پاکستان اور ایران نے انسداد دہشت گردی اور سرحدی سلامتی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کر لیا

 

پاکستان اور ایران نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور سرحدی انتظام میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ معاہدہ ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے دورہ پاکستان کے دوران طے پایا، جس میں انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب محسن نقوی کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی۔ دونوں وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ افغان سرحد سے دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔


پاک ایران سرحد پر سکیورٹی کی صورتحال کیسی ہے؟

پاکستان اور ایران کی سرحد تقریباً ۹۰۰کلومیٹر طویل ہے اور دونوں ممالک کو مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سرحد پار سے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی شامل ہیں۔ اس سرحد کو ایران نے "دوستی، بھائی چارے اور سلامتی" کی سرحد قرار دیا ہے۔ دونوں ممالک کے عسکری حکام نے پہلے بھی سرحدی سلامتی کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے، اور اس مشترکہ سرحد کو اقتصادی ترقی اور دوستی کی علامت بنانے پر اتفاق کیا ہے۔


پاکستان اور ایران نے انسداد دہشت گردی میں کیسے تعاون بڑھایا ہے؟

دونوں ممالک کے وزیر داخلہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ موقف اپنایا جائے گا۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ مومنی کی امن کے لیے "غیر معمولی کوششوں" کو سراہا۔ اس کے علاوہ، دونوں اطراف نے متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی بہتر بنانے اور غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے تعاون کو فروغ دینے کا بھی فیصلہ کیا۔

ایران کے وزیر داخلہ کا پاکستان کا دورہ کیوں اہم ہے؟

ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا دورہ اس لیے اہم تھا کہ اس دوران نہ صرف سکیورٹی تعاون پر بات ہوئی بلکہ دونوں ممالک نے دو طرفہ تجارت کو موجودہ ۳ ارب ڈالر سے بڑھا کر ۱۰ ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ اس دورے کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ مومنی نے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات کی، جس میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ مفادات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


پاکستان اور ایران کے تعلقات کی موجودہ حالت کیا ہے؟

پاکستان اور ایران کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط پر مبنی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور "اسلام آباد مفاہمت نامے" کے ذریعے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھے گا۔ ایرانی وزیر داخلہ نے پاکستان کے ثالثی کے کردار کو سراہا اور اس بات کا اشارہ دیا کہ مستقبل میں مزید مشاورت جاری رہے گی۔


پاکستان اور ایران کا مشترکہ دہشت گردی کے خلاف موقف کیا ہے؟

دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرنے اور اس کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بھی ایرانی وفد کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک نے سرحدی علاقوں میں غیر ریاستی عناصر کے خلاف مربوط کارروائی کرنے اور سرحدی تجارت کو فروغ دینے کے لیے نئی سرحدی منڈیاں قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: پاکستان اور ایران نے کس شعبے میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے؟

جواب: دونوں ممالک نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور سرحدی انتظام میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوال: ایرانی وزیر داخلہ نے پاکستان کا دورہ کب کیا؟

جواب: ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے جولائی ۲۰۲۶ کے تیسرے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کیا اور وزیراعظم، آرمی چیف اور وزیر داخلہ سے ملاقات کی۔

سوال: کیا پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات بہتر ہو رہے ہیں؟

جواب: جی ہاں، دونوں ممالک کا مقصد دو طرفہ تجارت کو ۳ ارب ڈالر سے بڑھا کر ۱۰ ارب ڈالر تک پہنچانا ہے اور اس سلسلے میں سرحدی منڈیوں کو فعال بنانے پر کام ہو رہا ہے۔

سوال: کیا پاکستان ایران کے ساتھ سرحدی تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے؟

جواب: جی ہاں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے اور سرحدی انتظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی

اسمرتی مندھانا کی شاندار سنچری، بھارت کی انگلینڈ پر تاریخی فتح-

امن و استحکام کے لیے خطرہ" – مسلم برادران کا یورپ اور امریکہ میں خفیہ ایجنڈا