عید الاضحیٰ: مریم نواز کا پنجاب میں سیکورٹی اور صفائی کا ایکٹ پلان، فضلہ پھینکنے پر ۵۰ ہزار جرمانہ
عید الاضحیٰ کے موقع پر پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبے بھر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس دوران انہوں نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی انتڑیاں اور دیگر فضلہ گلیوں، نالیوں یا نہروں میں پھینکنے پر ۵۰,۰۰۰ (پچاس ہزار) روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ یہ اقدام عوام میں صحت کے خطرات کو کم کرنے اور عید کے تہوار کو خوشگوار بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
عید الاضحیٰ پر پنجاب میں سیکورٹی کے کیا انتظامات ہیں؟
وزیراعلیٰ مریم نواز نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ عید کے پہلے، دوسرے اور تیسرے دن خود فیلڈ میں موجود رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عید گاہوں، مارکیٹوں اور قبرستانوں کے اطراف پولیس نفری تعینات کی جائے گی تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ درحقیقت، یہی وجہ ہے کہ مریم نواز نے ذاتی طور پر ویڈیو لنک میٹنگ کی صدارت کی۔
مریم نواز نے قربانی کا فضلہ گلیوں میں پھینکنے پر کتنا جرمانہ عائد کیا ہے؟
قربانی کے جانوروں کی کھالوں اور اوجھڑیوں کے بے جا پھینکے جانے پر پچاس ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جرمانہ کیوں؟ اس کی سب سے بڑی وجہ ماحولیاتی آلودگی اور صحت عامہ کے مسائل ہیں۔ جب قربانی کا فضلہ نالیوں اور گلیوں میں سڑتا ہے تو اس سے خطرناک بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ پنجاب حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے علاقے کی مقامی انتظامیہ کے بتائے ہوئے مقامات پر فضلہ جمع کروائیں۔
پنجاب حکومت کی ’سُتھرا پنجاب‘ مہم کیا ہے؟
یہ ایک وسیع پیمانے پر صفائی کی کارروائی ہے جس میں ۱۷۶,۰۰۰ (ایک لاکھ چھہتر ہزار) سے زائد سنیٹیشن ورکرز حصہ لیں گے۔ مریم نواز کی قیادت میں یہ مہم خاص طور پر عید الاضحیٰ کے دنوں میں گلیوں سے خون اور فضلہ فوری طور پر ہٹانے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کے تحت جدید مشینری اور مانیٹرنگ سسٹم تعینات کیا گیا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پنجاب دوسرے صوبوں کے لیے مثال قائم کر سکتا ہے۔
عید الاضحی ۔۔حکومت پنجاب کا عید پلان جاری
— Government of Punjab (@GovtofPunjabPK) May 23, 2026
مویشی منڈیوں کے انتظامات مکمل ،وزیر اعلیٰ مریم نواز کی سخت ہدایات
پیرا فورس ، سکیورٹی اور سہولیات کی فراہمی یقینی
مساجد اور بازاروں کو عرق گلاب سے دھونے کا اعلان
مخصوص مقامات کے علاوہ کہیں اور جانوروں کی فروخت کی اجازت نہیں
وزیر… pic.twitter.com/l4pWhPT10B
قربانی کے جانوروں کی کھالیں اور انتڑیاں ٹھکانے لگانے کے کیا طریقے ہیں؟
حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ قربانی کے فوراً بعد فضلہ کو ڈھکنے والے ڈبوں میں بند کریں اور مخصوص گاڑیوں کے ذریعے جمع کروائیں۔ بہت سے شہروں میں رضاکار تنظیمیں بھی فضلہ اکٹھا کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ جو شخص بھی گلی میں جانور کا سر یا پائے پھینکتا پایا جائے گا، اس کے خلاف بغیر کسی رعایت کے کارروائی کی جائے گی۔
عید الاضحیٰ کے فضلے سے صحت عامہ کو کیا خطرات لاحق ہوتے ہیں؟
ماہرین صحت کے مطابق قربانی کا بغیر پروسیس شدہ فضلہ جلد کی بیماریوں، سانس کے انفیکشن اور ڈینگی جیسے وائرس کو فروغ دیتا ہے۔ خاص طور پر گرمیوں میں یہ فضلہ تیزی سے گلنے لگتا ہے، جس سے مکھیاں اور کتے پھیلتے ہیں۔ اسی تناظر میں پنجاب حکومت کا یہ قدم خوش آئند ہے۔
مریم نواز کا عید الاضحیٰ پر پولیس اور انتظامیہ کو کیا حکم ہے؟
مریم نواز نے واضح کیا کہ کوئی بھی افسر چھٹی پر نہیں جا سکتا۔ تمام ڈی پی اوز کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے گشت بڑھا دیں۔ انہوں نے فریقین کو متنبہ کیا کہ عید کے دنوں میں کوئی بھی قانون توڑنے کی جرات نہ کرے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: کیا ۵۰,۰۰۰ روپے کا جرمانہ ہر بار کاٹا جائے گا؟
جواب: جی ہاں، ہر بار جب کوئی شخص عوامی مقام پر غیر قانونی طور پر فضلہ پھینکتے ہوئے پکڑا جائے گا، تو یہ جرمانہ عائد کیا جائے گا اور مقدمہ بھی درج کیا جا سکتا ہے۔
سوال: کیا صرف لاہور میں یہ جرمانہ ہے یا پورے پنجاب میں؟
جواب: یہ قانون پورے صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع بشمول راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں یکساں طور پر نافذ العمل ہے۔
سوال: ہمیں فضلہ پھینکنے کے لیے مخصوص جگہ کہاں ملے گی؟
جواب: آپ اپنے علاقے کی یونین کونسل یا ٹاؤن انتظامیہ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ہر علاقے میں بڑے کنٹینرز اور ڈمپنگ سائٹس بنائی ہیں۔
سوال: کیا جانوروں کی کھالیں بھی اس فضلے میں شامل ہیں؟
جواب: نہیں، کھالیں فضلے میں شامل نہیں ہیں۔ انہیں الگ سے جمع کرایا جائے۔ یہ جرمانہ صرف جانوروں کے اندرونی حصوں (اوجھڑی، خون، گوبر) پر لاگو ہوتا ہے۔
سوال: اگر کوئی افسر مجھے غلط طریقے سے جرمانہ کرے تو کیا کروں؟
جواب: آپ اس خلاف وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں شکایت درج کر سکتے ہیں۔ حکومت نے شفاف نظام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

Comments
Post a Comment