عمران خان کی صحت، سیاست اور ریاستی ذمہ داری: ایک حساس معاملہ

Uploading: 260801 of 260801 bytes uploaded.

پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی صحت ایک بار پھر سیاسی اور آئینی بحث کا مرکز بن گئی ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن کے بیانیے آمنے سامنے نظر آتے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے ذاتی معالجین تک رسائی کے مطالبے کو بنیادی انسانی حق اور طبی اخلاقیات سے جوڑا جا رہا ہے، جبکہ حکومت اس موقف پر قائم ہے کہ سابق وزیرِاعظم کو جیل میں رہتے ہوئے مناسب اور معیاری طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ ایسے میں اصل مسئلہ صرف علاج کی نوعیت نہیں بلکہ شفافیت، اعتماد اور ادارہ جاتی ساکھ کا بھی ہے، کیونکہ عمران خان ایک سیاسی رہنما ہی نہیں بلکہ ایک نمایاں عوامی شخصیت ہیں، جن کی صحت سے متعلق ہر خبر فطری طور پر قومی توجہ حاصل کرتی ہے۔


حکومت کی جانب سے پمز جیسے بڑے سرکاری اسپتال میں علاج اور طبی ماہرین کی تصدیق اس دعوے کو تقویت دیتی ہے کہ طبی نگہداشت میں غفلت نہیں برتی جا رہی۔ دوسری طرف، اپوزیشن اور پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ذاتی معالجین کو نظر انداز کرنا اور خاندان کو بروقت آگاہ نہ کرنا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ اس تناظر میں سوال یہ نہیں کہ سرکاری اسپتال قابلِ اعتماد ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا ایک قیدی، خواہ وہ کتنا ہی بڑا سیاسی رہنما کیوں نہ ہو، اپنے معالج کے انتخاب کے حق سے مکمل طور پر محروم ہو سکتا ہے یا نہیں۔ ماضی میں مختلف سیاسی شخصیات کے علاج سے متعلق مثالیں اس بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں، کیونکہ انصاف کا تقاضا یکساں سلوک ہے، نہ کہ حالات کے مطابق معیار بدلنا۔


سینیٹ میں ہونے والی بحث اور مشترکہ کمیٹی کی تجویز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاملہ محض طبی نہیں بلکہ سیاسی اعتماد کا بھی ہے۔ ایک غیر جانبدار نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نہ صرف قیدی کی صحت کا تحفظ کرے بلکہ ایسے تمام اقدامات بھی کرے جو غیر ضروری تنازع کو کم کر سکیں۔ ذاتی معالجین تک محدود یا نگرانی کے ساتھ رسائی، اور باقاعدہ طبی رپورٹس کی فراہمی، ایسے عملی اقدامات ہو سکتے ہیں جو شکوک کو کم کریں۔ بالآخر، عمران خان کی صحت کا معاملہ اس بات کا امتحان ہے کہ ریاست آئین، انسانی حقوق اور سیاسی اختلاف کے باوجود کس حد تک توازن قائم رکھ سکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پاہلگام حملے سے جنگ بندی تک – پاک بھارت کشیدگی کی مکمل کہانی

آپریشن سندور – بھارتی فوج کی جوابی کارروائی اور اس کے اثرات

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی