پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارت کو 'دہشت گردی کا سرپرست' قرار دے دیا

 

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قدرتی وسائل کے انتظام پر ہونے والی بحث کے دوران پاکستان نے بھارت پر سخت الزامات عائد کیے ۔ پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری انصار شاہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر کراس بارڈر دہشت گردی کے الزامات "بے بنیاد" ہیں اور یہ نیودہلی کی اپنی دہشت گردی کی سرپرستی کو چھپانے کی کوشش ہے ۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ "بھارت دہشت گردی کا شکار نہیں، بلکہ اس کا سرپرست ہے" ۔


بھارت کو دہشت گردی کا سرپرست کیوں کہا گیا؟

پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروپوں کو مالی اور عسکری امداد فراہم کر رہا ہے ۔ انصار شاہ نے کہا کہ بھارت کے دہشت گرد پراکسی گروپس — تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ — نے پاکستان میں ہزاروں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو قتل کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی شمالی امریکہ سمیت بیرونی سرزمین پر ماورائے عدالت ہلاکتوں میں ملوثیت بھی معروف ہے ۔


کیا بھارت واقعی دہشت گردی کو سپانسر کرتا ہے؟

پاکستان کا یہ الزام نیا نہیں بلکہ اس نے ماضی میں بھی بھارت پر ایسے ہی الزامات عائد کیے ہیں ۔ ۳۰ جون ۲۰۲۶ کو دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھارت کے اس بیان کو مسترد کیا تھا جس میں پاکستان کی افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ ترجمان نے کہا تھا کہ بھارت نے تاریخی طور پر اپنے پڑوسی ممالک کی خودمختاری میں مداخلت کی ہے اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کی ہے ۔

پاکستان نے کراس بارڈر انفلوژن کے الزامات کو کیوں مسترد کیا؟

اقوام متحدہ کی بحث کے دوران بھارت کے مستقل مندوب ہریش پرواتھیننی نے پاکستان پر "ریاستی سرپرستی میں کراس بارڈر دہشت گردی" کا الزام عائد کیا تھا ۔ تاہم پاکستان نے اس الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت کی ایک "گمراہ کن بیان بازی" ہے جس کا مقصد حقیقت کو مسخ کرنا ہے ۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت خود مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہے اور وہاں کی آبادی کو خود ارادیت کے حق سے محروم رکھا گیا ہے ۔


بھارت پر دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات کی بنیاد کیا ہے؟

پاکستان نے اپنے الزامات کی تائید میں تاریخی اور موجودہ حقائق پیش کیے ۔ انصار شاہ نے کہا کہ بھارت نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی ہے اور سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کو نظر انداز کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر "کبھی بھارت کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہی ہے" اور وہاں کی حیثیت متنازع ہے ۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت کی یہ پالیسیاں خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں ۔


انڈس واٹر ٹریٹی کا اس تنازع سے کیا تعلق ہے؟

یہ الزامات انڈس واٹر ٹریٹی پر بحث کے دوران سامنے آئے ۔ پاکستان نے کہا کہ بھارت نے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر "معطل" کر کے پانی کو ہتھیار بنانے کی کوشش کی ہے ۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں کہیں بھی یکطرفہ معطلی کا کوئی باب موجود نہیں اور ثالثی عدالت نے اگست ۲۰۲۵ میں اس معاہدے کو مکمل طور پر فعال قرار دیا تھا ۔ پاکستان نے خبردار کیا کہ پانی کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارت پر کیا الزام لگایا؟

جواب: پاکستان نے بھارت کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دیا اور کہا کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروپوں کو مالی اور عسکری امداد فراہم کر رہا ہے ۔

سوال: کیا بھارت نے ان الزامات کا جواب دیا؟

جواب: جی ہاں، بھارت کے مستقل مندوب نے پاکستان پر کراس بارڈر دہشت گردی کا الزام لگاتے ہوئے جواب دیا، تاہم پاکستان نے اسے بے بنیاد قرار دیا ۔

سوال: انڈس واٹر ٹریٹی کا اس تنازع سے کیا تعلق ہے؟

جواب: یہ الزامات انڈس واٹر ٹریٹی پر بحث کے دوران سامنے آئے جب پاکستان نے بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنے کی مذمت کی ۔

سوال: کیا پاکستان کے الزامات کی کوئی بنیاد ہے؟

جواب: پاکستان نے اپنے موقف کی تائید میں تاریخی شواہد اور حالیہ واقعات کا حوالہ دیا ہے، جس میں بھارت کی افغان سرزمین سے دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی شامل ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 5 جون کو ہوگی

اسمرتی مندھانا کی شاندار سنچری، بھارت کی انگلینڈ پر تاریخی فتح-

امن و استحکام کے لیے خطرہ" – مسلم برادران کا یورپ اور امریکہ میں خفیہ ایجنڈا