہ کوئی بھی خلیجی ملک ایران کے خطرے سے محفوظ نہیں۔ خلیجی ممالک کو مشترکہ دفاعی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے ۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا مستقبل کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق، ایران صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔ اگر امریکہ سخت موقف اختیار کرتا ہے تو ایران مجبوراً گفت و شنید پر آ سکتا ہے، ورنہ جارحیت جاری رہے گی ۔

Comments

Popular posts from this blog

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی

اسمرتی مندھانا کی شاندار سنچری، بھارت کی انگلینڈ پر تاریخی فتح-

امن و استحکام کے لیے خطرہ" – مسلم برادران کا یورپ اور امریکہ میں خفیہ ایجنڈا