پاکستان کی عیدالاضحیٰ کی معیشت: قربانی کا روایتی عمل کس طرح اربوں روپے کی صنعت میں تبدیل ہو گیا
عیدالاضحیٰ مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے مگر پاکستان میں عیدالاضحیٰ کی معیشت نے ایک ایسی جہت اختیار کر لی ہے جہاں یہ تہوار اب اربوں روپے کی صنعت میں تبدیل ہو چکا ہے۔ پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق ۲۰۲۵ء میں قومی سطح پر ستر لاکھ سے زائد جانور ذبح کیے گئے جن کی مالیت تقریباً چھ سو ارب روپے تھی۔ یہ وہ منظر ہے جہاں مذہبی فریضہ، ثقافتی رسوم اور معاشی مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔
پاکستان میں عیدالاضحیٰ پر کتنے جانور ذبح ہوتے ہیں؟
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ہر سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر لاکھوں جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔ پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق ۲۰۲۵ء میں قومی سطح پر ستر لاکھ سے زائد جانور ذبح ہوئے۔ ان میں چھبیس لاکھ گائیں، تیس لاکھ بکرے، ڈھائی لاکھ بھیڑیں، ڈیڑھ لاکھ بھینسیں اور ستاسی ہزار اونٹ شامل تھے۔ رواں برس ماہرین کے مطابق بکروں اور بھیڑوں کی قربانی میں چار سے پانچ فیصد کمی کا امکان ہے جبکہ بڑے جانوروں کی قربانی میں بارہ فیصد اضافے کی توقع ہے۔ اس تبدیلی کی بنیادی وجہ مہنگائی اور قوت خرید میں کمی ہے۔
قربانی کے جانوروں کے نرخ اتنی تیزی سے کیوں بڑھ رہے ہیں؟
مویشی منڈیوں میں اس بار نرخوں نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ لاہور کی مستقل اور عارضی منڈیوں میں اونٹ کی قیمت چار لاکھ روپے سے شروع ہے جبکہ بیل کم از کم ڈھائی لاکھ روپے میں دستیاب ہے۔ بکرے کی قیمت ایک لاکھ روپے سے شروع ہے اور بھیڑ اسی ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ گذشتہ سال کے مقابلے میں قیمتوں میں سو فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس مہنگائی کی بنیادی وجوہات میں چارے کی قیمتوں میں اضافہ، جانوروں کی نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ، اور سب سے اہم — معاشرے میں "دکھاوے" کا کلچر ہے۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید ہوا دی ہے، جہاں لوگ لاکھوں روپے کے جانور خرید کر اپنی حیثیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
مویشی منڈیوں میں ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام کیسے کام کر رہا ہے؟
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ۲۰۲۴ء سے "گو کیش لیس" مہم شروع کی تھی جو اب اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ رواں برس اس مہم کو مزید وسعت دی گئی ہے اور چھیانوے مویشی منڈیاں اس نظام کا حصہ ہیں جبکہ گذشتہ سال یہ تعداد چون پن تھی۔ بائیس بینکوں نے منڈیوں میں خصوصی کیمپ لگائے ہیں جہاں خریدار اور بیچنے والے کیو آر کوڈ اور موبائل بینکنگ کے ذریعے لین دین کر سکتے ہیں۔ کراچی میں واقع ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی میں پہلی بار کیش ڈپازٹ مشینیں بھی نصب کی گئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد نقدی کی ترسیل کے خطرات کو کم کرنا اور جعلی نوٹوں کے مسئلے سے نمٹنا ہے۔
قربانی کے جانوروں کی قیمتیں متوسط طبقے پر کیا اثر ڈال رہی ہیں؟
مہنگائی کی یہ شدت سب سے زیادہ متوسط اور نچلے طبقے پر پڑ رہی ہے۔ پشاور کی منڈی میں ایک ریٹائرڈ ٹیچر فیاض خان ستر ہزار روپے میں چترالی بھیڑ خریدنے کی کوشش کر رہے تھے مگر ڈیلرز ان کی پیشکش ٹھکرا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اب پڑوسیوں کے ساتھ اجتماعی قربانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ شہر کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ اب صرف ارب پتی اور کروڑ پتی ہی قربانی کی استطاعت رکھتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بکرے یا دنبے کی اوسط قیمت ساٹھ ہزار روپے تک جا پہنچی ہے، جسے خریدنا ایک عام پاکستانی کے بس میں نہیں رہا۔
عیدالاضحیٰ پر قصائیوں کی فیس کتنی ہے؟
قربانی کے بڑھتے اخراجات میں قصائیوں کی فیس نے بھی نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ لاہور میں ہنرمند قصائی بکرے یا دنبے ذبح کرنے کے آٹھ ہزار سے دس ہزار روپے وصول کر رہے ہیں جبکہ بڑے جانوروں کے لیے یہ فیس پچیس ہزار سے تیس ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ غیر تربیت یافتہ قصائی کم شرح پر خدمات فراہم کر رہے ہیں مگر معیار پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ عید کے پہلے دن کی فیس دوسرے دن کے مقابلے میں پانچ ہزار سے دس ہزار روپے زیادہ ہوتی ہے۔ قصائیوں کے مطابق ان کی بکنگ عید سے کافی عرصہ پہلے ہی بھر جاتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ پیشگی منصوبہ بندی کے تحت یہ اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔
اجتماعی قربانی کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟
مہنگائی نے قربانی کے روایتی رجحانات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حامد ارشد ظہور کے مطابق رواں برس بڑے جانوروں کی قربانی میں بارہ فیصد اضافے کی توقع ہے جبکہ چھوٹے جانوروں کی قربانی میں چار سے پانچ فیصد کمی آئے گی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ اب انفرادی طور پر مہنگا بکرا خریدنے کے بجائے گائے یا بیل کی شکل میں اجتماعی قربانی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پچیس سے تیس افراد مل کر ایک گائے خرید رہے ہیں جس سے فی کس قیمت نسبتاً کم ہو جاتی ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ مہنگائی نے لوگوں کو مجبوراً اپنی روایات سے سمجھوتہ کرنے پر آمادہ کر دیا ہے۔
کیش لیس پاکستان مہم قربانی کے لین دین کو کیسے بدل رہی ہے؟
سٹیٹ بینک کی ڈیجیٹل پاکستان مہم نے مویشی منڈیوں میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ گذشتہ برسوں کی طرح اس بار بھی بینکوں نے منڈیوں میں کیمپ لگا رکھے ہیں جہاں خریدار اور بیچنے والے آسانی سے اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں۔ راست ڈیجیٹل ادائیگی نظام کے ذریعے فوری اور محفوظ لین دین ممکن ہو گیا ہے۔ سٹیٹ بینک نے چودہ مئی سے پانچ جون تک لین دین کی حدود میں عارضی نرمی بھی کی ہے تاکہ لوگ بغیر کسی رکاوٹ کے ڈیجیٹل ادائیگیاں کر سکیں۔ یہ اقدام نہ صرف نقدی کی ترسیل کے خطرات کو کم کر رہا ہے بلکہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں بھی مدد دے رہا ہے۔
عیدالاضحیٰ کے سیزن میں کھالوں کی صنعت کو کیا مسائل درپیش ہیں؟
قربانی کے جانوروں کی بڑھتی قیمتوں نے کھالوں کی صنعت کو بھی متاثر کیا ہے۔ پاکستان کی نو سو ملین ڈالر مالیت کی لیدر ایکسپورٹ انڈسٹری خام مال کی شدید قلت سے دوچار ہے۔ چھوٹے جانوروں کی قربانی میں کمی کے باعث بکرے اور بھیڑ کی کھالوں کی مقدار کم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے صنعت کار درآمدات پر انحصار بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان سالانہ ڈیڑھ سو ملین ڈالر مالیت کی کچی کھالیں درآمد کرتا ہے اور یہ مقدار مزید بڑھ سکتی ہے۔ مزید برآں، قربانی کے جانوروں کا اوسط سائز بھی چھوٹا ہو گیا ہے — پہلے تیس سے بتیس فٹ کی کھالیں ملتی تھیں جو اب کم ہو کر چھبیس فٹ رہ گئی ہیں۔
مہنگائی نے قربانی کے روحانی تصور کو کیسے متاثر کیا ہے؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عیدالاضحیٰ کا اصل مقصد — قربانی کا روحانی تصور — ان بڑھتی ہوئی قیمتوں کی بھینٹ چڑھ رہا ہے؟ جب ایک عام آدمی قربانی کی استطاعت نہیں رکھتا تو پھر یہ عید اپنی روح کیسے کھو دیتی ہے؟ معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں فی کس آمدن تیرہ سو ڈالر سالانہ ہے جبکہ ہمسایہ ممالک میں یہ ڈھائی ہزار ڈالر ہے، پھر بھی گوشت کی قیمتیں وہاں کم ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ مویشی منڈیوں میں قیاس آرائیاں اور اشرافیہ کا کنٹرول قیمتوں کو غیر فطری حد تک لے جا رہا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: پاکستان میں عیدالاضحیٰ پر قربانی کے لیے سب سے مہنگا جانور کون سا ہے؟
پاکستان میں عموماً اونٹ اور خاص نسلوں کے بیل (جیسے ساہیوال، چولستانی) سب سے مہنگے ہوتے ہیں۔ اس سال منڈیوں میں اونٹ کی قیمت چار لاکھ روپے سے شروع ہے جبکہ خاص بیل پانچ سے سات لاکھ روپے میں بکتے ہیں۔ بعض ڈیلرز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بیس سے تیس لاکھ روپے کے جانور بھی بیچے ہیں۔
سوال: قربانی کے جانور آن لائن کیسے خریدے جا سکتے ہیں؟
پاکستان میں متعدد ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز موجود ہیں جو آن لائن جانوروں کی فروخت کرتے ہیں۔ خریدار ویڈیو کال کے ذریعے جانور دیکھ سکتے ہیں اور ڈیجیٹل ادائیگی کر سکتے ہیں۔ سٹیٹ بینک کی "گو کیش لیس" مہم کے تحت یہ طریقہ کار مزید آسان ہو گیا ہے۔
سوال: اجتماعی قربانی کے کیا فوائد ہیں؟
اجتماعی قربانی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں فی کس خرچ کم ہوتا ہے۔ پچیس سے تیس افراد مل کر ایک گائے خرید سکتے ہیں جس سے قربانی کا خرچ پندرہ سے بیس ہزار روپے فی شخص بنتا ہے، جبکہ اکیلا بکرا ساٹھ سے ایک لاکھ روپے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متوسط طبقہ اب اجتماعی قربانی کو ترجیح دے رہا ہے۔
سوال: قربانی کی کھالوں کا کیا کیا جاتا ہے؟
قربانی کی کھالیں جمع کر کے ٹینریوں کو بھیجی جاتی ہیں جہاں ان سے چمڑا تیار کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی ویلیو ایڈڈ لیدر انڈسٹری سالانہ نو سو ملین ڈالر کی برآمدات کرتی ہے۔ کھالوں سے جوتے، بیگ، جیکٹس اور دستانے بنائے جاتے ہیں جو یورپ، امریکہ اور خلیجی ممالک کو برآمد ہوتے ہیں۔
سوال: کیا عیدالاضحیٰ پر قصائی کی خدمات آن لائن بک کی جا سکتی ہیں؟
جی ہاں، اب لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں قصائیوں کو آن لائن بک کیا جا سکتا ہے۔ مختلف موبائل ایپلی کیشنز اور فیس بک پیجز کے ذریعے لوگ قصائیوں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ ہنرمند قصائی کی فیس آٹھ ہزار سے دس ہزار روپے تک ہے۔
Comments
Post a Comment